٦١ – بَابُ الْحَدَثِ فِي الْمَسْجِدِ
مسجد میں وضوء توڑنا
اس باب میں یہ بیان کیا ہے کہ مسجد میں وضو توڑنے کا کیا حکم ہے، ہر چند کہ وضو توڑنا عام ہے مگر یہاں اس سے مراد ہوا خارج کرنا ہے۔
٤٤٥- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَہ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلَّى عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيه،ِ مَا لَمْ يُحْدِثُ تَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللهُم ارحمه۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از ابی الزناد از الاعرج از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے تمہارے لیے اس وقت تک مغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں جب تک کہ آدمی اپنی نماز کی جگہ میں رہتا ہے جب تک وہ اپنا وضوء نہیں توڑتا، فرشتے دعا کرتے رہتے ہیں : اے اللہ ! اس کی مغفرت فرما اے اللہ ! اس پر رحم فرما۔
یہ حدیث صحیح البخاری : ۱۷۶ میں گزرچکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: جس کے نزدیک وضو صرف بول و براز کے راستوں سے کسی چیز کے نکلنے سے ٹوٹتا ہے۔ اس حدیث کے مزید مسائل اور فوائد درج ذیل ہیں:
نماز کے بعد مسجد میں نماز کی جگہ پر بیٹھنے کی فضیلت اور مسجد میں وضوء توڑنے کا مکروہ ہونا
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
السفاقسی نے کہا ہے کہ مسجد میں وضو توڑنا گناہ ہے اس کی وجہ سے وضوء توڑنے والا فرشتوں کی دعا سے محروم ہوجاتا ہے اور جب کہ اس گناہ کا کوئی کفارہ نہیں ہے، اس وجہ سے وہ فرشتوں کے استغفار سے محروم ہوجاتا ہے۔
علامہ ابن بطال مالکی نے کہا ہے کہ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ بغیر کسی مشقت کے اس کے گناہ معاف ہوجائیں، اس کو نماز کے بعد نماز کی جگہ میں بیٹھنے کو لازم کرلینا چاہیے تاکہ فرشتے اس کے لیے زیادہ دعائیں اور استغفار کریں کیونکہ فرشتوں کی دعا کے مقبول ہونے کی بہت امید ہے قرآن مجید میں ہے:
وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَى (الانبياء:۳۸)
اور وہ صرف ان ہی کی شفاعت کرتے ہیں جن کی شفاعت سے اللہ راضی ہو۔
مصنف کے نزدیک فرشتوں کی دعا کا مقبول ہونا دو وجہ سے ہے ایک اس وجہ سے کہ جب کوئی شخص دوسروں کے لیے دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار ہو اس کی معصیت نہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔
علامہ ابن بطال فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوجائے’ اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں، اور جب امام آمین کہتا ہے تو فرشتے صرف ایک دفعہ آمین کہتے ہیں اور جو نمازی نماز کے بعد اپنی نماز کی جگہ میں جتنی دیر تک بیٹھا رہے اتنی دیر تک فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں، لہذا اس موقع کی دعا قبول ہونے کے زیادہ قریب ہے، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے لیے انتظار کرنے کو سرحد پر پہرہ دینے کے ساتھ تشبیہ دی ہے اور اس کو رباط ( سرحد پر پہرہ دینا ) فرمایا ہے اور اس کو تاکید کے ساتھ دو مرتبہ رباط فرمایا ہے پس ہر عقل والے مومن پر لازم ہے کہ جب اس کو نماز کے بعد نماز کی جگہ پر بیٹھنے کے فضائل معلوم ہوں تو وہ نماز کی جگہ پر بیٹھ کر زیادہ سے زیادہ فرشتوں کے استغفار کے حصول کی کوشش کرے۔ سعید بن المسیب اور حسن بصری نے کہا ہے کہ مسجد میں عمدا بغیر وضوء کے بیٹھنا مکروہ ہے۔( شرح ابن ابطال ج ۲ ص ۱۲۱ – ۱۲۰ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۴ھ )
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ فرماتے ہیں:
اس حدیث میں اس شخص کی فضیلت ہے جو مطلقا نماز کا انتظار کرتا ہے خواہ وہ مسجد میں اس جگہ بیٹھا ہو یا کسی دوسری جگہ چلاگیا ہو اور اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ جو شخص مسجد میں اپنا وضو، توڑ دے اس کی یہ فضیلت باطل ہوجاتی ہے اور اس سے یہ معلوم ہوا کہ کا مسجد میں وضو توڑنا مسجد میں تھوکنے سے زیادہ مکروہ ہے۔
مسجد میں بغیر وضوء کے بیٹھنے میں فقہاء کا اختلاف
علامہ عینی مزید لکھتے ہیں: ) علامہ مازری نے کہا ہے کہ امام بخاری نے اس حدیث سے ان لوگوں پر رد کرنے کا ارادہ کیا ہے جو بے وضو شخص کو مسجد میں داخل ہونے سے منع کرتے ہیں یا مسجد میں بیٹھنے سے منع کرتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اس مسئلہ میں متقدمین کا اختلاف ہے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ مسجد سے نکلے، پھر انہوں نے پیشاب کیا، پھر مسجد میں داخل ہو گئے اور وضوء نہیں کیا، اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اور یہ عطاء، النخعی اور ابن جبیر سے بھی مروی ہے اور ابن المسیب اور حسن بصری نے یہ کہا ہے کہ مسجد میں بغیر وضوء کے عمدا بیٹھنا مکروہ ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۰۰ دار الكتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۱ھ )
علامہ ابن بطال اور علامہ عینی کی شرحوں میں محاکمہ
میں کہتا ہوں کہ علامہ عینی نے دو چیزوں میں علامہ ابن بطال سے اختلاف کیا ہے، ایک یہ ہے کہ علامہ ابن بطال نے فرشتوں کی دعا کے حصول کے لیے مسجد میں نماز کی جگہ پر بیٹھنے کو لازم قرار دیا ہے اور علامہ عینی نے فرمایا ہے کہ جب تک نماز کے بعد وضو نہ ٹوٹے اور انسان نماز کا انتظار کرتا رہے، اس کو یہ فضیلت حاصل ہوتی ہے خواہ وہ مسجد میں ہو یا نہ ہو دوسری چیز یہ ہے کہ علامہ ابن بطال نے حتماً کہا ہے کہ بے وضو شخص مسجد میں نہ بیٹھے اور علامہ عینی نے کہا ہے کہ اس میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ پہلے مسئلہ میں بہ ظاہر حدیث کے الفاظ سے علامہ ابن بطال کی تائید ہوتی ہے کیونکہ حدیث کے الفاظ ہیں: جب تک وہ اپنی نماز کی جگہ میں رہتا ہے غالبا علامہ عینی نے ان الفاظ سے عموم مراد لیا ہے کہ جب تک اس کا وضوء نہ ٹوٹے اور وہ نماز کا منتظر رہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ فرشتوں سے مراد عام ہے خواہ وہ کراماً کاتبین ہوں سیارگان ہوں یا کوئی اور فرشتے ہوں۔ فتح الباری ج ۲ ص ۹۳ دار المعرفة بیروت 1406ھ
