۵۱ – بَابُ مَنْ صَلَّى وَقُدَّامَهُ تَنُّورٌ أَوْ نَارٌ، أَوْ شَيْءٌ مِّمَّا يُعْبَدُ فارادبِهِ وَجْهَ اللہ تعالی
جس نے تنور یا آگ یا کسی ایسی چیز کے سامنے نماز پڑھی جس کی عبادت کی جاتی تھی اور اس کا ارادہ اخلاص سے اللہ کی عبادت کرنا تھا
امام بخاری نے اس عنوان کو مبہم رکھا ہے اور یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اس کی نماز جائز ہے یا نہیں؟ لیکن اس باب کے تحت انہوں نے جو احادیث وارد کی ہیں ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس شخص کی نماز مکروہ نہیں ہے پھر امام بخاری نے یہ تعلیق ذکر کی ہے:
وَقَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي أَنَسٌ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَتْ عَلَى النَّارُ وانا أصلي۔
اور الزہری نے کہا: مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر آگ پیش کی گئی اور میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا۔
امام بخاری نے اس تعلیق کو صحیح البخاری: ۵۴۰ میں موصولا روایت کیا ہے اور اس باب کا عنوان ہے: زوال کے نزدیک ظہر کا وقت۔
٤٣١ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِك،ٍ عَنْ زَيْدٍ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِالله بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنْخَسَفَتِ الشَّمْس،ُ فَصَلَّى رَسُولُ اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ أُرِيتُ النَّار،َ فَلَم ار مَنْظَرًا كَالْيَوْمِ قَط أَفْظَعَ.
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن مسلمہ نے حدیث بیان کی از مالک از زید بن اسلم از عطاء بن سیار، از حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہ سورج کو گہن لگ گیا تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر آپ نے فرمایا: مجھے آگ دکھائی گئی اور میں نے آج کی طرح قبیح منظر ہرگز نہیں دیکھا۔
( جامع المسانيد لابن الجوزی : ۳۲۵۱ مکتبة الرشد، ریاض ۱۴۲۶ھ)
کسوف، خسوف‘ اور افظع “ کا معنی
اس حدیث میں انخسفت “ کا لفظ ہے اس کا مادہ خسوف ہے اس کا معنی ہے : چاند کو گہن لگنا اور کسوف کا معنی ہے : سورج کو گہن لگنا اور مجازا ایک کا دوسرے پر اطلاق ہوجاتا ہے۔ سورج اور چاند گہن کی نمازوں کی تفصیل ان شاء اللہ اپنے باب میں آئے گی۔
اس حدیث میں افظع “ کا لفظ ہے۔ فضیع “ کا معنی ہے، شنیع اور قبیج۔
سورج گہن لگنے پر نماز پڑھنے کا استحباب، جنت اور دوزخ کا مخلوق ہونا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمین سے دوزخ کو دیکھنا اور دیگر مسائل
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سورج گہن لگنے پر نماز پڑھنا مستحب ہے۔
اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنت اور دوزخ کو پیدا کیا جاچکا ہے، معتزلہ اس کا انکار کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ابھی جنت اور دوزخ کی کوئی ضرورت نہیں ہے جب جزاء اور سزا کا مرحلہ آئے گا تو اللہ تعالیٰ ان کو فورا پیدا کر دے گا۔ ہم کہتے ہیں کہ چونکہ قرآن اور حدیث سے ان کا وجود ثابت ہے، اس لیے ان کے مخلوق ہونے پر ہمارا ایمان ہے اور ان کی تخلیق کی بہت حکمتیں ہیں ان میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ شب معراج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دونوں دکھائی گئیں۔
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزہ کا ذکر ہے کہ آپ نے دوزخ کا مشاہدہ کیا، بایں طور کہ اللہ تعالی نے آپ کے اور دوزخ کے درمیان حجابات کو اٹھادیا اور آپ نے اپنی آنکھوں سے دوزخ کو دیکھ لیا ، جس طرح آپ کے اور مسجد اقصیٰ کے درمیان حجابات کو اٹھا دیا گیا تھا اور آپ نے مکہ میں رہتے ہوئے مسجد اقصیٰ کو دیکھ لیا تھا۔
اور اس حدیث میں امام بخاری کے قائم کردہ عنوان پر دلیل ہے کہ جب نمازی کے سامنے آگ ہو اور وہ اخلاص سے اللہ کے لیے نماز پڑھ رہا ہو تو اس کی نماز میں کوئی حرج نہیں ہے۔
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۰۱۹ ۔ ج ا ص ۱۳۱۵ پر مذکور ہے وہاں اس حدیث کی شرح نہیں کی گئی ۔
