۱۰۱ – بَابُ إِثْمِ الْمَارِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلَّى
نمازی کے آگے سے گزرنے والے کا گناہ
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص نمازی کے آگے سے گزرتا ہے اس کو کتنا گناہ ہوتا ہے اور وہ کتنی سزا کا مستحق ہوتا ہے۔
٥١٠ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِاللهِ ، عَن بسر بن سَعِيدٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ اَرْسَلَهُ إِلَى أَبِى جُهَيم يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ فِي الْمَارِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلَّى؟ فَقَالَ ابو جھیم قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ يَعْلَمُ الْمَار بَيْنَ يَدَى الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ، لَكَانَ اَنْ تَقِفَ اَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمْر بَيْنَ يَدَيْهِ. قَالَ أَبُو النَّضْرِ لا أَدْرِي، أَقَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، أَوْ شَهْرًا ، أَوْ سَنَةٌ۔
صحیح مسلم : 507 الرقم المسلسل : ۱۱۱۲ سنن ابوداؤد : 701، سنن ترمذی: ۳۳۶ سنن نسائی: 756، سنن ابن ماجہ : 945 موطا امام مالک۔ کتاب قصر الصلوة في السفر :۳۴ تنویر الحوالك ص ۱۷۳ مصنف عبد الرزاق: ۳۲۲۲، سنن دارمی: ۱۴۱۷، صحیح ابن حبان :2366 المعجم الکبیر: ۵۲۳۵ ‘ سنن بیہقی ج ۲ ص ۲۶۸ شرح السنة: ۵۴۳ مسند احمد ج 4 ص ۱۶۹ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۷۵۴۰ – ج ۲۹ ص ۸۳ مؤسسة الرسالة بيروت جامع المسانيد لابن الجوزي:2782، مكتبة الرشد ریاض (1426ھ
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از ابی النضر جو عمر بن عبیداللہ کے آزاد کردہ غلام ہیں از بسر بن سعید که حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے ان کو حضرت ابوجہیم رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا وہ ان سے یہ سوال کر رہے تھے کہ انہوں نے نمازی کے آگے سے گزرنے والے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے؟ تو حضرت ابوجہیم نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو معلوم ہوجائے کہ اس کو کتنا عذاب ہوگا تو وہ چالیس تک ٹھہرا رہے تو یہ اس کے نمازی کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہے۔ ابوالنضر نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ بسر بن سعید نے چالیس دن کہا تھا یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو معلوم ہوجائے کہ اس کو کتنا عذاب ہوگا تو وہ چالیس تک ٹھہرا رہے تو یہ اس کے نمازی کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہے۔
علامہ ابن بطال کا حضرت ابو جہیم کی حدیث میں چالیس سے مراد چالیس سال لینا اور جاہل کو معذور قرار دینا
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :
ایک حدیث میں چالیس سال کی تعیین ہے:
امام ابن ابی شیبہ نے ذکر کیا ہے، ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی از عبداللہ بن عبد الرحمان بن موهب از عم خود از حضرت ان ابوہریره رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی شخص یہ جان لے کہ نمازی کے آگے سے گزرنے سے اس کو کتنا عذاب ہوگا تو وہ چالیس سال تک ٹھہرا رہے تو یہ اس کے لیے نمازی کے سامنے چلنے سے بہتر ہے۔
یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابوجہیم کی حدیث میں چالیس سے مراد چالیس سال ہے۔ قتادہ نے بیان کیا کہ: حضرت عمر نے کہا: اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والا جان لے کہ اس کو کتنا عذاب ہوگا تو وہ ایک سال تک کھڑا ر ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے۔ (مصنف عبد الرزاق : ۲۳۲۷) اور کعب الاحبار نے کہا: اگر وہ زمین میں دھنس جائے تو یہ اس کے لیے نمازی کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہے۔ (مصنف عبد الرزاق :۲۳۲۶)
یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ جس کو ممانعت کا علم ہو اور پھر وہ نمازی کے آگے سے گزرنے کو ہلکا جان کر گزرے تو وہ اس عذاب کا مستحق ہوگا اور جس کو ممانعت کا علم نہ ہوا سے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۱۹۱ دار الکتب العلمیة بیروت 1424ھ)
علامہ ابن بطال کی شرح پر مصنف کا تبصرہ
میں کہتا ہوں کہ علامہ ابن بطال کا یہ لکھنا صحیح نہیں ہے کہ جس کو ممانعت کا کوئی علم نہ ہو اس کو کوئی گناہ نہیں ہوگا کیونکہ دار الاسلام میں احکام شرعیہ سے جہالت کوئی عذر نہیں ہے ورنہ زانی، چور، ڈاکو اور قاتل یہ کہہ سکیں گے کہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ یہ کام ممنوع ہیں، ہر مسلمان مکلف کے اوپر احکام شرعیہ کا علم حاصل کرنا فرض ہے اور جو یہ کہے کہ مجھے اس کی ممانعت کا علم نہیں تھا’ اس کے دو گناہ ہیں: ایک گناہ علم حاصل نہ کرنا اور دوسرا گناہ ممنوع کام کو کرنا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ علامہ ابن بطال نے مصنف ابی شیبہ کے حوالہ سے جو چالیس سال کی تعیین کی حدیث ذکر کی ہے وہ مصنف ابن ابی شیبہ میں نہیں ہے بلکہ امام ابن ابی شیبہ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوجہیم کی وہی حدیث ذکر کی ہے جس میں چالیس کا عدد ذکر ہے اور سال یا ماہ یا ایام کا ذکر نہیں ہے۔ (دیکھئے: مصنف ابن ابی شیبہ : ۲۹۱۰)
نمازی کے آگے سے گزرنے والے کے لیے مزید وعید کی احادیث
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی شخص یہ جان لے کہ اپنے بھائی کی نماز کے آگے سے گزرنے سے اس کو کتنا عذاب ہوگا تو وہ سو سال تک کھڑا رہے تو یہ اس کے لیے اس کے آگے چلنے سے بہتر ہے۔( سنن ابن ماجہ : 946، مسند احمد ج ۲ ص 371 صحیح ابن خزیمہ : 814 صحیح ابن حبان: ۲۳۶۵)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوشخص عمدا نمازی کے آگے سے گزرتا ہے وہ قیامت کے دن یہ تمنا کرے گا کہ کاش! وہ سوکھا ہوا درخت ہو۔ (المعجم الاوسط: ۱۹۲۸)
امام مالک روایت کرتے ہیں کہ کعب احبار نے کہا: اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو معلوم ہوجائے کہ اس کو کتنا عذاب ہوگا تو اس کے لیے زمین میں دھنسایا جانا اس سے بہتر ہے کہ وہ نمازی کے آگے سے گزرے۔ تنور الحوالک : ۱۷۴ مصنف عبد الرزاق :۲۳۲۶
یزید بن جابر بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبدالحمید بن عبدالرحمان سے سنا جو عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے گورنر تھے، وہ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص ان کے سامنے سے گزرا، انہوں نے اس کو بہت زور سے پکڑ کر کھینچا حتی کہ اس کے کپڑے پھٹنے کے قریب تھے، جب وہ مڑا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والا (اپنے گناہ کو ) جان لے تو وہ یہ پسند کرے گا کہ اس کی ران ٹوٹ جائے اور وہ نمازی کے آگے سے نہ گزرے۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ :۲۹۱۱ – ج ۱ ص ۲۵۳ دار الکتب العلمیة بیروت 1416ھ )
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے تھے انسان راکھ ہوکر فضا میں بکھرجائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ عمدا کسی نمازی کے سامنے سے گزرے۔
حافظ ابن رجب نے کہا: اس حدیث کو امام ابن عبدالبر نے اپنی سند کے ساتھ تمہید میں روایت کیا ہے۔ (فتح الباری لابن رجب حنبلی ج ۲ ص 680 دار ابن الجوزی ریاضی 1417ھ)
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۰۳۴ – ج ۱ ص ۱۳۱۹ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی ۔
