۸۸ – بَابُ تَشْبِيكِ الْأَصَابِعِ في الْمَسْجِدِ وَغَيْرِه
مسجد وغیرہ میں انگلیوں کے اندر انگلیاں ڈالنا
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ انگلیوں کے اندر انگلیاں ڈالنا جائز ہے، خواہ مسجد میں انگلیوں کے اندر خواہ کسی اور جگہ۔
٤٧٩٠٤٧٨ – حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ بِشَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا وَاقِدٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَوِ ابْنِ عَمْرٍو، قَالَ شَبَّكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ أَصَابِعَة. الطرف الحديث :480
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں حامد بن عمر نے حدیث بیان کی از بشر ، انہوں نے کہا ہمیں عاصم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں واقد نے حدیث بیان کی از والد خود از حضرت ابن عمر یا ابن عمرو رضی اللہ عنہما انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں میں انگلیاں ڈالیں۔
٤٨٠ – وَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَلِي حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْن مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَبِي، فَلَمْ احْفَظْه فَقَوَّمَهُ لِي وَاقِدٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتَ ابِي وَهُوَ يَقُول قَالَ عَبْدُاللهِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ُيَا عَبْدَاللَّهِ ابْنَ عَمْرٍو، كَيْفَ بِكَ إِذَا بَقِيتَ فِي حُتَالَةٍ منَ النَّاس بهذا ؟ (مسند الحميد : ۷۷۲ مصنف عبدالرزاق:20741 مسند ابو یعلی : ۵۵۹۳، صحیح ابن حبان :5950-5951 المعجم الکبیر: 5968 – ۵۸۸۴ مجمع الزوائد ج 7 ص ۲۷۹ مسند احمد ج ۲ ص 162 طبع قدیم مسند احمد : ۶۵۰۸ – ج 11 ص 54
اور عاصم بن علی نے کہا : ہمیں عاصم بن محمد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں نے یہ حدیث اپنے والد سے سنی تھی، میں نے اس کو محفوظ نہیں رکھا پھر واقد نے اپنے والد کے واسطے سے نقل کرکے مجھے بتایا: میں نے اپنے والد سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ بن عمرو! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم لوگوں کے تلچھٹ میں اس طرح باقی رہ جاؤ گے (پھر آپ نے اپنی انگلیاں انگلیوں میں ڈالیں)۔
حدیث : ٤٨٠ – ٤٧٨ کے رجال کا تعارف
(1) حامد بن عمر البکراوی یہ ابوبکر الثقفی کی اولاد سے ہیں، یہ نیشاپور میں رہتے تھے اور کرمان کے قاضی تھے ان سے امام مسلم نے بھی روایت کی ہے یہ ۲۳۴ھ میں نیشاپور میں ہی فوت ہوگئے
(۲) بشر بن المفضل الرقاشی یہ حجت ہیں یہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے اور ہر روز چار سو رکعات پڑھتے تھے ۱۸۹ ھ میں فوت ہوگئے تھے
(۳) عاصم بن محمد بن زید بن عبدالله بن عمر بن الخطاب العمری المدنی، ان کی امام احمد وغیرہ نے توثیق کی ہے
(۴) عاصم مذکور کے بھائی ،یہ واقد بن محمد بن زید ہیں ان کی امام ابوزرعہ وغیرہ نے توثیق کی ہے
(۵) ان کے والد محمد بن عبداللہ ان کی بہت ائمہ نے توثیق کی ہے
(۶) حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی الله عنہما
(۷) حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما
(۸) ابو عبد اللہ ، س سے مراد خود امام بخاری ہیں
( ۹ ) عاصم بن علی بن عاصم بن صہیب الواسطی، یہ امام بخاری اور امام دارمی کے شیخ ہیں، تہذیب التہذیب میں لکھا ہے: یہ ثقات شیوخ سے تھے ابن معین نے کہا: یہ ضعیف تھے ایک روایت میں ہے یہ کچھ بھی نہیں تھے دوسری روایت میں ہے: یہ کذاب تھے یہ ۱۵ رجب ۲۲۱ ھ میں فوت ہوگئے تھے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۸۳-۳۸۲)
حدیث مذکور کا مکمل متن
علامہ بدرالدین عینی نے امام الحمیدی کی الجمع بین الصححین کے حوالہ سے مسند ابن عمر میں حدیث مذکور کا مکمل متن اس طرح لکھا ہے:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا عبداللہ بن عمرو! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم لوگوں کے تلچھٹ میں اس طرح رہ جاؤ گے اور آپ نے اپنی انگلیاں انگلیوں میں ڈالیں ان کی عہود اور امانتیں خلط ملط ہوجائیں گی پھر وہ اس طرح ہو جائیں گے پھر آپ نے اپنی انگلیاں انگلیوں میں ڈالیں، حضرت عبداللہ بن عمرو نے پوچھا: یا رسول اللہ ! میں اس وقت کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: جو نیک بات ہو اس پر عمل کرنا اور جو بُری بات ہو اس کو چھوڑ دینا اپنے خاص لوگوں کی طرف آنا اور عام لوگوں کو چھوڑ دینا ۔ (عمدۃ القاری ج 4طص 282 مسند احمد ج ۲ ص ۱۶۲)
حثاله ” کا معنی
کسی چیز کا اصل جو ہر نکلنے کے بعد جو اس کے ردی اجزاء باقی رہ جاتے ہیں اس کو حثالہ ” کہتے ہیں اردو میں اس کو تلچھٹ کہتے ہیں یا جیسے بادام یا سرسوں کا تیل نکالنے کے بعد پھوک باقی رہ جاتا ہے، جس کو کھل کہتے ہیں یا جیسے آٹا چھاننے کے بعد بھوسی رہ جاتی ہے یا جیسے تیل صاف کرنے کے بعد یا شربت صاف کرنے کے بعد یا کسی چیز کے عرق کو کپڑے سے چھاننے کے بعد اس کا گاڑھا سیال مادہ بچ جاتا ہے یا جیسے مٹی کے تیل کو صاف کر کے پٹڑول نکالتے ہیں، پھر جو گاڑھا سیال بچ جاتا ہے جس کو ڈیزل اور موبل آئل کا نام دیا جاتا ہے تارکول بھی اسی کی قسم ہے یہاں مراد یہ ہے کہ جب نیک لوگوں کے اٹھ جانے کے بعد گھٹیا اور ردی لوگ رہ جائیں گے اور علماء کے اٹھ جانے کے بعد جہلاء رہ جائیں گئے اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا ! تم ان لوگوں کے ساتھ خلط ملط اور گھتم گتھا ہوجاؤگے اس طرح پھر آپ نے انگلیوں میں انگلیاں ڈالیں۔
مرجت عهودهم “ کا معنی
مرج ” کا معنی ہے: دو چیزوں کا ملانا مرجت عهودهم ” کا معنی ہے: لوگ اپنے کیے ہوئے عہود کو خلط ملط کر دیں گے اور ان کو پورانہیں کریں گے اور “مرجت امانتهم ” کا معنی ہے: لوگ امانتوں کو ضائع کر یں گے۔
انگلیوں میں انگلیاں ڈالنے میں اختلاف فقہاء
علامہ ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد وغیرہ میں تشبیک کرنا جائز ہے یعنی انگلیوں میں انھیاں ڈالنا امام مالک اور ابراہیم نخعی نے نماز میں تشبیک سے منع کیا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: 4828) اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور سالم نے نماز میں تشریک کی اجازت دی ہے، وہ خود بھی نماز کے اندر انگلیوں میں انگلیاں ڈالتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: ۴۸۳۱-۴۸۲۹) اور حسن بصری مسجد میں تشبیک کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۴۸۳۰) یعنی انگلیوں میں انگلیاں ڈالتے تھے اور امام مالک نے کہا: یہ لوگ مسجد میں تشبیک سے منع کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۱۶۹ دار الکتب العلمیة بیروت ۱۴۲۴ھ )
معمولی تغیر سے علامہ عینی متوفی ۸۵۵ھ اور علامہ ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ نے بھی اس عبارت کو نقل کیا ہے۔ عمدة القاری ج 4 ص 383 فتح الباری ج ۲ ص 116)
مسجد کو جاتے وقت اور مسجد میں تشبیک کی ممانعت میں احادیث اور آثار
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اچھی طرح وضوء کرے پھر نماز کے قصد سے مسجد کی طرف نکلے تو وہ اپنی انگلیوں میں تشبیک نہ کرے کیونکہ وہ نماز میں ہے۔( سنن ترمذی: 386، سنن ابن ماجہ: 967 مسند احمد ج 4 ص 242)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں وضوء کرے، پھر وہ نماز کے ارادہ سے گھر سے نکلے تو وہ اپنے واپس لوٹنے تک نماز میں ہی رہتا ہے، پس تم اس طرح نہ کرو : آپ نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ میں ڈالیں۔(مصنف عبد الرزاق : ۳۳۴۰ یہ حدیث حضرت کعب بن عجرہ سے بھی مروی ہے مصنف عبد الرزاق : ۳۳۳۹ دار الكتب العلمیة بیروت ۱۴۲۱ھ)
ابن جریج، محمد بن سیرین سے روایت کرتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے ملے، وہ ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ میں ڈالے ہوئے تھا، آپ نے فرمایا: تم کہاں جارہے ہو؟ اس نے کہا: مسجد کی طرف تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ کی انگلیوں کو کھول دیا اور فرمایا : جب تم اپنے گھر سے مسجد کی طرف جاؤ تو اس طرح تشبیک نہ کرو۔(مصنف عبد الرزاق: ۳۳۴۴ یہ حدیث حضرت کعب بن عجرہ سے بھی مروی ہے مصنف عبد الرزاق: ۳۳۲۴-۳۳۴۱)
طاؤس کہتے ہیں : نماز میں تشبیک کرنا مکروہ ہے۔ (مصنف عبدالرزاق: ۳۳۴۵)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا وہ مسجد کے وسط میں بیٹھا ہوا تھا اور تشبیک کرتے ہوئے خود سے باتیں کررہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف اشارہ کیا، وہ نہیں سمجھا، پھر آپ نے حضرت ابوسعید خدری کی طرف مڑ کر فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اپنی انگلیوں میں تشبیک نہ کرے کیونکہ تشبیک شیطان کے عمل سے ہے۔مصنف ابن ابی شیب: ۴۸۲۴ دار الكتب العلمیہ، بیروت 1416ھ)
سعید بن المسیب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں ہو تو وہ تشبیک نہ کرے۔(مصنف ابن ابی شیبہ: ۴۸۲۵)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے وضوء کرے تو اپنی انگلیوں میں تشبیک نہ کرے۔ (المعجم الاوسط اللطبرانی: ۸۴۰ حافظ الہیثمی نے کہا: اس حدیث کی سند کے رجال صحیح ہیں، مجمع الزوائد ج ۱ ص ۲۴۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: جب تم مسجد میں ہو تو اپنی انگلیوں میں تشبیک ہرگز نہ کرو۔ ( صحیح ابن خزیمہ: 440 المستدرک ۷۴۵ کنز اعمال: ۱۹۹۹۲)
تشبیک کی مختلف اور متعارض احادیث میں تطبیق کی توجیہات
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ لکھتے ہیں:
صحیح البخاری :۴۸۰ میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تشبیک کرکے دکھائی اور حضرت عبداللہ بن عمر اور فقہاء تابعین سے بھی تشبیک کرنا منقول ہے اور مذکور احادیث اور آثار میں تشبیک کی ممانعت ہے۔ ابن المنیر نے کہا: اس کا جواب یہ ہے کہ اگر فضول بے، فائدہ اور عبث طریقہ سے تشبیک کی جائے تو وہ ممنوع ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تشبیک کی تھی تو آپ نے خلط ملط اور گتھم گتھا ہونے کے معنی کو سمجھانے کے لیے اپنی انگلیاں انگلیوں میں ڈالی تھیں کہ تم اپنے زمانہ کے خسیس اور گھٹیا لوگوں کے ساتھ اس طرح مخلوط اور گتھم گتھا نہ ہوجانا’ سو آپ نے جو تشبیک کا عمل کیا تھا وہ بامعنی اور بامقصد تھا۔
اور وہ ان احادیث کی ممانعت سے خارج ہے۔
اسماعیلی نے کہا: تشبیک اس صورت میں منع ہے جب انسان نماز پڑھ رہا ہو یا نماز کے قصد سے جارہا ہو یا مسجد میں نماز کا منتظر ہو کیونکہ وہ بھی نمازی کے حکم میں ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تشبیک کی تھی وہ ان تمام صورتوں سے خارج تھی اور حضرت ابو ہریرہ کی جس حدیث میں ہے کہ جب تک تم مسجد میں ہو اس وقت تک تشبیک نہ کرو اس کی سند ضعیف ہے۔ علامہ ابن بطال نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ (فتح الباری ج ۲ ص ۱۱۶ دار المعرفۃ بیروت، عمدۃ القاری ج ۲ ص 384 دار الکتب العلمیة بیروت)
تشبیک کی ممانعت کے اسباب
تشبیک کی ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شیطان کا عمل ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۴۸۲۴)
اس ممانعت کا دوسرا سبب یہ ہے کہ اس عمل سے عموما نیند آتی ہے اور نیند آنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
اس ممانعت کا تیسرا سبب یہ ہے کہ تشبیک کی صورت میں اختلاف کی صورت ہے یعنی ہر ہتھیلی کی انگلیاں مخالف جانب ہو جاتی ہیں سو جو مسجد میں نماز کا منتظر ہو وہ تشبیک نہ کرے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صورت اختلاف سے منع فرمایا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم (صفوں میں) اختلاف نہ رکھو ورنہ تمہارے دل مختلف ہوجائیں گے اور تم بازاروں کے فتنوں اور خرابیوں سے اجتناب کرو ۔( صحیح مسلم : ۴۳۲ سنن ابوداؤد : ۶۷۵ ، سنن ترمذی : ۲۲۸ سنن نسائی : ۸۱۱ مسند احمد ج ا ص ۴۵۷)
