Site icon اردو محفل

کتاب الصلوۃ  باب 88  حدیث نمبر 481

٤٨١ – حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ عَبْدِاللهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جدہ عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال إِنَّ الْمُؤْمِنَ لِلْمُؤْمِنِ كَالبَنْيَانِ، يَشُدُّ بَعْضُهُ بعضا وَشَبَّكَ أصابعه.  اطراف الحديث : ۲۴۴۶ – 6024

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں خلاد بن یحیی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی از ابي برده بن عبدالله بن ابی برده از جد خود از حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ که نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک مومن بنیاد کی طرح ہیں، وہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر مضبوط ہوتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو انگلیوں میں ڈالا۔

صحیح مسلم : ۰۲۵۸۵ الرقم المسلسل : 6462 سنن ترمذی: ۱۹۲۸، سنن نسائی:2560، مسند الحمیدی: ۷۷۲ مسند ابوداؤد الطیالسی: 503، صحیح ابن حبان : ۵۷۹، مسند ابو یعلی :۷۲۷۰ مسند احمد ج 4 ص 405 طبع قدیم مسند احمد : ۱۹۶۲۴ – ج ۳۲ ص 399 مؤسسة الرسالة بيروت، جامع المسانيد لابن الجوزي: ۳۹۳۷ مکتبة الرشد ریاض (1426ھ)

حدیث مذکور کے رجال

(۱) خلاد بن یحیی بن صفوان ابومحمد السلمی الکوفی، یہ مکہ میں رہتے تھے اور ۲۱۳ھ میں وہیں فوت ہوگئے

(۲) السفیان الثوری

(۳) ابو بردہ ان کا نام بُرید ہے یہ عبد اللہ بن بردہ بن ابی موسیٰ الاشعری الکوفی ہے

(۴) ابو بردہ بن ابی موسیٰ الکوفی الفقیہ قاضی الكوفة ان کا نام الحارث ہے ایک قول یہ ہے کہ ان کا نام عامر ہے

(۵) حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ  عنہ ان کا نام عبد اللہ بن قیس ہے۔عمدة القاری ج 4 ص ۳۸۴)

اس حدیث میں ”بنیان ” کا لفظ ہے اس کا معنی بنیاد ہے جو دیوار کی طرح ہو اور اس میں تشبيك ” کا لفظ ہے اس کی مکمل شرح گزشتہ حدیث : ۴۸۰ میں گزر چکی ہے۔

تمام مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں، لہذا ایک فرد کو دوسرے فرد کی، ایک شہر کو دوسرے شہر کی اور ایک ملک کو دوسرے ملک کی مدد کرنی چاہیے

اس حدیث میں مذکور ہے کہ مسلمان ایک بنیاد کی طرح ہیں، یعنی مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے میں ایک بنیاد کی طرح ہیں۔ اس حدیث میں خبر حکم کے معنی میں ہے یعنی مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح جڑ کر رہنا چاہیے، جس طرح ایک بنیاد اور دیوار کی اینٹیں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں اور فرائض واجبات اور مستحبات کی ادائیگی میں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے، اسی طرح جائز کاموں میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے البتہ ناجائز کاموں میں تعاون نہیں کرنا چاہیے بلکہ حتی الامکان ناجائز کاموں سے منع کرنا چاہیئے یہ بھی ان کی خیر خواہی اور مدد ہے۔

ایک اور حدیث میں ہے:

حضرت النعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے دوستی رکھنے ایک دوسرے پر رحم کرنے اور نرمی کرنے میں مؤمنین ایک جسم کی مانند ہیں، جب جسم کے ایک عضو میں تکلیف ہو تو سارا جسم بخار اور بے خوابی میں اس کا شریک ہوتا ہے۔ ( صحیح البخاری : 6011،  صحیح مسلم : ۲۵۸۶)

اس حدیث کا بھی یہی معنی ہے کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح مل کر رہنا چاہیے، جس طرح جسم کے تمام اعضاء ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر رہتے ہیں۔

حضرت النعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے دوسری روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام مسلمان ایک شخص کی مانند ہیں، اگر اس کی آنکھ میں تکلیف ہو تو سارے جسم میں تکلیف ہوتی ہے اور اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو اس کے سارے جسم میں تکلیف ہوتی ہے۔ ( صحیح مسلم : 2586,  ( الرقم المسلسل : ۶۴۶۶)

اس حدیث کا منشاء یہ ہے کہ جس طرح انسان بیماری میں اپنا علاج کرتا ہے تو اگر اس کا پڑوسی یا خاندان کا کوئی فرد بیمار ہو اور وہ اپنا علاج نہ کرسکتا ہو تو وہ اس کا علاج کرائے، اس طرح اگر پورے شہر کے لوگ کسی وبائی مرض میں یا قدرتی آفت اور مصیبت میں  مبتلا ہوجائیں تو حتی الامکان ان کی مدد کرے اور آج کل چونکہ مواصلات اور رسد کے وسائل کی کثرت کی وجہ سے پوری دنیا سمٹ کر ایک گاؤں کی طرح ہوگئی ہے تو اگر ایک اسلامی ملک کسی آفت کا شکار ہوجائے تو تمام اسلامی ممالک کو اس کی مدد کے لیے اٹھ کر آگے بڑھنا چاہیے، جس طرح ۲۶ دسمبر ۲۰۰۴ء کو صبح سات بجے جب انڈونیشیا میں سمندری طوفان آیا، جس میں تین لاکھ افراد جاں بحق ہوگئے تھے تو تمام اسلامی ملکوں نے اس وقت انڈونیشیا کی مدد کی اور ۱۸ اکتوبر ۲۰۰۵ء کو جب پاکستان میں کشمیر اور سرحد کے علاقہ میں بہت بڑا زلزلہ آیا، جس میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوگئے تو اس وقت تمام اسلامی دنیا نے وہاں کے مسلمانوں کی مدد کی۔

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم :۶۴۶۱ – ج ۷ ص ۱۶۳ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی۔

Exit mobile version