Site icon اردو محفل

کتاب الصلوۃ  باب 62  حدیث نمبر 446

٦٢ – بَابُ بُنْيَانِ الْمَسْجِدِ

مسجد کو بنانا

اس باب میں مسجد نبوی کو بنانے کی صفت بیان کی گئی ہے۔ اس میں درج ذیل تعلیق ہے:

وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ كَانَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ مِن جَرِيدِ النَّخْلِ۔

اور حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: مسجد ( نبوی) کی چھت کھجور کی شاخوں سے ہموار کی گئی تھی۔

اس تعلیق کی اصل درج ذیل حدیث میں ہے:

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بادل آئے، پس بارش ہوئی حتیٰ کہ مسجد کی چھت ٹپکنے لگی اور وہ چھت کھجور کی شاخوں سے ہموار کی گئی تھی، پھر نماز قائم کی گئی، پس میں نے دیکھا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم پانی اور مٹی میں سجدہ کررہے تھے حتی کہ میں نے مٹی کا اثر آپ کی پیشانی میں دیکھا۔

(صحیح البخاری : ۶۶۹ ، صحیح مسلم: 1167،  سنن ابوداؤد : 1383،  سنن ابن ماجه: ۱۷۶۶ السنن الکبری : ۳۳۴۲)

وَأَمَرَ عُمَرُ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ، وَقَالَ اكِنَّ النَّاس مِنَ الْمَطَرِ، وَإِيَّاكَ أَنْ تُحَمِرَ أَوْ تُصَفَرَ، فَتَفْتِنَ النَّاس۔

اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد ( نبوی) کو بنانے کا حکم دیا اور فرمایا: لوگوں کو بارش سے محفوظ رکھو اور سرخ رنگ یا زرد رنگ لگانے سے اجتناب کرو کہ لوگ فتنہ میں مبتلا ہوں گے۔

اس تعلیق کی اصل، اس باب کی حدیث: ۴۴۶ میں آرہی ہے فتنہ میں مبتلا ہونے کا معنی یہ ہے کہ لوگ مسجد کے رنگ و روغن دیکھنے میں مشغول اور منہمک ہوں گے اور ان کے خضوع اور خشوع میں فرق آئے گا۔

وقال أنسٌ يَتَبَاهُونَ بِهَا، ثُمَّ لَا يَعْمُرُونَهَا الا قليلا۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگ مساجد بناکر فخر کریں گے اور اس کو ( نمازوں سے) بہت کم آباد کریں گے۔

اس تعلیق کی اصل اس حدیث میں ہے:

ابو قلابہ البحری بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ الزاویہ میں جانے کا ارادہ کرتے تھے ہم ایک مسجد کے پاس سے گزرے اور صبح کی نماز کا وقت آگیا، حضرت انس نے فرمایا: اگر ہم اس مسجد میں نماز پڑھ لیں! کیونکہ بعض لوگ دوسری مسجد میں گئے ہیں، لوگوں نے پوچھا: کون سی مسجد میں؟ پس ہم نے ایک مسجد کا ذکر کیا تو حضرت انس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ مسجدوں پر فخر کریں گے اور ان کو (نمازوں سے ) بہت کم آباد کریں گے یا فرمایا: ان کو کم آباد کریں گے۔

امام ابوبکر ( محمد بن اسحاق بن خزیمہ نیشاپوری متوفی ۳۱۱ھ) نے کہا: الزاویہ بصرہ کا ایک محل ہے جو تقریبا دو فرسخ کے فاصلہ پر ہے ۔ (صحیح ابن خزیمہ :۱۳۲۱)

اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ لوگ بڑھ چڑھ کر مساجد کو نقش و نگار سے مزین کریں گے، اس میں بیٹھ کر بحث کریں گے اور مساجد پر فخر کریں گے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے، قرآن مجید کی تلاوت کرنے اور نماز پڑھنے میں مشغول نہیں ہوں گے یا بہت کم مشغول ہوں گے۔

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَتُزَخْرِفْنَّهَا كَمَا زَحْرَقَت الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى۔

اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم ضرور مساجد کو مزین کروگے، جس طرح یہود اور نصاریٰ نے مزین کیا ہے۔

اس تعلیق کی اصل اس حدیث میں ہے:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے مساجد پر چونے کا پلستر لگانے کا حکم نہیں دیا گیا، حضرت ابن عباس نے کہا: تم مساجد کو ضرور مزین کروگے جیسے یہود و نصاری نے مزین کیا ہے۔ (سنن ابوداؤد : ۴۴۸)

علامہ عینی نے کہا ہے کہ ان احادیث کی بناء پر ہمارے اصحاب نے یہ کہا ہے کہ مساجد میں نقش و نگار بنانا اور ان کو مزین کرنا مکروہ ہے اور ہمارے بعض اصحاب نے یہ کہا ہے کہ مساجد میں نقش و نگار بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ کراہت تنزیہی ہے یا خلاف اولی ہے اور وقف کے مال سے مساجد کو مزین کرنا جائز نہیں ہے اور جس نے مال وقف سے مساجد کو مزین کیا اسے اس مال کا تاوان دینا ہوگا اور تاوان دینے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے وقف کے مال کو اس کے جائز مصرف میں خرچ نہیں کیا ۔

(عمدۃ القاری ج 4 ص 303 دار الكتب العلمیة بیروت ۱۴۲۱ھ )

میں کہتا ہوں کہ ہمارے اس زمانہ میں لوگ اپنے گھروں اور بنگلوں کو بہت خوب صورت اور حسین و جمیل بناتے ہیں تواللہ کا گھر اس کے زیادہ لائق ہے کہ اس کا گھر لوگوں کے اپنے گھروں سے زیادہ خوبصورت بنایا جائے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جب مساجد کو مزین کرنے سے منع کیا تھا، اس وقت لوگوں کے گھر بہت سادہ ہوتے تھے۔

٤٤٦ – حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِاللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَاللهِ أَخْبَرَہ أَنَّ الْمَسْجِدَ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْنِيًّا بِاللَّبِنِ، وَسَقْفُهُ الْجَرِيدُ، وَعُمُدُه خَشَبُ النَّخْلِ، فَلَمْ يَزِدْ فِيهِ أَبُوبَكْرٍ شَيْئًا وَزَادَ فِيهِ عُمَرُ، وَبَنَاهُ عَلَى بُنْيَانِهِ فِى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّی الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّبِنِ وَالْجَرِيدِ، وَأَعَادَ عُمدَه خشَبًا ثُمَّ غَيَّرَهُ عُثْمَانُ، فَزَادَ فِيهِ زِيَادَةٌ كَثِيرَةٌ، وَبَنى جِدَارَهُ بِالْحِجَارَةِ الْمَنقُوثَةِ وَالْقَصَّةِ وَجَعَل عُمْدَهُ مِنْ حِجَارَةٍ مَنْقُوشَةٍ وَسَقَفَهُ بِالسَّاجِ۔

سنن ابوداود : ۴۵۱، صحیح ابن خزیمہ: ۱۳۲۴ صحیح ابن حبان: 1601، دلائل النبوة للبیہقی  ج ۲ ص ۵۴۱’ مصنف عبدالرزاق : 5129، مسند احمد ج ۲ ص ۱۳۰ طبع قدیم مسند احمد : 6139، – ج ۱۰ ص 287، مؤسسة الرسالة بيروت، جامع المسانيد لابن الجوزی : ۳۶۲۲ مکتبہ الرشد ریاض 1426ھ

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں علی بن عبداللہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی از صالح بن کیسان انہوں نے کہا: ہمیں نافع نے حدیث بیان کی، حضرت عبد اللہ(بن عمر رضی اللہ عنہما ) نے ان کو خبر دی کہ مسجد (نبوی) رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کچی اینٹوں کی بنی ہوئی تھی اور اس کی چھت کھجور کی شاخوں کی تھی اور اس کے ستون کھجور کے تنوں کے تھے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں اضافہ کیا اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کے عہد کی بناء پر تعمیر کیا، کچی اینٹوں اور شاخوں سے بنایا اور اس کے ستون دوبارہ لکڑی کے بنادیئے، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس میں تبدیلی کی اور اس میں بہت اضافہ کیا، اس کی دیوار میں نقش و نگار والے پتھروں اور چونے کی بنائیں اور اس کے ستون بھی منقش پتھروں کے بنائے اور اس کی چھت ساگوان کی لکڑی کی بنائی۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) علی بن عبد اللہ بن جعفر بن نجیح ابوالحسن ،ان کو ابن المدینی البصری بھی کہا جاتا ہے

(۲) یعقوب بن ابراہیم بن سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف الزہری، ان کی اصل مدنی ہے اور یہ عراق میں تھے

(۳) ان کے والد ابراہیم بن سعد

(۴) صالح بن کیسان ابو محمد مؤدب عمر بن عبدالعزیز کے بیٹے

(۵) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام نافع

(۲) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عمدۃ القاری ج 4 ص 303

اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ اس میں مسجد نبوی کے بنانے کا ذکر ہے۔

سلف صالحین کے نزدیک مسجد کی تریین کا مکروہ ہونا

علامہ ابو الحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :

رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد احادیث اور سلف صالحین سے متعدد آثار میں منقول ہیں کہ مساجد کو منقش اور مزین بنانا مکروہ ہے حبیب بن الشہید نے الحسن سے روایت کی ہے کہ جب مسجد بنائی گئی تو صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم اس کو کیسے بنائیں؟ تو آپ نے فرمایا: میں اپنے بھائی موسیٰ سے اعراض نہیں کرتا، اس کی چھت حضرت موسیٰ کی چھت کی طرح بناؤ اور یزید بن الاصم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے مساجد کو مزین کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تم اپنی مساجد کو مزین کروگے اور اپنے مصاحف ( قرآن مجید ) کو زیور پہناؤگے تو تم پر ہلاکت آجائے گی۔

یہ آثار اور امام بخاری کی حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ مسجد کی تعمیر میں معتدل طریقہ اختیار کرنا چاہیے اور فتنہ انگیزی اور ایک دوسرے پر فخر کرنے کے خوف سے اس کی تزیین میں غلو کو ترک کردینا چاہیے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ جس شخص نے حضرت عمر سے مسجد کی تعمیر کے لیے کہا تو انہوں نے اس سے فرمایا: لوگوں کو بارش سے محفوظ رکھو اور سرخ اور زرد رنگ سے اجتناب کرو تاکہ لوگ فتنہ میں نہ پڑیں ہوسکتا ہے کہ حضرت عمر نے اس چیز کو اس سے سمجھا ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو جہم کی نقش و نگاروں والی چاور واپس کردی تھی، جب نماز میں آپ کی نظر اس کے نقوش پر پڑی اور آپ نے فرمایا: مجھے خوف ہے کہ یہ مجھے فتنہ میں ڈال دے گی یعنی اس پر نظر پڑنے سے میرے خضوع اور خشوع اور اللہ تعالیٰ کی طرف انہماک اور استغراق میں فرق آئے گا۔ ( صحیح البخاری: 373، صحیح مسلم:۵۵۶)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالی نے دنیا کے بہت سے ممالک پر فتح عطا فرمائی تھی اور ان کو بہت مال عطا فرمایا تھا، اس کے باوجود انہوں نے مسجد نبوی کو اس طرح سادہ رکھا، جس طرح وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سادہ تھی پھر جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو انہوں نے صرف اتنی تبدیلی کی کہ کچی اینٹوں کی جگہ (منقش) پتھر اور چونا لگایا اور کھجور کی شاخوں کے بجائے ساگوان کی لکڑی کی چھت بنائی، پس حضرت عثمان اور حضرت عمر نے مسجد نبوی کو بہت زیادہ مزین نہیں کیا کیونکہ ان کو یہ علم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک یہ کام مکروہ ہے اور تاکہ دنیاوی زیب وزینت کے حصول میں میانہ روی اور زہد میں ان کی اقتداء کی جائے۔

القاسم بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ انصار نے مال جمع کیا، پس کہا: یا رسول اللہ ! اس مسجد کو بنائیں تو آپ نے فرمایا: اس سے منافق خوش ہوں گے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مومنین کو چاہیے کہ وہ منافقین کو خوش نہ کریں۔( شرح ابن بطال ج ۲ ص 122 دار الکتب العلمیة بیروت 1424ھ )

مسجد کی تزیین کی ابتداء اور فقہاء احناف کے نزدیک مسجد کی تریین کی گنجائش

علامہ بدرالدین محمود بن عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں :

میں کہتا ہوں کہ جس نے سب سے پہلے مسجد کو مزین کیا ہے وہ الولید بن عبدالملک بن مروان تھا اور یہ کام صحابہ رضی اللہ عنہم کے زمانہ کے اخیر میں ہوا اور اکثر اہل علم نے فتنہ کے خوف سے اس پرسکوت کیا، ابن المنیر نے کہا: جب لوگوں نے اپنے گھروں کو خوب صورت بنایا اور مزین کیا تو پھر یہ مستحب ہوگیا کہ مساجد کو بھی اسی طرح خوب صورت بنایا جائے اور مزین کیا جائے تاکہ مساجد کی بے وقعتی نہ ہو اور بعض فقہاء نے کہا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے کہ جب مساجد کی تعظیم کے لیے ان کو مزین کیا جائے تو پھر یہ جائز ہے اور اس تزیین پر بیت المال سے خرچ نہ کیا جائے، میں کہتا ہوں کہ ہمارے اصحاب کا یہ مذہب ہے کہ مساجد کی تزیین مکروہ ( تنزیہی) ہے اور ہمارے بعض اصحاب کا قول یہ ہے کہ مساجد کو منقش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ یہ خلاف اولیٰ ہے۔ ( عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۰۴ دار الكتب العلمیة بیروت 1421ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس حدیث کی شرح میں زیادہ تر علامہ ابن بطال کی عبارت نقل کی ہے اور علامہ عینی نے جو شرح کی ہے وہ بھی ان کی کتاب میں ہے۔ (فتح الباری ج ۲ ص ۹۵ دار المعرفۃ بیروت 1426ھ )

Exit mobile version