Site icon اردو محفل

کتاب الصلوۃ  باب 89  حدیث نمبر 491

٤٩١ – وأنَّ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّتَهُ أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَنْزِلْ بِذِى طُوى ، وَیبَيْتُ حَتَّى يُصْبِحَ يُصَلَّى الصُّبحَ حِيْنَ يَقدَمُ مَكَہ وَمُصَلَّى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذلِك عَلَى اكْمَةٍ غَلِيظَةٍ ، لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِی بُنِی ثُمّ وَلكِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَكْمَةٍ غَلِيظَتہ۔

اور نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کو حدیث بیان کی کہ نبی صلی  اللہ علیہ وسلم ذی طوی میں اترتے تھے اور وہیں صبح تک رات گزارتے تھے اور مکہ مکرمہ روانہ ہوتے ہوئے صبح کی نماز نہیں پڑھتے تھے اور ذی طوی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ بڑے ٹیلہ پر ہے، یہ وہ مسجد نہیں ہے جو اس سے نیچے بڑے ٹیلہ پر بنائی گئی ہے۔

ذی طوی“ کا معنی

اس حدیث میں ذی طویٰ“ کا لفظ ہے جوہری نے کہا: یہ مکہ میں ایک جگہ ہے اور طوی شام کی ایک جگہ ہے۔

Exit mobile version