۷۸ – بَابُ إِدْخَالِ الْبَعِيرِ فِي الْمَسْجِدِ لِلعِلَّة
کسی ضرورت کی بناء پر اونٹ کو مسجد میں داخل کرنا
بعض علماء نے اس باب کا یہ معنی بیان کیا ہے کہ جب آدمی پر ضعف طاری ہو تو وہ مسجد میں اونٹ پر سوار ہو کر آجائے، مگر امام بخاری نے جو عنوان قائم کیا ہے وہ عام ہے یعنی مسجد میں اونٹ پر سوار ہوکر آنا خواہ ضعف ہو یا نہ ہو، جیسا کہ حسب ذیل تعلیق ہے:
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاس طَاقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرٍ۔
اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہوکر طواف کیا۔
امام بخاری کی یہ تعلیق حسب ذیل کتب حدیث میں ہے اور خود امام بخاری نے بھی اس کی پوری سند کے ساتھ کتاب الحج میں روایت کی ہے صحیح البخاری : 1607 صحیح مسلم : ۱۲۷۲ سنن ابوداؤد : ۱۸۷۷ ، سنن نسائی:2954 ، سنن ابن ماجہ 2948۔
٤٦٤ – حَدَّثَنِي عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِك،ُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَن عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ امّ سَلَمَة قَالَتْ شَكَوْتُ إِلى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم انِي اشتَكِيْ، قَالَ طُوَفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَانت راكبة. فَطْفْتُ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يُصَلَّى إِلَى جَنبِ الْبَيْتِ، يَقْرَأ (وَالطُّورِ0 وکتاب مَّسْطُورٍ) (الطور: ۲-۱)
الطراف الحدیث:۱۶۱۹ 1626 – ۱۶۳۳ – 4853)
(صحیح مسلم:۱۲۷۶ الرقم المسلسل :1276 سنن ابوداؤد : ۱۸۸۲ سنن نسائی: 2925 سنن ابن ماجہ : 2961 سنن الکبری للنسائی: 3903، موطا امام مالک – کتاب الحج: 123 تنویر الحوالک ص 340، المنتقی :462 ، مسند ابو یعلی 6976، صحیح ابن خزیمہ: 2776 مصنف عبدالرزاق : 9021، صحیح ابن حبان: ۳۸۳۰ المعجم الكبير : ۸۰۴- ج ۲۳، سنن بیہقی ج 5 ص ۷۸ شرح السنة : 1911، مسند احمد ج 6 ص ۲۹۰ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۶۴۸۵ – ج ۴۴ ص ۸۶ مؤسسة الرسالة بیروت)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از محمد بن عبدالرحمان بن نوفل از عروه از زینب بنت ابی سلمه از حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں’ آپ نے فرمایا: تم لوگوں کے پیچھے سواری پر بیٹھ کر طواف کرو پس میں نے طواف کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے اور آپ یہ تلاوت کررہے تھے : ” والطور و کتاب مسطور“ (الطور :1-2)
حدیث مذکور کے رجال
(1) عبداللہ بن یوسف التنیسی
(۲) امام مالک بن انس
(۳) محمد بن عبد الرحمان بن الاسوہ بن نوفل ،المعروف بیتيم عروہ بن الزبیر
(۴) عروه ابن الزبیر
(۵) زینب بنت ابی سلمہ، عبد للہ بن الاسد المخزومی، ان کا نام پہلے برہ تھا پھر رسل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر زینب رکھ دیا
(۶) ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ان کا نام ھند بنت ابی امیہ تھا۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۴۵۴)
حلال جانوروں کے پیشاب کے پاک ہونے پر امام مالک کے دلائل اور دیگر فوائد حدیث
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں:
المہلب نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کو مسجد میں داخل کرنا جائز ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت کی وجہ سے اونٹ پر بیٹھ کر طواف کرنے کی اجازت دی ہے اور ان کے پیشاب سے مسجد نجس نہیں ہوتی اور باقی جانور جن کا گوشت کھایا نہیں جاتا ان کا مسجد میں داخل ہونا جائز نہیں ہے، اور یہی امام مالک کا قول ہے۔
جو شخص کسی سواری پر سوار ہو، اس کو چاہیے کہ وہ حتی الامکان لوگوں کے گزرنے کی جگہوں سے اجتناب کرے اور پیدل چلنے والوں سے الگ رہے اسی طرح خواتین کو چاہیے کہ وہ راستوں کے کناروں پر چلیں، بعض علماء نے اس حدیث سے یہ مستنبط کیا ہے کہ بھیڑ اور رش کی وجہ سے عورتیں مردوں کے پیچھے سے طواف کریں، کیونکہ طواف بھی حکما نماز ہے اور نماز میں عورتیں مردوں کے پیچھے کھڑی ہوتی ہیں، سو اسی طرح طواف میں بھی ہونا چاہیے۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۱۴۵ دار الکتب العلمیة بیروت 1424ھ )
حلال جانوروں کے پیشاب کے پاک ہونے پر امام احمد کے دلائل اور دیگر مسائل
علامہ عبد الرحمان بن شہاب الدین بغدادی ابن رجب حنبلی متوفی ۷۹۵ ھ لکھتے ہیں:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جن جانوروں کا گوشت کھانا حلال ہے، ان کو مسجد میں داخل کرنا جائز ہے۔
ہمارے اصحاب حنبلیہ اور اصحاب مالک نے کہا ہے کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب پاک ہے، انہوں نے کہا ہے کہ اگر اونٹ کا پیشاب نجس ہوتا تو اس کو مسجد میں داخل نہ کیا جاتا اور امام بخاری نے کتاب العلم میں حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے کہ انہوں نے اونٹ کو مسجد میں داخل کرکے باندھ دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ٹیک لگاکر بیٹھے ہوئے تھے۔ (صحیح البخاری: ۶۳)
بعض فقہاء نے کہا ہے کہ ان کا پیشاب نجس ہے اور ان کو مسجد میں داخل کرنا مکروہ ہے فقہاء شافعیہ نے اس کی تصریح کی ہے، انہوں نے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے بیان جواز کے لیے اونٹ پر سوار ہوکر طواف کیا ہے، ان کا یہ قول اس لیے صحیح نہیں ہے کہ آپ نے حضرت ام سلمہ کو اونٹ پر بیٹھ کر طواف کرنے کا حکم دیا۔
جن جانوروں کا گوشت کھایا نہیں جاتا، ان کو مسجد میں داخل کرنا بالاتفاق مکروہ ہے امام مالک نے کتوں اور شکاری پرندوں کے متعلق اس کی تصریح کی ہے اور امام احمد نے مسجد کے دروازے بند کرنے کی اجازت دی ہے تاکہ اس میں کتے داخل نہ ہوں۔
حضرت عمر سے روایت ہے کہ انہوں نے گھوڑے وغیرہ پر بیٹھ کر طواف کرنے سے منع کیا ہے، سفیان نے عمرو بن دینار سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے بیت اللہ میں گھوڑے پر بیٹھ کر طواف کیا تو لوگوں نے اس کو منع کیا’ اس نے کہا: تم مجھے منع کرتے ہو، پھر اس نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا، حضرت عمر نے جواب لکھا: اس کو منع کرو، علامہ ابن رجب نے کہا: حضرت عمر نے اس لیے منع کیا تھا تاکہ مسجد کی صفائی میں مبالغہ کیا جائے اور تاکہ سوار پیدل طواف کرنے والوں کو ایذاء نہ پہنچائے۔(فتح الباری لابن رجب حنبلی ج ۲ ص ۵۴۲ دار ابن الجوزی ریاض 1417ھ)
سواری پر بیٹھ کر طواف کرنے کے متعلق مذاہب فقہاء
علامہ عبدالرحمان بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی ۵۹۷ ھ لکھتے ہیں:
جو شخص معذر ہو، اس کا سوار ہوکر طواف کرنا جائز ہے اس میں سب کا اتفاق ہے، اور جو شخص غیر معذور ہو تو امام شافعی کے نزدیک اس کا بھی سوار ہوکر طواف کرنا جائز ہے امام احمد کی بھی ایک روایت اس طرح ہے، امام مالک اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس کا طواف ہوجائے گا لیکن اس پر ایک دم لازم آئے گا، یعنی اسے ایک قربانی کرنی ہوگی۔کشف المشکل ج ۱ ص ۲۹۰ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۴ھ )
باب مذکور کی حدیث کی توجیہ
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۲ھ لکھتے ہیں:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اوٹنی سدھائی ہوئی تھی اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی اوٹنی میں بھی یہی احتمال ہے، اس لیے ان سے یہ خطرہ نہیں تھا کہ وہ مسجد میں پیشاب کریں گی۔ (فتح الباری لابن حجر ج ۲ ص ۱۰۹ دار المعرفۃ بیروت، ۱۴۲۴ھ )
میں کہتا ہوں کہ حافظ ابن حجر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی اور حضرت ام سلمہ کی اونٹنی کی توجیہ تو کر دی لیکن حضرت ضمام بن ثعلبہ تو
پہلی بار مسجد میں آئے تھے اور انہوں نے اپنا اونٹ مسجد میں باندھ دیا تھا، اس کے متعلق تو یہ توجیہ نہیں ہوسکتی کہ ان کا اونٹ سدھایا ہوا تھا۔
حلال جانوروں کے پیشاب کے پاک ہونے پر امام مالک اور امام احمد کے استدلال کے مصنف کی طرف سے جوابات
میں کہتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اونٹنی پر بیٹھ کر طواف کیا، یا حضرت ضمام بن ثعلبہ نے جو مسجد میں اونٹ باندھا تھا’ اس سے اونٹ اور دیگر حلال جانوروں کے پیشاب کے پاک ہونے پر امام مالک اور امام احمد کا یہ استدلال کرنا صحیح نہیں ہے کہ ان کا پیشاب پاک ہے کیونکہ جس طرح ان کو مسجد میں داخل کرنے سے یہ خطرہ ہے کہ وہ پیشاب کر دیں گے، اسی طرح ان کو مسجد میں داخل کرنے سے یہ خطرہ بھی ہے کہ وہ مسجد میں گوبر یا لید کردیں گے تو پھر چاہیے کہ حلال جانوروں کے گوبر اور لید کو بھی پاک کہا جائے حالانکہ اس کا فقہاء میں سے کوئی بھی قائل نہیں ہے اور جب ان کا گوبر پاک نہیں ہے تو ان کا پیشاب بھی پاک نہیں ہونا چاہیے کیونکہ دلیل واحد ہے
نیز عہد رسالت میں چھوٹے بچوں کو بھی مسجد میں داخل کیا جاتا تھا تو کیا اس وجہ سے ان کے پیشاب کو بھی پاک قرار دیا جائے گا ؟
دوسرا جواب یہ ہے کہ اس حدیث سے حلال جانوروں کے پیشاب کا اگر بالفرض پاک ہونا ثابت بھی ہو تو دوسری صحیح احادیث اس کے خلاف ثابت ہیں:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اکثر قبر کا عذاب پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے۔ امام دارقطنی نے کہا: اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (سنن ابن ماجہ: ۲۳۸، مسند احمد ج ۲ ص ۳۸۹-326-۳۸۸ مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱ ص ۱۲۱ سنن دار قطنی : ۴۵۸ المستدرک ج 1 ص ۱۸۳ الشریعة للآجری: ۳۶۳- 362 سنن بیہقی ج ۲ ص ۴۱۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیشاب سے بچو، کیونکہ عام عذاب قبر پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے۔ امام دارقطنی نے کہا: صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے۔ (سنن دار قطنی : ۴۵۷ دار المعرفة بیروت 1422ھ )
امام مالک اور امام احمد نے جس حدیث سے حلال جانوروں کے پیشاب کے پاک ہونے پر استدلال کیا ہے وہ زیادہ سے زیادہ اباحت پر دلالت کرتی ہے اور یہ احادیث صریحہ مطلقا پیشاب کے حرام اور نجس ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور جب اباحت اور تحریم کے دلائل میں تعارض ہو تو تحریم کو ترجیح دی جاتی ہے لہذا صحیح یہی ہے کہ حلال جانوروں کا پیشاب نجس ہے جیسا کہ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی کا مذہب ہے حیرت ہے کہ اس حدیث کی شرح میں علامہ بدرالدین عینی حنفی اور علامہ ابن حجر عسقلانی شافعی نے حلال جانوروں کے پیشاب کے پاک ہونے پر علامہ ابن بطال کی دلیل تو ذکر کی ہے لیکن اپنے موقف پر کوئی دلیل قائم نہیں کی اور نہ اس حدیث کا کوئی جواب لکھا ہے علامہ ابن حجر نے صرف یہ لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی سدھائی ہوئی تھی اور حضرت ام سلمہ کی اونٹنی میں بھی یہی احتمال ہے، لیکن حضرت ضمام بن ثعلبہ کے اونٹ میں ان کا یہ جواب جاری نہیں ہوگا، وہ تو پہلی بار مسجد میں اونٹ پر بیٹھ کر آئے تھے اور اسی دن اسلام لائے، اس لیے باب مذکور کی حدیث سے امام مالک اور امام احمد کے استدلال کے صحیح جوابات وہی ہیں جن کو اللہ تعالی کی توفیق اور اس کی تائید سے ہم نے ذکر کیا ہے۔
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۲۹۷۴ – ج ۳ ص ۵۰۳ پر ہے اس کی شرح کا عنوان ہے: حلال جانوروں کے بول و براز میں مذاہب ائمہ ۔
