Site icon اردو محفل

کتاب الصلوۃ  باب 60  حدیث نمبر 444

٦٠ – بَاب إِذَا دَخَلَ اَحَدُكُمُ الْمَسْجِد فَلْيَرْكَعُ رَكْعَتَيْن(ِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ)

جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو ( بیٹھنے سے پہلے ) دو رکعت نماز پڑھے

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھے۔

٤٤٤ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الزَّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بن سُلَيْمِ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِى قَتَادَةَ السَّلَمِي أَنَّ رَسُول اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دَخَلَ اَحَدُكُم الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ.طرف الحدیث: ۱۱۶۳

صحیح مسلم : ۷۱۴ ‘ الرقم المسلسل : ۱۶۲۴، سنن ابوداؤد: ۴۶۸-۴۶۷، سنن ترمذی:316،  سنن نسائی:۷۴۹، سنن ابن ماجہ : 1013 مسند احمد ج ۵ ص ۲۹۵ طبع قدیم، مسند احمد: ۲۲۵۲۳- ج ۳۷ ص ۲۰۲ موسة الرساله بیروت جامع المسانيد لابن الجوزی ۱۳۷۶ مکقبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از عامر بن عبد الله بن الزبیر از عمرو بن سلیم الزرقی از حضرت ابوقتاده سلمی رضی اللہ عنہ کے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو وہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھے۔

اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ جو اس باب کا عنوان ہے وہ بعینہ اس حدیث میں مذکور ہے۔

جمہور فقہاء کے نزدیک تحیۃ المسجد پڑھنے کا استحباب

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:

اہل فتوی کی جماعت اس پر متفق ہے کہ یہ حدیث استجاب پر محمول ہے، ہر وہ شخص جو مسجد میں باوضوء داخل ہو اور اس وقت نفل نماز پڑھنا جائز ہو تو اس کے لیے یہ مستحب ہے کہ وہ دورکعت تحیتہ المسجد پڑھے امام مالک نے کہا: یہ مستحسن ہے واجب نہیں ہے۔

غیر مقلدین کے نزدیک تحیۃ المسجد پڑھنے کا وجوب

اہل ظاہر (غیر مقلدین) نے یہ کہا ہے کہ ہر وہ شخص جو اس وقت مسجد میں داخل ہو جب نماز پڑھنا جائز ہو تو اس پر یہ نماز پڑھنا فرض ہے اور بعض اہل ظاہر نے کہا: یہ ہر وقت فرض ہے کیونکہ کسی نیک کام سے اس وقت تک منع نہیں کیا جاتا جب تک اس کے خلاف اس کے معارض کوئی دلیل نہ ہو۔

غیر مقلدین کے دلائل کا ابطال

امام طحاوی نے یہ کہا ہے کہ جمہور کی دلیل یہ ہے کہ جمعہ کے دن حضرت سلیک اس وقت آئے جب آپ خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے ان کو دو رکعت نماز پڑھنے کا حکم دیا ( صحیح البخاری : 930، صحیح مسلم : ۸۷۵ سنن ابوداؤد : 1115،  سنن ترمذی: ۵۱۰ ) اور ایک مرتبہ آپ نے دیکھا کہ ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آکر بیٹھ گیا تو آپ نے اس کو یہ نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا اور حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جمعہ کے دن ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ،  تم نے لوگوں کو ایذاء دی اور تم دیر سے آئے، پس یہ حدیثیں حضرت سلیک کی حدیث کے خلاف ہیں اور ان میں تطبیق اس طرح ہوگی کہ حضرت سلیک کی حدیث کو استحباب پر محمول کیا جائے، جس طرح جمہور نے کہا ہے۔

امام طحاوی نے کہا ہے کہ ان اہل ظاہر کا قول غلط ہے، جنہوں نے کہا ہے کہ جب بھی کوئی شخص مسجد میں آئے تو وہ نماز پڑھے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلوع شمس اور غروب شمس کے وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے، پس جو شخص ان اوقات میں مسجد میں داخل ہوگا تو اس کے لیے آپ کا یہ حکم نہیں ہے کہ وہ دو رکعت نماز پڑھے، آپ کا یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو ان اوقات سے پہلے مسجد میں داخل ہو۔ (شرح معانی الآثار ج ۱ ص 481، قدیمی کتب خانہ کراچی)

اور متقدمین کی ایک جماعت سے یہ مروی ہے کہ وہ مسجد سے گزرتے تھے اور نماز نہیں پڑھتے تھے زید بن اسلم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے بڑے اصحاب مسجد میں داخل ہوتے تھے پھر باہر آتے اور نماز نہیں پڑھتے تھے۔( مصنف ابن ابی شیبہ ج ا ص ۲۹۹)

زید بن اسلم نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا، امام مالک نے اس کو حضرت زید بن ثابت اور سالم بن عبد اللہ سے روایت کیا ہے اور قاسم بن عبد اللہ مسجد میں داخل ہوتے، پھر مسجد میں بیٹھ جاتے اور نماز نہیں پڑھتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج اص ۲۹۹)

شعبی نے بھی اسی طرح کہا ہے اور جابر بن زید نے کہا: تم جب مسجد میں داخل ہو تو اس میں نماز پڑھو پس اگر تم نماز نہیں پڑھتے تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو پھر گویا کہ تم نے نماز پڑھ لی۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص 116 دار الکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۲۴ھ )

Exit mobile version