٥٣ – بَابُ الصَّلوةِ فِي مَوَاضِعِ الْخَسْفِ وَالْعَذَاب
جس جگہ دھنسایا گیا ہو اور عذاب کی جگہ نماز پڑھنا
اس باب میں یہ بیان کیا جائے گا کہ جس جگہ دھنسایا گیا ہو یا عذاب دیا گیا ہو وہاں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے امام بخاری نے اس کا حکم نہیں بیان کیا کہ آیا اس جگہ نماز پڑھنا مکروہ ہے یا ناجائز ہے لیکن جو احادیث ذکر کی ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ اس جگہ نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اس عنوان میں اور اس باب کی حدیث میں خسف “ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: زمین میں دھنسنا۔
وَيُذْكَرُ انَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَرِهَ الصَّلوة بِخَسْفِ بَابِلَ۔
اور ذکر کیا جاتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بابل کی دھنسی ہوئی جگہ میں نماز کو مکروہ قرار دیا۔
اس تعلیق کی اصل درج ذیل احادیث ہیں ۔
حجر بن عنبس الحضرمی بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ انہروان کی طرف نکلے حتی کہ جب ہم بابل پر پہنچے تو عصر کی نماز کا وقت آگیا ہم نے کہا : ” الصلوۃ (نماز پڑھیے ) آپ خاموش رہے ہم نے پھر کہا: ” الصلوة ” آپ خاموش رہے جب آپ اس جگہ سے نکل گئے تو آپ نے نماز پڑھی، پھر آپ نے فرمایا: میں اس جگہ نماز نہیں پڑھ سکتا تھا جس کو تین بار زمین میں دھنسایا گیا۔ (مصنف ابن ابی شیبه : ۷۵۵۵- ج ۲ ص ۱۵۴ دار الکتب العلمیة بیروت 1416ھ )
عبد اللہ بن ابی المحل بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس جگہ نماز پڑھنے کومکروہ کہتے تھے جسے دھنسایا گیا ہو۔(مصنف ابن ابی شیبہ : ۷۵۵۶)
ابن ابی المحل بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بابل کی جانب سے گزرے تو آپ نے وہاں نماز نہیں پڑھی۔مصنف ابن ابی شیبہ: ۷۵۵۷)
بابل کا معنی اور سترہ جگہوں پر نماز پڑھنے کی ممانعت
ابو عبید البکری نے کہا ہے کہ بابیل عراق کا شہر ہے جہاں جادو مشہور تھا۔
الجوہری نے کہا ہے کہ بابل عراق کی ایک جگہ کا نام ہے جہاں جادو اور خمر ( شراب ) کو منسوب کیا جاتا ہے۔
بعض مقامات پر احادیث میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سات جگہوں پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے: (۱) بیت الخلاء (2) مذبج (۳) مقبره (۴) شارع عام (۵) حمام (۶) اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ (۷) بیت اللہ کی چھت پر۔ (سنن ترمذی: ۳۱۷)
قاضی ابوبکر ابن العربی نے کہا ہے کہ جن جگہوں پر نماز پڑھنا منع ہے وہ تیرہ جگہیں ہیں سات یہ ہیں اور چھ اور ہیں:
(۱) تمہارے سامنے بیت الخلاء کی دیوار ہو ،جس پر نجاست ہو (۲) گرجا (۳) یہودیوں کی عبادت گاہ (۴) تمہارے سامنے قبلہ کی جانب مجسمے یا تصویریں ہوں (۵) دار العذاب (۶) غصب شده زمین، بعض دیگر فقہاء نے ان جگہوں کا بھی اضافہ کیا ہے:
(1) سوئے ہوئے شخص کی طرف منہ کرکے (۲) باتیں کرنے والے کی طرف منہ کرکے (۳) مسجد ضرار میں نماز پڑھنا (۴) جن پر کفر کا فتوی ہے ان کی مسجد میں نماز پڑھنا، پس سب ملا کر سترہ جگہوں پر نماز پڑھنا منع ہے۔عمدة القاری ج 4 ص ۲۸۰ – ۲۷۹ ملخصا دار الكتب العلمیة بیروت 1421ھ )
٤٣٣ – حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ عمر رضی اللہ عنہما ان رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْمُعَذِّبِينَ إِلَّا أَنْ تَكونوُ بَاكِينَ فَإِنْ لَّمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهم لا يُصِيبُكُمْ مَا أَصَابَهُم۔
اطراف الحدیث : ۳۳۸۰-۴۴۱۹-۳۳۸۱_۴۴۲۰_ 4702
( صحیح مسلم : ۲۹۸۰ الرقم المسلسل : ۷۳۵۸ السنن لکبری للنسائی: 11274، مسند الحمیدی : 653، سنن بیہقی ج ۲ ص 451، صحیح ابن حبان :۱ ۶۲۰ – 6200 شرح السنة : ۴۱۶۶) المعجم الکبیر : ۱۳۶۵۴) مسند احمد ج ۲ ص ۹ طبع قدیم، مسند احمد :۴۵۶۱ – ج ۸ ص ۱۶۸ – ۱۶۷ مؤسسة الرسالة بیروت )
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں اسماعیل بن عبداللہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے امام مالک نے حدیث بیان کی از عبدالله بن دینار از حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما که رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان عذاب شدہ لوگوں کے پاس سے صرف روتے ہوئے گزرنا پس اگر تم روتے ہوئے نہ گزرسکو تو ان کے پاس داخل نہ ہونا کہیں تم پر بھی وہ عذاب نہ آجائے جو ان پر آیا تھا۔
اس حدیث کے چار رجال ہیں اور ان کا تعارف پہلے ہو چکا ہے۔
عنوان کے ساتھ حدیث کی مطابقت
یہ حدیث حضرت علی کے اثر کے مطابق ہے، کیونکہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کی طرف جاتے ہوئے مقام حجر سے گزرے، جہاں قوم ثمود کے مکانات تھے تو آپ اس جگہ نہیں ٹھہرے اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ جب بابل کی جنسی ہوئی جگہ پر پہنچے تو وہاں نہیں ٹھہرے، اس اعتبار سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اثر بھی باب کے عنوان کے مطابق ہے۔
وادی ثمود میں رو کر گزرنے کی توجیہ اور غیر مقلدین کے نظریہ کا باطل ہونا
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :
المہلب نے کہا ہے کہ اس جگہ سے روئے بغیر گزرنے کی ممانعت بدشگونی کی وجہ سے ہے کیونکہ اس جگہ کے رہنے والوں پر اللہ تعالی عالی کا غضب نازل ہوا تھا۔ قرآن مجید میں ہے:
وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ (ابراهیم:45)
اور تم ان لوگوں کے گھروں میں رہتے تھے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اور تم پر خوب واضح ہوچکا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسا معاملہ کیا تھا اور ہم نے تمہیں سمجھانے کے لیے کئی مثالیں بیان کردی تھیں
پس اللہ تعالی نے ان لوگوں پر غضب نازل فرمایا اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ سے بھی بدشگونی لی جس جگہ آپ اور آپ کے صحابہ سوتے رہ گئے تھے اور سورج طلوع ہوگیا تھا’ آپ نے اس جگہ قضاء نماز نہیں پڑھائی اور اس سے آگے جاکر قضاء نماز پڑھائی اور فرمایا: اس جگہ شیطان کا اثر ہے، سو جس جگہ کسی قوم پر عذاب نازل کرکے اس کو زمین میں دھنسا دیا گیا ہو وہاں نماز نہ پڑھنا زیادہ لائق ہے مگر اس جگہ سے روتے ہوئے گزرنے کو آپ نے مباح کردیا ہے اور قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ اس جگہ نماز پڑھنے سے نماز فاسد نہیں ہوگی کیونکہ نماز میں رونا ، گڑ گڑانا اور اللہ سے ڈرنا مطلوب ہوتا ہے اور اگر یہاں بغیر روتے ہوئے نماز پڑھی تو اس کی نماز باطل نہیں ہوگی۔
بعض اہل ظاہر (غیر مقلدین) نے یہ کہا ہے کہ جس نے ثمود کے شہر مقام حجر میں سہوا بغیر روئے نماز پڑھی اس پر سجدہ سہو لازم ہے اور جس نے عمداً ایسا کیا تو اس کی نماز باطل ہے اسی طرح اس شخص کا حکم ہے، جس نے مسجد ضرار میں نماز پڑھی، ان لوگوں کا یہ قول ساقط الاعتبار ہے اگر ان کے نزدیک عمدا رونے کو ترک کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے تو پھر سہوا رونے کو ترک کرنے سے سجدہ ہو سے نماز کیسے مکمل ہوجاتی ہے کیونکہ فقہاء کے نزدیک فرائض کے ترک کی سجدہ سہو سے تلافی نہیں ہوتی۔
عذاب کی جگہوں سے بغیر روئے گزرنے سے عذاب کی وجہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمادی ہے آپ نے فرمایا: کہیں تم پر بھی وہ عذاب نہ آجائے جو ان پر آیا تھا اور اس حدیث میں کوئی ایسی بات مذکور نہیں ہے کہ جو وہاں بغیر روئے نماز پڑھے گا اس کی نماز باطل ہوجائے گی ۔ اس حدیث میں صرف نزول عذاب کے خوف کا ذکر ہے اور ان لوگوں نے مسجد ضرار میں نماز پڑھنے کو بھی مواضع عذاب کے ساتھ لاحق کردیا ہے اور اس کا اس حدیث میں ذکر نہیں ہے یہ صرف ان لوگوں کا قیاس فاسد ہے حالانکہ یہ لوگ قیاس کے قائل نہیں ہیں اور یہ بھی تناقض ہے۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۱۰۷ دارالکتب العلمیة بیروت (1424ھ).
الحجر “ کا مصداق
اس حدیث میں مذکور ہے کہ ان عذاب شدہ لوگوں کے پاس سے صرف روتے ہوئے گزرنا۔
یعنی اصحاب الحجر کے گھروں کے پاس سے یہ قوم ثمود کے گھر تھے اور یہ لوگ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم تھے الحجر شام اور حجاز کے درمیان ایک شہر ہے قتادہ نے کہا: الحجر اس وادی کا نام ہے جہاں یہ رہتے تھے الزہری نے کہا: یہ ان کے شہر کا نام ہے۔
وادی ثمود اور وادی محسر سے جلدی جلدی گزرنے کی توجیہ
اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ ان لوگوں کے گھروں میں ان کے بعد کوئی نہیں رہتا تھا، کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص وہاں ساری عمر روتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر روئے ان کے گھروں میں داخل ہونے سے منع فرما دیا ہے اور اس حدیث میں وہاں ٹھہرنے اور اس جگہ کو وطن بنانے سے آپ نے منع فرما دیا ہے اور اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ ان عذاب یافتہ لوگوں کے شہر سے جلد از جلد گزرنا چاہیے، جس طرح رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وادی محسر سے جلدی جلدی گزرے تھے کیونکہ اس جگہ اصحاب الفیل کو ہلاک کیا گیا تھا، آپ نے اس جگہ سے روتے ہوئے گزرنے کا حکم اس لیے دیا تھا تا کہ لوگ ان پر عذاب نازل ہونے کی وجہ پر غور وفکر کریں۔
علامہ ابن جوزی نے کہا ہے: ایسے مقام پر غور و فکر کرنے کی تین قسمیں ہیں:
(1) اس پر غور و فکر کرنا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر عذاب نازل کیا تھا۔
(۲) یہ لوگ اپنے کفر اور فساد پر اللہ تعالیٰ کے سامنے ڈٹ گئے اور اپنے زعم میں انہوں نے دلیری کا مظاہرہ کیا۔
(۳) اس جگہ سے گزرنے والوں کو اس پر غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان اور اعمال صالحہ کی توفیق دی اور ایسی گم راہی میں مبتلا ہونے سے بچالیا۔
اور اس حدیث میں اس پر دلیل ہے کہ جس جگہ زمین میں دھنسایا گیا ہو یا عذاب نازل کیا گیا ہو وہاں نماز پڑھنا مکروہ ہے اور یہی اس باب کا عنوان ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۸۳ – ۲۸۲ دار الكتب العلمیة بیروت 1421ھ)
