Site icon اردو محفل

کتاب الصلوۃ  باب 80  حدیث نمبر 466

۸۰ – بَابُ الْخَوْخَةِ وَالْمَمَرِ فِي الْمَسْجِدِ

مسجد میں ذیلی دروازہ اور گزرنے کی جگہ

اس باب سے امام بخاری کا مقصود یہ ہے کہ مسجد میں ذیلی دروازہ اور گزرنے کا راستہ بنانا جائز ہے ذیلی دروازہ سے مراد یہ ہے کہ مسجد کے صدر دروازہ کے علاوہ کوئی چھوٹا دروازہ ہو مسجد نبوی میں ایسے متعدد چھوٹے چھوٹے دروازے تھے جو مختلف صحابہ کرام کے گھروں کی جانب کھلتے تھے۔

٤٦٦ – حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ حَدَّثَنَا فَلَيْح قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ بُسْر بنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِي قَالَ خَطْبَ النَّبِی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللهَ خَيَّرَ عَبْدًا بَین الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِندَهُ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَاللهِ. فَبکی ابوبکر رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِى مَا يُبكي هذا الشَّيخ إِنْ یكُن الله خَيْرَ عَبْدًا بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَاعِندَهُ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَ اللهِ؟ فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْعَبْدُ وَكَانَ أَبُوبَكْرِ اعْلَمَنَا قَالَ يَا اَبا بَكْر لَا تُبْكِ ، اَنَّ اَمَنَّ النَّاسِ عَلَى فِى صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُوبَكْرٍ، وَلَوْ كُنتُ مُتَخِذَا خَلِيلًا من أُمَّتِي لَا تَخَذَتْ ابَابَكْرٍ، وَلَكِن أخوة الاسلام ومَوَدَّتُهُ لَا يَبْقَينَ فِي الْمَسْجِدِ بَابٌ إِلَّا سُدَّ إِلَّا بَاب ابی بکر۔

اطراف الحدیث: 3654-3904-

صحیح مسلم : ۲۳۸۲ سنن ترمذی:3660، سنن ابن ماجہ:93، سنن الکبری للنسائی: 8103، مسند احمد ج ۳ ص ۱۸ طبع قدیم، مسند احمد  ج ۱۷ ص ۲۱۶ ۲۱۵ جامع المسانيد لابن الجوزی: ۱۹۹۰ مکتبہ الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ )

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن سنان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں فلیح نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو النصر نے حدیث بیان کی، از عبید بن حنین از بسر بن سعید از حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، پس آپ نے فرمایا: اللہ تعالی نے ایک بندہ کو دنیا کے درمیان اور جو اللہ کے پاس ہے اس کے درمیان اختیار دیا پس اس بندے نے اس کو اختیار کرلیا جو اللہ کے پاس ہے سو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے تو میں نے اپنے دل میں کہا: اس بوڑھے کو کیا چیز رلا رہی ہے اگر اللہ نے ایک بندے کو دنیا کے درمیان اور جو اللہ کے پاس ہے اس میں اختیار دیا ہے اور اس بندے نے اس کو اختیار کر لیا جو اللہ کے پاس ہے؟ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ بندے تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ علم والے تھے آپ نے فرمایا: اے ابوبکر ! تم مت روئو’ بے شک لوگوں میں سب سے زیادہ اپنی رفاقت میں مجھ پر احسان کرنے والے تم ہو اور اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو میں ابوبکر کو خلیل بناتا لیکن اسلام کے اعتبار سے بھائی ہونے کا رشتہ اور دوستی اپنی جگہ قائم ہے مسجد میں کوئی دروازہ باقی نہیں رکھا جائے گا مگر اس کو بند کردیا جائے گا سوائے ابوبکر کے دروازہ کے۔

حدیث مذکور کے رجال

(۱) محمد بن سنان

(۲) فلیح بن سلیمان ،ان کا نام عبدالملک تھا اور ان کا لقب فلیح تھا، لیکن نام کی جگہ ان کا لقب مشہور ہوگیا

(۳) ابو النضر ،ان کا نام سالم بن ابی امیہ ہے۔

(۴) عبید بن حنین ابو عبدالله المدنی

(۵) بسر بن سعید

(۶) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ،ان کا نام سعد بن مالک ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۵۷)

اس حدیث کی باب کے ساتھ مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں “خوخة“ کا ذکر ہے اور “خوخہ “ کا معنی ہے: چھوٹا دروازه یا ذیلی دروازہ اور یہی باب کا عنوان ہے۔

تمام صحابہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، سب سے زیادہ فہم وفراست والے تھے

اس حدیث میں مذکور ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ بندے تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ علم والے تھے۔ کیونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ جان لیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس بندے کے متعلق فرمایا ہے کہ اسے دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا گیا ہے، اس سے آپ کی مراد اپنی ذات ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں جس بندے کو اختیار دیا گیا تھا، اس کو مبہم رکھا اور اس کا نام ذکر نہیں کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ صحابہ میں کون سب سے زیادہ فہم و فراست والا ہے اور وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت کا واقعہ تھا، جیسا کہ عنقریب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ظاہر ہوجائے گا۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے رسول اللہ صلی  اللہ علیہ وسلم پر احسان کا معنی

اس حدیث میں مذکور ہے: آپ نے حضرت ابوبکر سے فرمایا: بے شک لوگوں میں سب سے زیادہ اپنی رفاقت میں مجھ پر احسان کرنے والے تم ہو ۔

اس حدیث سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے ایسے فضائل اور حقوق ثابت ہوئے، جن میں مخلوق میں سے ان کا کوئی شریک نہیں ہے اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ حضرت ابوبکر اپنی جان اور اپنے مال کو سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نچھاور کرنے والے تھے، علامہ قرطبی نے کہا: اس کا معنی یہ ہے کہ حضرت ابوبکر کے لیے ایسے حقوق تھے، اگر دوسرے کے لیے ایسے حقوق ہوتے تو وہ ان کی وجہ سے احسان جتاتا کیونکہ انہوں نے سب سے پہلے آپ کی نبوت کی تصدیق کی، جب آپ نے غزوہ تبوک میں مال کی اپیل کی تو اپنا سارا کا سارا مال آپ کی خدمت میں پیش کردیا، ہجرت کی رات آپ کے لیے اپنی جان خطرہ میں ڈالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مکارم اخلاق کی وجہ سے ان کے ان تمام احسانات کا اعتراف کیا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کا بھی ہم پر احسان تھا، ہم نے اس کا بدلہ اتار دیا، سوائے ابوبکر کے، اس کا ہم پر ایسا احسان ہے، جس کا بدلہ قیامت کے دن اللہ اتارے گا اور مجھے کسی کے مال سے ایسا فائدہ نہیں پہنچا، جیسا فائدہ مجھے ابوبکر کے مال سے پہنچا ہے اور اگر میں کسی کو (دنیاوی) خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا سنو! تمہارے پیغمبر اللہ عزوجل کے خلیل ہیں۔(سنن ترمذی : ۳۶۶۱ مسند احمد ج ۲ ص ۲۵۳)

” خلیل “ کے متعدد معانی

اس حدیث میں مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا: اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو میں ابوبکر کو خلیل بناتا۔

خلیل “ کا معنی ہے: جو اپنے راستہ میں تمہارے موافق ہو، جو تمہاری سیرت کا مظہر ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیل ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر ہیں، ایک قول یہ ہے کہ ” خلت ” کا معنی ہے: انقطاع یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے منقطع ہوکر صرف اللہ عزوجل کی طرف راجع ہوگئے ایک قول یہ ہے کہ خلیل وہ ہے جس کے دل میں اپنے خلیل کے سوا اور کسی کی گنجائش نہ ہو قاضی عیاض نے کہا: ” خلت “ کا معنی افتقار ہے یعنی آپ صرف اللہ تعالیٰ کی طرف مفتقر اور اس کے محتاج ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو خلیل بنایا یعنی آپ کی نصرت کی اور آپ کو آپ کے بعد والوں کا امام بنادیا۔

آپ نے فرمایا: اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو حضرت ابوبکر کو خلیل بناتا اس کا معنی یہ ہے کہ حضرت ابوبکر اپنی ذات اور صفات کے اعتبار سے اس لائق تھے اور ان میں یہ استعداد اور صلاحیت تھی کہ آپ ان کو اپنا خلیل بنالیتے کیونکہ ان کا دل اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی محبت سے سرشار تھا اور ان کے دل میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت کے سوا اور کسی کی محبت کی گنجائش نہ تھی اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ خلیل کا زیادہ مرتبہ ہے یا حبیب کا زیادہ مرتبہ ہے اور حق یہ ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے خلیل بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حبیب بھی ہیں۔

حضرت ابوبکر کی خصوصی تکریم

اس حدیث میں مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا: مسجد میں کوئی دروازہ باقی نہیں رکھا جائے گا، مگر اس کو بند کردیا جائے گا سوائے ابوبکر کے دروازے کے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اس پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت ابوبکر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ خصوصیت حاصل ہے،  جو اور کسی کو حاصل نہیں ہے اور آپ نے حضرت ابوبکر کا وہ اکرام کیا ہے، جو کسی اور کا اکرام نہیں کیا۔

اور آپ کے اس ارشاد میں یہ اشارہ ہے کہ آپ کے نائب اور آپ کے بعد خلیفہ حضرت ابوبکر ہوں گے کیونکہ ان کو کارِ خلافت انجام دینے کے لیے اور نماز پڑھانے کے لیے مسجد میں آنے کی ضرورت ہوگی لہذا صرف ان ہی کے گھر کی طرف کھلنے والے دروازہ کو باقی رہنے دیا جائے گا، باقی سب دروازوں کو بند کردیا جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو نماز پڑھانے کا حکم دیا اور اس سے صحابہ نے یہ استدلال کیا کہ دین کا سب سے بڑا اور سب سے اہم رکن نماز ہے اور جب نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو امام بنادیا ہے تو دین کے باقی امور میں بھی امامت اور قیادت کے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی لائق ہیں۔

حضرت علی کے دروازہ کے سوا باقی دروازوں کو بند کرنے کی حدیث اور اس کی سند پر بحث و نظر

اس حدیث پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق بھی ایسی ہی حدیث مروی ہے:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سوا مسجد کے تمام دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا۔ (سنن ترمذی: 3732 مسند احمد ج 1ص۳۳۰)

امام ابوعیسی ترمذی نے کہا: یہ حدیث غریب ہے،  ہم اس حدیث کو صرف شعبہ کی اس سند سے پہچانتے ہیں۔( سنن ترمذی ص ۱۴۲۳ – ۱۴۲۲ دار المعرفۃ بیروت )

علامہ شعیب الارنوط اس حدیث کی سند کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

شیخ ابن تیمیہ نے کہا: اس حدیث کو شیعہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے مقابلہ میں حضرت علی کی فضیلت ثابت کرنے کے لیے گھڑلیا ہے حضرت ابوبکر کے لیے صحیح بخاری: ۴۶۷ میں حضرت ابن عباس سے اور صحیح مسلم : ۲۳۸۲ میں حضرت ابوسعید خدری سے اور صحیح مسلم : ۲۳۸۳ میں حضرت ابن مسعود سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: مسجد میں کوئی دروازہ باقی نہیں رہنے دیا جائے گا مگر اس کو بند کردیا جائے گا سوائے ابوبکر کے دروازہ کے تو شیعہ نے جعلی سند وضع کرکے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے بھی ایسی حدیث بنالی۔

امام ابن ابی حاتم نے لکھا ہے کہ اس حدیث کو امام عبدالرزاق اور امام احمد نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں عثمان الجزری ہے میں نے امام احمد سے عثمان الجزری کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: وہ احادیث منکرہ روایت کرتا ہے اور اس کی کتاب گم ہوچکی تھی ۔ ( الجرح والتعدیل ج 6 ص ۱۷۴)

یہ حدیث حضرت مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ المعجم الکبیر ۴۸۲۔ ج۱۹) علامہ ابن جوزی نے کہا: اس کی سند میں دو راوی بہت زیادہ ضعیف ہیں ۔ (العلل المتناہیہ ج ۱ ص ۲۱۱)

علامہ ابن جوزی نے لکھا ہے: امام احمد نے کہا: یہ حدیث منکر ہے۔ (الموضوعات ج ا ص ۳۶۶)

علامہ ذہبی نے کہا ہے کہ عمرو بن میمون نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ حضرت علی کے دروازہ کے سوا سب دروازے بند کردو، یہ حدیث منکر ہے۔ (لسان المیزان ج 4 ص ۱۳۸۴ )

حضرت علی کے دروازے کے سوا باقی دروازوں کو بند کرنے کے متعلق اور بھی احادیث ہیں، علامہ ابن جوزی نے کہا: ان احادیث میں سے کسی حدیث کی سند صالح نہیں ہے۔ (الموضوعات ج اص ۳۶۵)

( حاشیہ مسند احمد ج ۵ ص ۷ ۱۸ – ۱۸۲ مؤسسة الرسالة بیروت)

حضرت علی کے دروازہ کے سوا باقی دروازوں کو بند کرنے کے متعلق دیگر احادیث

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ لکھتے ہیں:

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : علی کے دروازہ کے سوا باقی تمام دروازوں کو بند کردو تو اس پر لوگوں نے نکتہ چینی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم ! بے شک میں نے کسی چیز کو بند کیا نہ میں نے کسی چیز کو کھولا ہے لیکن مجھے جس چیز کا حکم دیا گیا ہے، میں نے اس کی پیروی کی ہے، اس حدیث کو امام احمد امام نسائی اور حاکم نے ثقہ راویوں سے بیان کیا ہے۔ (السنن الکبری للنسائی: ۸۳۶۹ المستدرک ج ۳ ص ۱۲۵ مسند احمد ج 4 ص ۳۶۹)

امام طبرانی نے ثقہ راویوں کی سند کے ساتھ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ علی کے دروازے کے سوا تمام دروازے بند کر دیئے جائیں تو لوگوں نے کہا: یارسول اللہ ! علی کے دروازے کے سوا تمام دروازے بند کر دیئے گئے تو آپ نے فرمایا : میں نے تمہارے دروازوں کو بند نہیں کیا لیکن اللہ نے ان دروازوں کو بند کیا ہے۔المعجم الأوسط : 393، دارالكتب العلمیہ، بیروت 1420ھ مسند احمد ج 4 ص ۳۶۹ المستدرک ج ۳ ص 125 )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مسجد کے تمام دروازے بند کردیئے جائیں سوا حضرت علی کے دروازہ کے۔ (السنن الکبری للنسائی: ۸۳۷۳)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : حضرت علی کے دروازے کے سوا مسجد کے تمام دروازے بند کردیئے گئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوتے تھے اور وہ جنبی ہوتے تھے اور ان کے لیے اس دروازہ کے سوا اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ السنن الکبری: ۸۳۷۴-۸۳۵۵)

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کہا کرتے تھے : تمام لوگوں میں افضل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پھر حضرت ابوبکر ہیں، پھر حضرت عمر ہیں اور حضرت ابن ابی طالب کو تین وصف دیئے گئے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک وصف بھی مجھے مل جاتا تو وہ میرے نزدیک سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب تھا (۱) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صاحب زادی سے ان کا نکاح کیا اور ان سے ان کی اولاد ہوئی (۲) اور ان کے دروازہ کے سوا مسجد کے تمام دروازے بند کردیئے گئے (۳) اور آپ نے جنگ خیبر کے دن ان کو جھنڈا عطا کیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج 12 ص ۹ مسند ابو یعلی : ۵۶۰۱ مسند احمد ج ۲ ص ۲۶ مسند احمد : ۴۷۹۷- ج ۸ ص 416 مؤسسة الرسالة بیروت )

امام نسائی نے العلاء بن عراء سے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر سے کہا کہ مجھے حضرت علی اور حضرت عثمان کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے یہ حدیث ذکر کی اور کہا : حضرت علی کے متعلق کسی سے سوال نہ کرو یہ دیکھو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ان کا کیا مرتبہ تھا، مسجد میں ہمارے دروازے بند کر دیئے گئے اور ان کا دروازہ برقرار رکھا گیا۔

حضرت علی کے دروازہ کو باقی رکھنے کی احادیث کی تقویت

یہ تمام احادیث ایک دوسرے کی تقویت کرتی ہیں اور ان میں سے ہر حدیث استدلال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، چہ جائیکہ ان احادیث کا مجموعہ علامہ ابن جوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں درج کیا ہے اور انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت زید بن ارقم اور حضرت ابن عمر کی روایات کو اختصار سے ذکر کیا ہے اور بعض محدثین نے جو ان کی سندوں پر جرح کی ہے اس کو نقل کیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ حدیثیں بہت سندوں سے مروی ہیں اور علامہ ابن جوزی نے اس حدیث پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ حدیث ان احادیث صحیحہ کے خلاف ہے جن میں یہ فضیلت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے ثابت ہے اور ان کا یہ زعم ہے کہ یہ حدیث رافضیوں نے اس صحیح حدیث کے مقابلہ میں گھڑلی ہے، جس میں یہ فضیلت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے ثابت ہے۔

حضرت ابوبکر اور حضرت علی کے دروازوں کو باقی رکھنے کے متعلق وارد حدیثوں میں تطبیق

یہ علامہ ابن جوزی کی سنگین خطا ہے کہ وہ احادیث صحیحہ کو رد کرنے کے طریقہ پر چل پڑے ہیں اور ان کا یہ وہم ہے کہ یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث کے معارض ہے کیونکہ ان دونوں قصوں کو جمع کرنا ممکن ہے اور امام بزار نے اپنی مسند میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے انہوں نے کہا: اہل کوفہ کی روایات اسانید حسنہ کے ساتھ حضرت علی کے قصہ میں ہیں اور اہل مدینہ کی روایات حضرت ابوبکر کے قصہ میں ہیں، پس اگر اہل کوفہ کی روایات ثابت ہوں تو ان کی اہل مدینہ کی روایات کے ساتھ تطبیق اس طرح سے ہے کہ حدیث میں ہے:

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے علی ! میرے اور تمہارے سوا کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس مسجد میں جنبی ہو ۔ علی بن منذر نے کہا: میں نے ضرار بن صرد سے پوچھا: اس حدیث کا کیا معنی ہے؟ انہوں نے کہا: میرے اور تمہارے سوا اور کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ حالت جنابت میں اس مسجد سے گزرے یا اس مسجد کو راستہ بنائے ۔ (سنن ترمذی: ۳۷۲۷)

اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دروازہ مسجد کی طرف تھا اور ان کے گھر کا اور کوئی دروازہ نہیں تھا، اس لیے آپ نے ان کے دروازہ کو بند کرنے کا حکم نہیں دیا اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کے سوا اور کسی کو بھی مسجد میں حالت جنابت کے ساتھ گزرنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ ان کے گھر کا دروازہ مسجد میں تھا اور دونوں حدیثوں میں تطبیق کا خلاصہ یہ ہے کہ مسجد میں کھلنے والے ایک دروازے کے سوا باقی تمام دروازوں کو دو مرتبہ بند کرنے کا حکم دیا گیا’ ایک مرتبہ حضرت علی کے لیے اور دوسری مرتبہ حضرت ابوبکر کے لیے اور یہ تطبیق اس وقت مکمل ہوگئی جب حضرت علی کے قصہ میں دروازے سے مراد حقیقی دروازہ (صدر دروازہ ) ہو اور حضرت ابوبکر کے قصہ میں دروازہ سے مراد مجازی دروازہ ہو (ذیلی دروازہ) گویا کہ جب صحابہ کے دروازے بند کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے مسجد میں داخل ہونے کے لیے ایک چھوٹا دروازہ بنالیا، جس کو خوخہ” کہتے ہیں پھر بعد میں حضرت ابوبکر کے قصہ میں ان چھوٹے دروازوں کو بھی بند کرنے کا حکم دیا سوائے حضرت ابوبکر کے ذیلی دروازہ کے اس طریقہ سے ان دونوں حدیثوں میں تطبیق ہوجائے گی امام ابو جعفر طحاوی نے بھی مشکل الآثار میں اسی طرح سے ان حدیثوں میں تطبیق دی ہے۔(فتح الباری ج 4 ص 748-749 دارالمعرفة بیروت 1426ھ)

علامہ بدرالدین عینی نے بھی اسی طرح لکھا ہے۔ (عمدۃ القاری ج 16 ص ۲۴۵ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۱ھ )

امام ابوجعفر احمد بن محمد الطحاوی متوفی ۳۲۱ھ کی عبارت یہ ہے:

مسجد کے دروازوں کے بند کرنے کے عمومی حکم سے حضرت ابوبکر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما دونوں کے دروازے مستثنیٰ ہیں اور جس کے دروازہ کے سوا باقی دروازوں کو بند کرنے کا بعد میں حکم دیا تھا، اس سے پہلے جس کے لیے دروازہ باقی رکھنے کا حکم دیا تھا اس سے رجوع نہیں فرمایا تھا ( پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دروازہ کو باقی رکھنے کا حکم دیا تھا) بعد میں مرض الموت میں حضرت ابوبکر کے دروازہ کو باقی رکھنے کا حکم دیا تھا ) پس حضرت ابوبکر کا دروازہ اور حضرت علی کا دروازہ دونوں مستثنی ہیں اور یہ دروازوں کو بند کرنے کے عمومی حکم سے خارج ہیں اور یہ حضرت ابوبکر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما دونوں کی خصوصیت ہے، جیسا کہ دوسرے اصحاب کی اور خصوصیات ہیں۔ تحفہ الاغیار بترتیب شرح مشکل الآثار ج 9 ص ۱۴۰ دار بلنسية رياض 1420ھ)

ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی ۱۰۱۴ ھ لکھتے ہیں:

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے دروازہ باقی رکھنے کی جو حدیث ہے، وہ پہلے کا واقعہ ہے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے جو دروازہ باقی رکھنے کی حدیث ہے وہ بعد کا واقعہ ہے جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم پر مرض الموت طاری ہوا تھا، پھر ملا علی قاری نے اپنی شرح میں ان تمام احادیث کو نقل کیا ہے، جن کو حافظ ابن حجر عسقلانی نے حضرت علی کے لیے دروازہ باقی رکھنے کے ثبوت میں ذکر کیا ہے۔ (مرقاة المفاتح ج 10 ص ۴۷۸ المكتبة الحقانیة پشاور )

شیخ عبدالحق محدث دہلوی متوفی ۱۰۵۲ھ نے حافظ ابن حجر عسقلانی کے حوالے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں دروازہ باقی رکھنے کے ثبوت میں تمام احادیث کو ذکر کیا ہے اور حضرت ابوبکر کے لیے مسجد کے دروازہ کی بقاء اور حضرت علی کے لیے مسجد میں دروازہ کی بقاء کی حدیثوں میں وہ تطبیق ذکر کی ہے، جو حافظ ابن حجر نے بیان کی ہے نیز لکھا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے دروازہ کی بقاء کا قصہ پہلے کا واقعہ ہے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے لیے دروازہ کی بقاء کا قصہ بعد کا واقعہ ہے۔ اشعتہ اللمعات ج 4 ص 647-648 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ )

شیخ محمد عبد الرحمان مبارک پوری متوفی ۱۳۵۳ھ نے بھی شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی لمعات کے حوالے سے اس کا خلاصہ لکھا ہے۔ ( تحفة الاحوذی ج ۱ ص ۲۲۲ ۲۲۱ ، دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۱۹ھ )

خلاصہ یہ ہے کہ تمام شارحین حدیث نے حضرت علی  رضی اللہ عنہ کے لیے اس فضیلت کو ثابت کیا ہے اور شیخ ابن تیمیہ اور علامہ ابن جوزی کا رد کیا ہے۔

Exit mobile version