٥٠٣ – حَدَّثَنَا قَيْصَةٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَن عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ كِبَار أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَدِرُونَ السَّوَارِي عِندَ الْمَغْرِبِ وَزَادَ شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو عَنْ أَنَسٍ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم۔طرف الحديث: 625
سنن نسائی: 68، صحیح ابن خزیمہ: 1288، صحیح ابن حبان : ۱۵۸۹ سنن دارمی: 1441، مصنف عبد الرزاق :3986، سنن بیہقی ج ۲ ص ۴۷۶ مسند احمد ج ۳ ص ۲۸۰ مسند احمد : ۱۳۹۸۳ – ج ۲۱ ، ۴۰۱ مؤسسة الرسالة بیروت
ْ امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں قبیصہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی از عمرو بن عامر از حضرت انس رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے بڑے اصحاب کو دیکھا’ وہ مغرب کے وقت ستونوں کی طرف سبقت کرتے تھے ۔ شعبہ نے از عمرو از حضرت انس رضی اللہ عنہ یہ اضافہ کیا حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حجر سے نکل آتے ۔
حدیث مذکور کے رجال
(۱) قبیصہ بن عقبہ الکونی
(۲) سفیان ثوری
(۳) عمرو بن عامر الکوفی الانصاری یہ عمرو بن عامر البصری نہیں ہیں کیونکہ وہ سلمی ہیں
(۴) حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ(عمدۃ القاری ج 4 ص ۴۱۵)
ستون کو سترہ بنانے کی توجیہ
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں :
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحراء میں نیزہ گاڑ کر اس کو سترہ بناتے تھے تو مسجد کا ستون نیزہ کی بہ نسبت سترہ بنانے کے زیادہ لائق تھا کیونکہ آپ نے فرمایا ہے کہ سترہ کی مقدار پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر ہونی چاہیے تو اس سے معلوم ہوا کہ پالان کی پچھلی لکڑی اور نیزہ کی بہ نسبت مسجد کا ستون سترہ بنانے کے زیادہ لائق ہے اور امام کو چاہیے کہ وہ ستون کو اپنے سامنے رکھے اور اس کے پہلو میں نہ کھڑا ہوتا کہ صفوں میں خلل نہ ہو ۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۱۸۲ ۱۸۱)
