۷۰ – بَابٌ ذِكْرِ الْبَيْعِ وَالشرَاءِ عَلَى الْمِنْبَرِ فِي الْمَسْجِدِ
مسجد کے منبر پر خرید و فروخت کا ذکر کرنا
اس باب میں یہ بیان کیا جائے گا کہ مسجد کے منبر پر خرید وفروخت کی خبر سنانا جائز ہے۔
٤٥٦ – حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِاللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَان،ُ عَنْ يَحْيَى، عَنْ عُمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اتتهَا بَرِيرَة تَسْأَلُهَا فِي كِتَابَتِهَا، فَقَالَتْ إِنْ شِئت اَعْطَيْتُ أَهْلَک وَيَكُونُ الْوَلَاءلِى، وَقَالَ أَهْلُهَا إِنْ شِئْتِ أَعْطَيْتها مابقى. وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةٌ إِنْ شِئْتِ اَعْتَقْتِهَا، وَيَكُون الْوَلَاء لَنَا، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَتْهُ ذَلِكَ، فَقَالَ إِبْتَاعِيْهَا فَاعْتَقِيْهَا، فَإِن الْوَلَاءَ لِمَنْ اَعْتَقَ. ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ. وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فَصَعِدَ رَسُول اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتابِ اللهِ مَن اشْتَرَطَ شَرَطًا لَيْسَ فِى كِتابِ اللهِ فَلَيْسَ لَهُ، وَاِن اشْتَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ. قَالَ عَلِيٌّ قَالَ يَحْيَى، وَعَبْدالْوَهَّابِ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرَةَ، وَقَالَ جَعْفَرُ بْن عون عَنْ يَحْيِي قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَةَ قَالَتْ سَمِعت عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَرَوَاهُ مَالِك،َ عَنْ يَحیی، عَن عَمْرَة،َ أَنَّ بَرِيرَةَ، وَلَمْ يَذْكُرُ صَعِدَ الْمِنْبَرَ۔
اطراف الحدیث: ۱۴۹۳- 2155 – ۲۱۶۸-۲۵۳۶-2560۔2562، ۲۵۶۳- 2564- ۲۵۶۵-۲۵۶۸-۲۷۱۷-2767،2729، 2729،2097 -۵۲۷۹-5284 -5430، 6717، 6751، 6754، 6758، 6760
السنن الکبری: 3403، مصنف عبد الرزاق :16161 المعجم الاوسط : ۳۷۷۵ سنن بیہقی ج 10 ص 339، مسند احمد ج 6 ص 33 طبع قدیم، مسند احمد: 24053- ج 40 ص 58 مؤسسة الرسالة بيروت جامع المسانيد لابن الجوزی : ۷۳۲۸ مکتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں علی بن عبداللہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی از یحیی از عمره از حضرت عائشه رضی اللہ عنہا انہوں نے بیان کیا کہ ان کے پاس حضرت بریره رضی اللہ عنہا آئیں اور ان سے یہ سوال کیا کہ وہ ان کا زر کتابت ادا کردیں حضرت عائشہ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہارے مالکوں کو تمہارا زرکتابت ادا کر دوں اور ولاء میرے لیے ہوگی، حضرت بریرہ کے مالکوں نے کہا: اگر آپ چاہیں تو باقی رقم کردیں، سفیان نے ایک بار کہا: اگر آپ چاہیں تو اس کو آزاد کردیں اور وَلَا ء ہمارے لیے ہوگی، پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بریرہ کو خرید کر آزاد کر دو کیونکہ ولاء اس کے لیے ہوتی ہے جو آزاد کرتا ہے پھر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے، ایک بار سفیان نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہے جو ایسی شرط عائد کرتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہے، جس نے ایسی شرط لگائی جو کتاب اللہ میں نہیں ہے وہ شرط اس کے لیے نہیں ہوگی، خواہ وہ سو شرطیں لگائے علی نے کہا، یحیی نے کہا اور عبدالوہاب نے از یحیی از عمرہ اور جعفر بن عون نے کہا از یحیی، انہوں نے کہا: میں نے عمرہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ اس حدیث کو امام مالک نے روایت کیا ہے از یحیی از عمرہ که حضرت بریرہ اور اس میں منبر پر چڑھنے کا ذکر نہیں کیا۔
اس حدیث کے پانچ رجال ہیں ان سب کا پہلے تعارف ہوچکا ہے۔
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: تم بریرہ کو خرید کر آزاد کرو۔
حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا تذکرہ
اس حدیث میں حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کا ذکر ہے۔
علامہ عزالدین ابن الاثیر علی بن محمد الجزری المتوفی ۶۳۰ ھ لکھتے ہیں:
حضرت بریرہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی باندی تھیں یہ پہلے بنی ھلال کے کسی شخص کی باندی تھیں، ایک قول یہ ہے کہ ابو حمد بن جحش کی باندی تھیں، ایک قول یہ ہے کہ چند انصار کی باندی تھیں، انہوں نے ان کو مکاتب کردیا، پھر انہوں نے ان کو حضرت عائشہ کے ہاتھ فروخت کردیا، پھر حضرت عائشہ نے ان کو آزاد کردیا۔
ان کے خاوند کا نام مغیث تھا وہ غلام تھے، جب حضرت بریرہ آزاد ہوئیں تو ان کو اختیار دیا گیا کہ وہ اس کے نکاح میں برقرار رہیں یا علیحدہ ہوجائیں، انہوں نے علیحدہ ہونے کو اختیار کرلیا، مغیث ان سے بہت محبت کرتے تھے وہ ان کے فراق میں مدینہ کی گلیوں میں روتے ہوئے پھرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریرہ سے ان کی سفارش کی کہ وہ ان سے دوبارہ نکاح کرلیں، حضرت بریرہ نے حضور سے پوچھا: آیا یہ آپ کا حکم ہے یا آپ ان کی سفارش فرمارہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: بلکہ میں سفارش کررہا ہوں، حضرت بریرہ نے کہا: پھر میں ان سے نکاح کا ارادہ نہیں کرتی اس میں اختلاف ہے کہ ان کے خاوند آزاد تھے یا غلام صحیح بات یہ ہے کہ وہ غلام تھے۔ (ان کو بعد میں آزاد کر دیا گیا تھا۔ سعیدی غفرلہ )
عبد الملک بن مروان نے بیان کیا کہ میں حضرت بریرہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے کہا: اے عبد الملک ! میں تم میں چند خصلتیں دیکھ رہی ہوں، بے شک تم اس حکومت کی امارت کے اہل ہو، اگر تم حکم ران بن جاؤ تو خون ریزی سے پرہیز کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص نے کسی کا ناحق خون بہایا ہوگا تو اس کو جنت کے دروازے سے دھتکار دیا جائے گا۔ ( کامل ابن عدی ج ۳ ص ۰ ۱۱۴ تاریخ بغداد ج 14 ص 29، مجمع الزوائد ج ۷ ص 301، کنز العمال 3921، اسد الغابہ ج ۷ ص ۳۸ ۳۷ دار الکتب العلمیة بیروت ۱۴۱۰ھ )
حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا سے صرف ایک حدیث روایت کی گئی ہے۔
(خلاصة تذهیب تہذیب الکمال ج ۳ ص ۴۸۵ دار الكتب العلمیة بیروت ۱۴۲۲ھ )
زر کتابت یا بدل کتابت کا معنی
اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ درخواست کی کہ وہ ان کا زر کتابت ادا کردیں۔ جس غلام یا لونڈی کو اس کا مالک یہ کہے کہ تم اگر اتنی رقم مجھے لاکر دے دو تو تم آزاد ہو، اس غلام کو مکاتب اور اس باندی کو مکاتبہ کہتے ہیں اور اس رقم کو زر کتابت یا بدل کتابت کہتے ہیں، خواہ وہ رقم کماکر لائے یا کسی سے لاکر دے دے، مکاتب غلامی کی ذلت سے نکل جاتا ہے کیونکہ وہ محنت مزدوری کرسکتا ہے لیکن ابھی مکمل آزاد نہیں ہوتا، اس لیے اگر وہ کسی کا نقصان کردے تو اس کا تاوان اس کے مالک کو دینا ہوگا، وہ ایک طرح سے آزاد ہے اور ایک طرح سے غلام ہے وہ شتر مرغ کی طرح ہے اگر اس سے اڑنے کے لیے کہا جائے تو وہ کہتا ہے : میں تو اونٹ ہوں کیا اونٹ اڑتا ہے اور اگر اس پر بوجھ لادنے کے لیے کہا جائے تو وہ کہتا ہے: میں تو پرندہ ہوں کیا پرندہ پر بوجھ لادا جاتا ہے، سو یہی حال مکاتب کا ہوتا ہے بہرحال حضرت بریرہ سے ان کے مالکوں نے کہا تھا: تم اتنی رقم لاکر دو تو تم آزاد ہو سو حضرت بریرہ اس رقم کے حصول کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ کے پاس گئی تھیں۔
ولاء کا معنی
اگر باندی یا غلام آزاد ہونے کے بعد کچھ مال و دولت کماکر حاصل کرے اور مرجائے، پھر اگر اس کے وارث ہوں تو وہ مال اس کے وارثوں کو دیا جائے گا اور اگر اس کے وارث نہ ہوں تو پھر وہ مال اس کے آزاد کرنے والے کو دیا جاتا ہے اس کو عصبہ سببی اور مولائے عتاقہ کہتے ہیں اور اس غلام یا باندی کی اس وراثت کو ولاء کہتے ہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے قاعدہ کے مطابق حضرت بریرہ سے یہ فرمایا تھا کہ میں تم کو مطلوبہ رقم دے دوں گی اور ولاء میری ہوگی اور حضرت بریرہ کے مالکوں نے مطلوبہ رقم لے کر آزاد کرنے کے لیے یہ شرط عائد کی تھی کہ ولاء ہمارے لیے ہوگی، اس شرط کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رد فرمایا تھا۔
سنت پر کتاب اللہ کا اطلاق
رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہوکر فرمایا : ان لوگوں کا کیا حال ہے، جو ایسی شرط عائد کرتے ہیں، جو کتاب اللہ میں نہیں ہے۔ کتاب اللہ سے مراد شریعت ہے خواہ قرآن مجید ہو یا سنت ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: وَلاء آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے ( حدیث مذکور :۴۵۶) اور حضرت بریرہ کے مالکان جو شرط لگا رہے تھے کہ ولاء ان کے لیے ہوگی سو یہ شرط سنت کے خلاف تھی، جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ سے تعبیر فرمایا کیونکہ آپ کی سنت پر عمل کرنے کا حکم بھی کتاب اللہ میں ہے قرآن مجید میں ہے:
مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاع الله. (النساء:۸۰)
جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کرلی۔
مسجد میں خرید وفروخت کا ناجائز ہونا
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :
مساجد کو صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر، تلاوت قرآن اور نماز کے لیے بنایا گیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خرید وفروخت کرنے سے منع فرمایا ہے امام مالک اور علماء کی ایک جماعت کا یہی مذہب ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی شخص کو مسجد میں خرید وفروخت کرتے ہوئے دیکھو تو کہو : اللہ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے اور جب تم دیکھو کہ کوئی شخص مسجد میں اپنی کسی گم شدہ چیز کا اعلان کررہا ہے تو کہو: اللہ تم پر وہ چیز واپس نہ کرے ۔ ( مجمع الزوائد ج ۲ ص ۲۵)
امام مالک نے عطاء بن سیار سے روایت کیا ہے کہ جو شخص مسجد میں خرید و فروخت کا ارادہ کرے تو تم اس سے کہو کہ تم دنیا کے بازار میں جاؤ یہ آخرت کا بازار ہے۔
مسجد صرف امور اللہ کے لیے ہے اور جو چیز امور اللہ سے نہ ہو اس کو مسجد سے دور رکھنا واجب ہے۔( شرح ابن بطال ج ۲ ص ۱۳۶ – ۱۳۵ دار الکتب العلمیہ پیروت (1424ھ)
اپنے غلام یا باندی کو مکاتب کرنے کا ثبوت
حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: وہ ان کا زر کتابت ادا کریں، اس سے معلوم ہوا کہ غلام یا لونڈی کو مکاتب بنانا جائز ہے قرآن مجید میں ہے:
وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَبَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا ( النور : ٣٣)
اور تمہارے غلاموں اور باندیوں میں سے جو مکاتب ہونا چاہے سو تم اس کو مکاتب کردیا کرو اگر تمہارے علم میں اس کے اندر بھلائی ہو۔
یعنی تمہارا غلام یہ کہے کہ اگر میں آپ کو اتنا مال لادوں تو آپ مجھے آزاد کردیں اور تم اس کو قبول کرلو تو وہ غلام مکاتب ہوجائے گا
خواہ وہ مال محنت مزدوری کرکے حاصل کرے یا کسی سے بہ طور مدد مانگے اور جب تک وہ مال ادا نہیں کرے گا وہ مکمل آزاد نہیں ہوگا۔
جب باندی کو آزاد کر دیا جائے تو اس کے لیے خیار عتق کا ثبوت
حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا پہلے حضرت مغیث کے نکاح میں تھیں، جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کا زر کتابت ادا کردیا اور وہ آزاد ہوگئیں تو انہوں نے حضرت مغیث سے نکاح کو فسخ کردیا کیونکہ جب باندی آزاد کردی جائے تو اس کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ نکاح سابق کو برقرار رکھے یا نہیں کیونکہ باندی کا شوہر اس کے اوپر دو طلاقوں کا مالک ہوتا ہے اور آزاد عورت کا شوہر اس پر تین طلاقوں کا مالک ہوتا ہے تو جب باندی آزاد کردی جاتی ہے تو اس پر اس کے شوہر کی ملکیت بڑھ جاتی ہے اس لیے اس موقع پر باندی کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے اوپر خاوند کی اس زیادہ ملکیت کو قبول کرتی ہے نہیں؟ اس کو خیار عتق کہتے ہیں، حضرت بریرہ نے اس اختیار سے کام لیتے ہوئے آزاد ہوتے ہی حضرت مغیث رضی اللہ عنہ سے نکاح کو فسخ کردیا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت بریرہ کے خاوند غلام تھے، ان کا نام مغیث تھا گویا کہ میں ان کو دیکھ رہا ہوں وہ حضرت بریرہ کے پیچھے پیچھے روتے ہوئے پھررہے تھے اور ان کے آنسو ان کی ڈاڑھی پر بہہ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اے عباس ! کیا تم اس پر تعجب نہیں کرتے کہ مغیث کو بریرہ سے کتنی محبت ہے اور بریرہ کو مغیث سے کتنی نفرت ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریرہ سے فرمایا: کاش ! تم مغیث سے رجوع کرلیتیں انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں! میں صرف سفارش کررہا ہوں حضرت بریرہ نے کہا: مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔(صحیح البخاری: ۵۲۸۳)
اس حدیث میں ہماری دلیل ہے کہ جب باندی آزاد کردی جائے تو اس کو خیار عتق حاصل ہوتا ہے۔
اس کی تحقیق کہ جب حضرت بریرہ کو آزاد کیا گیا تو اس وقت ان کے شوہر مغیث آزاد تھے یا غلام؟
علامہ علی بن سلطان محمد القاری متوفی ۱۰۱۴ ھ لکھتے ہیں:
باندی یا مکاتبہ جب آزاد کر دی جائے تو اس کو اختیار دیا جاتا ہے خواہ وہ آزاد کے نکاح میں ہو یا غلام کے امام شافعی نے کہا: جب باندی آزاد کردی جائے تو اس کو اختیار نہیں ہوتا جب اس کا شوہر آزاد ہو، امام مالک اور امام احمد کا بھی یہی قول ہے اور اختلاف کا سبب یہ ہے کہ جب حضرت بریرہ کو آزاد کیا گیا تھا تو اس میں اختلاف ہے کہ ان کے شوہر اس وقت آزاد تھے یا غلام تھے بعض روایات میں ہے: اس وقت ان کے شوہر آزاد تھے اور بعض میں ہے : وہ اس وقت غلام تھے۔
اسود بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت بریرہ کو آزاد کرنے کے لیے خریدا، ان کے مالکوں نے ان کی ولاء کی شرط لگائی انہوں نے عرض کیا: یارسول اللہ ! میں نے حضرت بریرہ کو آزاد کرنے کے لیے خریدا ہے اور ان کے مالک ان کی ولاء کی شرط لگا رہے ہیں، آپ نے فرمایا: تم اس کو آزاد کردو، کیونکہ ولاء اس کے لیے ہوتی ہے جو آزاد کرتا ہے اسود نے کہا: حضرت عائشہ نے اس کو خرید کر آزاد کردیا اور حضرت بریرہ کو اختیار دیا گیا تو انہوں نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا اور کہا: اگر مجھے اتنا اتنا مال بھی دیا جائے تو میں مغیث کے ساتھ نہیں رہوں گی۔ اسود نے کہا کہ ان کے خاوند آزاد تھے امام بخاری نے کہا کہ اسود کا قول منقطع ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے ان کے خاوند کو غلام دیکھا ہے اور حضرت ابن عباس کا قول زیادہ صحیح ہے۔( صحیح البخاری: ۶۷۵۴ سنن ابوداؤد : ۳۲۲۹ سنن ترمذی:۱۱۵۵ سنن نسائی:۳۴۴۹)
امام نسائی نے علقمہ اور اسود سے روایت کی ہے کہ ان دونوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ جس دن حضرت بریرہ کو آزاد کیا گیا اس دن حضرت بریرہ کے خاوند آزاد تھے یا غلام تھے ؟ تو حضرت عائشہ نے فرمایا: اس دن وہ آزاد تھے۔(سنن نسائی: ۲۶۱۰-3447،3446 باب: خيار الامة تعتق و زوجهاحر)
صحیح مسلم : ۱۵۰۴ سنن ابوداؤد: ۲۲۳۳ سنن ترمذی: ۱۱۵۴ اور سنن نسائی:۳۴۵۱ میں مذکور ہے کہ حضرت بریرہ کے خاوند غلام تھے اسی طرح صحیح البخاری : ۵۲۸۳ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ان احادیث میں صرف یہ ذکر ہے کہ حضرت مغیث غلام تھے، یہ ذکر نہیں ہے کہ جس وقت حضرت بریرہ کو آزاد کیا گیا تھا، اس وقت وہ غلام تھے، لہذا ہوسکتا ہے کہ وہ پہلے غلام رہے ہوں اور جب حضرت بریرہ کو آزاد کیا گیا تھا اس وقت وہ آزاد ہوچکے ہوں، سو ان روایات میں دونوں احتمال ہیں اور امام نسائی کی صحیح حدیث میں یہ تصریح ہے کہ جس وقت حضرت بریرہ کو آزاد کیا گیا تھا اس وقت ان کے شوہر آزاد تھے پس یہ محتمل روایات امام نسائی کی صریح حدیث کے معارض نہیں ہوسکتیں۔
امام طحاوی نے کہا ہے کہ جب یہ آثار مختلف ہیں تو ان میں تطبیق دینا واجب ہے اور تطبیق اس طرح ہوسکتی ہے کہ وہ پہلے غلام تھے بعد میں آزاد کردیئے گئے اس کا الٹ تو نہیں ہوسکتا کیونکہ آزاد شخص پر غلامی نہیں آتی تو ان احادیث کو اس پر محمول کرنا پڑے گا کہ جب حضرت بریرہ کو آزاد کیا گیا تو ان کے خاوند آزاد تھے اور اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ جب کسی باندی کو آزاد کیا جائے تو اس کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ نکاح سابق کو برقرار رکھے یا نہ رکھے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریرہ سے ارشاد فرمایا: جاؤ! تمہارے ساتھ تمہاری فرج بھی آزاد ہوگئی ہے۔ (سنن دار قطنی ج ۳ ص ۲۱۹ دار المعرفة بیروت)
فتح باب العناية في شرح النقایة ج ۲ ص ۳۹۹-397 داراحیاء التراث العربی بیروت 1426ھ)
حدیث مذکور کے دیگر فوائد
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
(1) جب کسی بدعت کا وقوع ہو تو امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ لوگوں کو خطاب کرکے اس بدعت کا رد کرے، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا رد کیا، جنہوں نے حضرت بریرہ کو مکاتبہ کرنے کے لیے یہ شرط لگائی کہ ان کی ولاء وہ لیں گے۔
(۲) امام کے لیے یہ مستحب ہے کہ جب وہ کسی کے برے کام کا رد کرے تو لوگوں کے سامنے اس بُرائی کے مرتکب کا نام لے کر اس کو رسوا نہ کرے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہے جو ایسی شرط لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہے اور ان کا نام نہیں لیا۔
(۳) اس حدیث میں برائی کا ازالہ کرنے میں بہت مبالغہ فرمایا ہے اور اس کی بہت مذمت کی ہے۔
(۴) حضرت بریرہ کو مکاتبہ کیا گیا تھا اور ان کے شوہر کو مکاتب نہیں کیا گیا تھا، اس سے معلوم ہوا کہ بغیر شوہر کے صرف بیوی کو مکاتبہ کرنا جائز ہے یہ اس تقدیر پر ہے جب حضرت مغیث بھی غلام ہوں جیسا کہ بعض روایات میں ہے۔
(۵) جب کسی باندی کو مکاتب کردیا جائے تو اس کے شوہر کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اس کو زر کتابت کے حصول کے لیے تگ و دو کرنے سے منع کرے جیسا کہ حضرت مغیث نے حضرت بریرہ کو منع نہیں کیا۔
(۶) اس سے یہ بھی استدلال ہوسکتا ہے کہ مکاتبہ کے اوپر اس دوران اپنے خاوند کی خدمت کرنا لازم نہیں ہے۔
(۷) مکاتبہ کے خاوند کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی کو مکاتبہ ہونے سے منع کرے جب کہ اس کو یہ علم ہو کہ اگر اس کی بیوی آزاد ہوگئی تو وہ خیار عتق سے اس کے نکاح کو مسترد کرسکتی ہے کیونکہ حضرت بریرہ نے ایسا ہی کیا، اس کے باوجود حضرت مغیث نے ان کو مکاتبہ ہونے کی سعی سے منع نہیں کیا۔
(۸) شادی شدہ باندی کو فروخت کرنے سے اس پر طلاق واقع نہیں ہوتی کیونکہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت بریرہ کو خریدلیا تب بھی حضرت بریرہ ، حضرت مغیث کے نکاح میں تھیں تا آنکہ حضرت بریرہ نے خود نکاح سابق کومسترد کردیا۔
(۹) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت بریرہ کا زر کتابت قسط وار ادا کیا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر انکار نہیں فرمایا’ اس سے معلوم ہوا کہ زر کتابت کو نقد اور ادھار دونوں طرح ادا کرنا جائز ہے۔
(۱۰) جن روایات میں مذکور ہے کہ حضرت مغیث غلام تھے اور حضرت بریرہ آزاد کردی گئی تھیں تو اگر حضرت بریرہ اس سابق نکاح کو برقرار رکھتیں تو جائز تھا، اس طرح ایک آزاد عورت غلام کے نکاح میں ہوتی اس سے معلوم ہوا کہ آزاد عورت کا غلام سے نکاح جائز ہے اور اس سے غیر کفو میں نکاح کا جواز ثابت ہوا، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام میں ذات پات کا اعتبار نہیں بس فریقین کا مسلمان ہونا ضروری ہے یا پھر لڑکی کا اہل کتاب سے ہونا ضروری ہے۔
(11) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ باندی کا خبر دینا بھی معتبر ہے کیونکہ حضرت بریرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ خبر دی کہ ان کے مالکوں نے ان کو مکاتبہ کردیا ہے اور اس بناء پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کارروائی کی ۔عمدة القاری ج 4 ص ۳۳۵ – 334 دارالكتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۱ھ )
