٤٣٧ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ مِنْ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ ابی هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُود،َ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجد۔
صحیح مسلم:530، سنن ابوداؤد : 3227، السنن الکبری: 3294، مسند ابو یعلی : 5844، مصنف عبد الرزاق: 9987، سنن بیہقی ج 9 ص ۲۰۸ دلائل النبوۃ: ج 7 ص 204، صحیح ابن حبان: 394، حلیة الاولیاء ج 7 ص 124 شعب الایمان : 11151 المعجم الکبیر: ۳۴۵۶ مسند احمد ج ۲ ص ۲۸۴ طبع قدیم، مسند احمد :7826، ج ۱۳ ص ۲۲۶ مؤسسة الرسالة بیروت، جامع المسانيد لابن الجوزی :۴۷۷۶ مكتبة الرشد ریاض 1426ھ)
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن مسلمہ نے حدیث بیان کی از امام مالک از ابن شہاب از سعید بن المسیب از حضرت ابو ہریره رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود کو ہلاک کرے انہوں نے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو مساجد بنادیا۔
اس اعتراض کا جواب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیوں پر بھی قبر پرستی کی وجہ سے لعنت کی ۔۔حالانکہ اس وقت حضرت عیسیٰ آسمان پر تھے اور ان کی قبر نہیں تھی
اس حدیث میں مذکور ہے کہ اللہ یہود کو قتل کردے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ ان پر لعنت کرے۔ قتال “ کا لفظ یہاں پر رحمت سے دھتکارنے کے معنی میں ہے، اس کا اور لعنت کا مصداق واحد ہے اس حدیث میں یہود کا ذکر فرمایا ہے حالانکہ عیسائی بھی نبیوں کی قبروں پر سجدہ کرتے تھے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی ابتداء یہود نے کی تھی اور انہوں نے اس میں بہت غلو کیا تھا۔
اس سے پہلی حدیث ( صحیح البخاری: ۴۳۶) میں فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ یہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے، جنہوں نے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا’ اس پر یہ اعتراض ہے کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا، اس وقت تک حضرت عیسی علیہ اسلام کی قبر نہیں بنی تھی اور وہ اس وقت آسمان میں تھے، اس کا جواب یہ ہے کہ اس وقت بھی عیسائیوں کے نبی تھے لیکن وہ رسول نہیں تھے جیسا کہ حواریین تھے اور حضرت عیسی کی والدہ حضرت مریم کی بھی قبر تھی، نیز عکرمہ، قتادہ اور الزہری کی روایت میں ہے کہ جو تین افراد انطاکیہ کی طرف بھیجے گئے تھے وہ بھی رسول تھے، جن کا ذکر اس آیت میں ہے:
إِذْ أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمُ اثْنَيْنِ فَكَذَّبُوهُمَا فَعَزَّرْنَا بِقَالِثٍ. (یس : 14)
جب ہم نے ان کے پاس دو ( رسولوں) کو بھیجا تو ان لوگوں کے نے دونوں کی تکذیب کی پھر ہم نے تیسرے (رسول) سے تائید کی ۔
اور ان تین رسولوں کے نام صادق، صدوق اور شلوم تھے، قتادہ سے ایک روایت یہ ہے کہ ان کو حضرت عیسی علیہ السلام نے بھیجا تھا، اس قول کی بناء پر وہ نبی نہیں تھے چہ جائیکہ وہ رسول ہوتے اور حضرت مریم کے متعلق ابن حزم اور علامہ قرطبی کا قول یہ ہے کہ وہ نبیہ تھیں، اسی طرح حضرت سارہ ام اسحاق اور ام موسیٰ علیہما الصلوٰۃ والسلام کے متعلق بھی ایک قول ہے کہ وہ وہ نبیہ تھیں، لیکن جمہور اہل سنت و جماعت کے نزدیک نبوت مردوں کے ساتھ مخصوص ہے اور کوئی عورت نبیہ نہیں ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۲۸۷)
قبروں پر تعمیر کرنے، چونا پھیرنے اور لکھنے کی ممانعت کی توجیہ اور صالحین کی قبروں پر گنبد بنانے کا جواز
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قبر کے اوپر کوئی عمارت بنانا جائز نہیں ہے، کیونکہ آپ نے قبر کے اوپر مسجد بنانے والوں پر لعنت کی ہے اس وجہ سے امام ابوداؤد نے اس حدیث کا عنوان قائم کیا ہے: قبر پر تعمیر کرنا۔
نیز امام احمد نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے قبر پر بیٹھنے سے منع فرمایا اور قبر پر چونا پھیرنے سے اور قبر پر تعمیر کرنے ہے۔(صحیح مسلم : ۹۷۰، سنن ابوداؤر : ۳۲۲۶- ۳۲۲۵، صحیح ابن حبان: ۲۱۶۳’ مصنف عبد الرزاق: 6498 ‘ مصنف ابن ابی شیبه ج ۳ ص ۳۳۵ مسند احمد ج ۳ ص ۲۹۵ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۴۱۴۸ – ج ۲۲ ص ۵۳ مؤسسة الرسالة بیروت )
امام ترمذی کی روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر چونا پھیرنے اور قبروں پر لکھنے اور قبروں پر تعمیر کرنے سے اور قبروں کو پیروں سے روندنے سے منع فرمایا۔ (سنن ترمذی : ۱۰۵۲)
سنن نسائی میں حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر تعمیر کرنے سے یا قبر پر اضافہ سے یا قبر کو زیادہ کرنے سے یا قبر پر چونا پھیرنے سے یا قبر پر لکھنے سے منع فرمایا۔( سنن نسائی: ۲۰۲۳ سنن ابوداؤد : 3226، صحیح مسلم : 970، سنن ترمذی: ۱۰۵۲ سنن ابن ماجه : ۱۵۶۳)
ان احادیث میں جو قبر پر تعمیر کرنے کی ممانعت ہے اس کا محمل یہ ہے کہ عین قبر کے اوپر اس کو ہموار کرکے تعمیر کی جائے یا عین قبر کے اوپر چونا پھیرا جائے یا عین قبر کے اوپر لکھا جائے اگر قبر کے گرد چاردیواری بنادی جائے یا اس کے سرہانے کتبہ لگا دیا جائے یا زائرین کی سہولت کے لیے چاردیواری پر چھت ڈال دی جائے یا اولیاء اللہ کی تعظیم کے لیے ان کی قبروں پر گنبد بنا دیا جائے تو یہ جائز ہے کیونکہ اولیاء اللہ اور عباد صالحین بھی شعائر اللہ میں سے ہیں، قرآن مجید میں ہے:
وَمَنْ يُعْظِمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ۔الحج : 32)
اور جو شخص اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے تو یہ دلوں کے تقویٰ کے سبب سے ہے
اس آیت میں قربانی کے جانوروں کو “شعائر اللہ” فرمایا ہے اور البقرہ ۱۵۸ میں صفا اور مروہ کو شعائر اللہ فرمایا ہے اور المائدہ: ۲ میں حرمت والے مہینوں ( رجب ذوالقعد ذوالحجہ اور محرم) کو “شعائر اللہ” فرمایا ہے نیز فرمایا ہے:
يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحِلُوا شَعَائِرَ اللَّهِ (المائده: 2)
اے ایمان والو! شعائر اللہ کی بے حرمتی نہ کرو۔
مفسرین نے اس آیت میں “شعائر اللہ ” کو عام قرار دیا ہے یعنی جو چیز بھی اللہ کی نشانی اور اللہ کی طرف منسوب ہے اس کی بے حرمتی نہ کرو اور اس کی تعظیم کرو اور جب قربانی کے اونٹ، صفا اور مروہ کی پہاڑیاں اور حج اور عمرہ کے مہینے شعائر اللہ میں سے ہیں تو
اولیاء اللہ بہ طریق اولی شعائر اللہ میں داخل ہیں اور ان کی تعظیم بھی مطلوب ہے اس لیے اولیاء اللہ کی قبروں پر گنبد بنانا جائز ہے، اس کی زیادہ تفصیل ان شاء اللہ کتاب الجنائز میں آئے گی۔
