امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں احمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابن وہب نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے یونس بن یزید نے خبر دی از ابن شہاب انہوں نے کہا: مجھے عبدالله بن كعب بن مالک نے حدیث بیان کی کہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مسجد کے اندر اپنے قرض کا تقاضا کیا، پھر دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں، حتی کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آوازوں کو اپنے گھر میں سن لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی طرف نکلے، حتی کہ آپ نے اپنے حجرہ کا پردہ کھولا اور آپ نے آواز دی اے کعب بن مالک! انہوں نے کہا: میں حاضر ہوں یارسول اللہ ! آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ تم اپنا آدھا قرض کم کردو حضرت کعب نے کہا: یا رسول اللہ ! میں نے کردیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حضرت ابن ابی حدرد سے ) فرمایا : اٹھو اب قرض ادا کردو۔
اس حدیث کی مفصل شرح صحیح البخاری: ۴۵۷ میں گزر چکی ہے وہاں اس حدیث کا عنوان تھا: مسجد میں تقاضا کرنا اور مقروض کو پکڑنا اور یہاں عنوان ہے: مسجد میں آواز بلند کرنا اور یہ حدیث ان دونوں عنوانوں کی صلاحیت رکھتی ہے۔