Site icon اردو محفل

کتاب الصلوۃ  باب 91  حدیث نمبر 496

۹۱ – بَابٌ قَدْرِكُمْ يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْمُصَلِّي وَالسُّرَةِ

  نمازی اور سترہ کے درمیان کتنی مقدار فاصلہ ہونا چاہیے

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ نمازی اور سترہ کے درمیان کتنی مقدار کا فاصلہ ہونا چاہیے۔

٤٩٦ – حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ قَالَ كَان بَيْنَ مُصَلِّي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْن الجدار مَمَرُّ الشَّاةِ. [ طرف الحديث : ۷۳۳۴]

صحیح مسلم : 508،  الرقم المسلسل :1021، سنن ابوداؤد: 696، صحیح ابن خزیمہ: 1435- 1434 – 804 جامع المسانيد لابن الجوزی: 2428، مکتبة الرشد

ریاض ۱۴۲۶ھ)

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عمرو بن زرارہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالعزیز بن ابی حازم نے خبر دی از والد خود، از حضرت سہل رضی اللہ عنہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانماز اور دیوار کے درمیان بکری کے گزرنے کی جگہ تھی۔

حدیث مذکور کے رجال

(1) عمرو بن زرارہ ابو محمد نیشاپوری یہ ۲۸۳ھ میں فوت ہوگئے تھے

(۲) عبد العزیز بن ابی حازم

(۳) ان کے والد حازم

(۴) حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ۔(عمدۃ القاری ج 4 ص ۴۰۹)

نمازی اور سترہ کے درمیان کی مقدار میں مذاہب فقہاء

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں :

نمازی اور اس کے سترہ کے درمیان یہ کم سے کم فاصلہ ہے۔ عطاء، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل نے یہ کہا ہے کہ اس کی کم از کم مقدار تین ذراع (ساڑھے چارفٹ) ہے، ان کی دلیل یہ ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی اور آپ کے اور قبلہ کے درمیان تین ذراع کا فاصلہ تھا، اور امام مالک نے اس کی کوئی حد مقرر نہیں کی ابو اسحاق السبیعی نے کہا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نماز پڑھتے تھے اور اپنے اور قبلہ کے درمیان تین ذراع کا فاصلہ رکھتے تھے اور سہل بن ابی حشمہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو سترہ کے قریب ہو تاکہ اس کی نماز کو شیطان قطع نہ کرے۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۱۷۶ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۴ھ )

حافظ بدرالدین عینی اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس عبارت کو معمولی تغیر سے بیان کیا ہے۔( عمدة القاری ج 4 ص 410،  فتح الباری ج ۲ ص ۱۲۳)

Exit mobile version