102۔ باب استقبال الرجل الرَّجُلَ وَهُوَ يُصَلَّى
کسی شخص کا دوسرے شخص کی طرف منہ کرنا جب کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کی طرف منہ کرے جب کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو تو آیا یہ مکروہ ہے یا نہیں؟
وكره عُثْمَانُ أَنْ يُسْتَقْبَلَ الرَّجُلُ وَهُوَ يُصَلَّى وَإِنَّمَا هَذَا إِذَا اشْتَغَلَ بِهِ فَأَمَّا إِذَا لَمْ يَشْتَغل فقد قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مَا بَالَيتُ إِنَّ الرَّجُلَ لَا يَقْطَع صَلوةَ الرَّجُلِ۔
اور حضرت عثمان نے اس کو مکروہ قرار دیا کہ کوئی شخص دوسرے کی طرف منہ کرے جب کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو ( امام بخاری نے کہا: یہ اس وقت ہے کہ جب نمازی اس کی طرف مشغول ہوجائے، لیکن جب وہ اس کی طرف مشغول نہ ہو تو حضرت زید بن ثابت نے کہا: میں اس کی پرواہ نہیں کرتا’ ایک شخص دوسرے شخص کی نماز کو قطع نہیں کرتا۔
حضرت عمر کے بجائے حضرت عثمان کا نام ذکر کرنے میں امام بخاری کی خطاء
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ اس تعلیق کی شرح میں لکھتے ہیں:
میں نے اب تک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا یہ اثر نہیں دیکھا میں نے مصنف عبدالرزاق اور مصنف ابن ابی شیبہ میں اس اثر کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی دیکھا ہے اور ان کتابوں میں حضرت عثمان کا ایسا اثر ہے جو اس کی کراہت پر دلالت نہیں کرتا اور ہوسکتا ہے کہ امام بخاری نے غلطی سے حضرت عمر کی جگہ حضرت عثمان کا نام لکھ دیا ہو۔ (فتح الباری ج ۲ ص ۱۳۳ دار المعرفہ بیرات 1426ھ)
حافظ ابن حجر عسقلانی نے جو لکھا ہے کہ اس چیز کو حضرت عمر رضی اللہ عنی مکروہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل یہ حدیث ہے:
ھلال بن یساف بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے دیکھا کہ ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے اور دوسرا شخص اس کی طرف منہ کیے ہوئے ہے تو حضرت عمر نمازی کی طرف درہ لے کر بڑھے اور فرمایا: تم نماز پڑھ رہے ہو اور یہ تمہاری طرف منہ کیے ہوئے ہے ! پھر دوسرے شخص کی طرف درہ لے کر بڑھے فرمایا: وہ نماز پڑھ رہا ہے اور تم اس کی طرف منہ کیے ہوئے ہو!(مصنف عبد الرزاق: ٬۲۳۹۹ دار الكتب العلمیة بیروت 1421ھ )
لوگوں کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے میں مذاہب فقہاء
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں :
علماء کی ایک جماعت کا یہ مذہب کہ جب ایک شخص نماز پڑھ رہا ہو تو دوسرا شخص اس کا سترہ بن سکتا ہے، مگر اکثر علماء یہ کہتے ہیں کہ اس کا نمازی کی طرف منہ کرنا مکروہ ہے۔
نافع بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابن عمر کو مسجد کے کسی ستون کی طرف راستہ نہ ملتا تو وہ مجھ سے کہتے کہ میری طرف اپنی پیٹھ کرلو۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۲۸۷۸ دار الکتب العلمیہ، بیروت 1416ھ )
یہی امام مالک کا قول ہے اور اشہب نے امام مالک سے روایت کیا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ کوئی شخص ایک آدمی کی پیٹھ کے پیچھے نماز پڑھے لیکن اس کے پہلو کی طرف نماز نہ پڑھے۔
ابراہیم نخعی اور قتادہ نے کہا ہے کہ جب ایک آدمی بیٹھا ہوا ہو تو وہ دوسرے آدمی کی نماز میں سترہ بن سکتا ہے اور حسن بصری نےکہا ہے کہ ایک آدمی نمازی کا سترہ بن سکتا ہے اور انہوں نے یہ شرط نہیں لگائی کہ وہ بیٹھا ہوا ہو اور نہ یہ شرط لگائی ہے کہ اس کی پیٹھ نمازی کی طرف ہو ۔
فقہاء احناف، ثوری اور اوزاعی نے یہ کہا ہے کہ جو لوگ باتیں کررہے ہوں ان کے پیچھے بھی نماز پڑھنا جائز ہے۔
ابن سیرین نے یہ کہا ہے کہ کوئی شخص کسی نمازی کے لیے سترہ نہیں بن سکتا۔
اس باب کی حدیث ان فقہاء کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ ایک شخص نمازی کے لیے سترہ بن سکتا ہے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جو عورت ہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ کی جانب تھیں تو مرد تو بہ طریق اولی مرد کے قبلہ کی جانب ہوسکتا ہے، جن فقہاء نے اس کو مکروہ کہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جب نمازی کے سامنے کوئی مرد بیٹھا ہوگا تو یہ خدشہ ہے کہ اس کی نظر نماز میں اس مرد کی طرف پڑے گی
اسی وجہ سے جو لوگ کسی حلقہ میں بیٹھ کر باتیں کر رہے ہوں، ان کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا مکروہ ہے امام مالک نے کہا ہے کہ جو لوگ حلقہ بنائے بیٹھے ہوں ان کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا مکروہ ہے کیونکہ ان میں سے بعض کا منہ اس کی طرف ہوگا اور مجھے امید ہے کہ اس میں توسع ( گنجائش ) ہے۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے باتیں کرنے والوں کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کو مکروہ کہا ہے۔
سعید بن جبیر نے کہا ہے کہ جب لوگ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے متعلق باتیں کررہے ہوں تو پھر ان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۱۹۲ دار الکتب العلمیہ بیروت 1424ھ)
٥١١ – حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيْلٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ ، يَعْنِي ابْنَ صبیح عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُ ذُكِرَ عِندَهَا مَا يَقْطَع الصَّلوةَ، فَقَالُوا يَقْطَعُهَا الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْآةُ قَالَتْ لَقَدْ جَعَلْتُمُونَا كِلَاباٌ، لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَإِنِّي لَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، وَآنا مُضْطَجَعَةٌ عَلَى السَّرِيرِ، فَتَكُونُ لِيَ الْحَاجَةُ، فَاكْرَہ أَنْ أَسْتَقْبِلَهُ، فَانْسَلَّ إِنْسَلَالًا. وَعَنِ الْأَعْمَشِ، عَن إبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَه۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں اسماعیل بن خلیل نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں علی بن مسہر نے حدیث بیان کی از الاعمش از مسلم یعنی ابن صبیح از مسروق از حضرت عائشه رضی اللہ عنہا ان کے سامنے یہ ذکر کیا گیا کہ کیا چیز نماز کو توڑتی ہے لوگوں نے کہا: کتا, گدھا اور عورت ( کا نمازی کے سامنے سے گزرنا ) نماز کو توڑ دیتا ہے حضرت عائشہ نے فرمایا تم نے ہم کو کتا بنادیا، تحقیق یہ ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان تھی اور میں تخت پر لیٹی ہوئی تھی، مجھے کوئی کام در پیش ہوتا تو میں آپ کے سامنے سے اٹھنا ناپسند کرتی تو میں چپکے سے نکل جاتی، اور از اعمش از ابراهیم از اسود از حضرت عائشه رضی اللہ عنہا یا اس کی مثل مروی ہے۔
اس حدیث کی مفصل شرح، صحیح البخاری : ۵۰۸ میں گزر چکی ہے۔
