٤٤٢ – حَدَّثَنَا يُوسُفَ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْن فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيه،ِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لقَدْ رَأَيْتُ سَبْعِينَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَةِ مَامِنْهُم رجل عَلَيْهِ رِدَاءٌ إِمَّا إِزَارٌ وَإِمَّا كِسَاء،ُ قَدْ رَبَطُوا فِی أَعْنَاقِهِمْ فَمِنْهَا مَايَبْلُغُ نِصْفَ السَّاقَيْنِ ، وَمِنْهَا مَا یبلغ كَعْبَيْنِ، فَيَجْمَعُهُ بِیدِهِ كَرَاهِيَة ان تری عورتہ۔
ُ امام بخاری کی روایت کرتے ہیں : ہمیں یوسف بن عینی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابن فضیل نے حدیث بیان کی از والد خود از ابی حازم از حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ستر اصحاب صفہ کو دیکھا، ان میں سے کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے پاس اوپر کے بدن کو ڈھانپنے والی چادر ہو یا تہبند ہوتا تھا یا پورے بدان پر اوڑھنے والی چادر ہوتی تھی وہ اس چادر کو اپنی گردن میں باندھ لیتے تھے پس بعض کی چادر نصف پنڈلیوں تک پہنچتی تھی اور بعض کی ٹخنوں تک، پس وہ اس چادر کو اپنے ہاتھ سے سمیٹ لیتے تھے تاکہ ان کا ستر نہ کھل جائے۔
ستر اصحاب صفہ کی تعیین اور رداء، ازار اور کساء “ کا معنی
یہ ستر اصحاب صفہ جن کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا تھا ان ستر اصحاب صفہ کے علاوہ تھے جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیر معونہ میں بھیجا تھا یہ بھی اصحاب صفہ میں سے تھے لیکن یہ اصحاب صفہ، حضرت ابو ہریرہ کے صفہ میں آنے سے پہلے اس چبوترہ میں موجودہ تھے۔
اس حدیث میں رداء ازار “ اور ” کساء“ کے الفاظ پیں رداء ” کا معنی ہے: وہ چادر جس سے بدن کے اوپر کے نصف حصہ کو ڈھانپا جائے اور ” ازار” کا معنی ہے: جس سے نچلے نصف بدن کو ڈھانپا جائے یعنی تہبند اور کساء کا معنی ہے: جسم پر اوڑھنے والی چادر۔
اس باب کا عنوان ہے: مردوں کا مسجد میں سونا، ہر چند کہ اس حدیث میں صراحة مردوں کے سونے کا ذکر نہیں ہے لیکن اس حدیث میں اصحاب صفہ کا ذکر ہے اور وہ مسجد میں سوتے تھے کیوں یہ حدیث عنوان کے مطابق ہے۔
