٥٢٢ – قَالَ عُرْوَةُ وَلَقَدْ حَدَّثَنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلَّى العَصْر، وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَر۔
اطراف الحدیث: ۵۴۴-۵۴۵-۵۴۶-3103
صحیح مسلم : ۶۱۱ الرقم المسلسل : ۱۳۵۵ سنن ابوداؤد: ۴۰۷ سنن ابن ماجہ: ۶۶۸ ‘ جامع المسانيد لابن الجوزی : ۷۴۶۵ مكتبة الرشد ریاض 1426ھ
عروہ نے کہا: مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی که رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تھے اور دھوپ ان کے حجرے میں ہوتی تھی اس سے پہلے کہ دھوپ ان کے حجرے سے اوپر چڑھے۔
نماز کو اول وقت میں پڑھنے کا استحباب، علماء کا امراء کو غلط کام پر ٹوکنا۔۔۔۔ اور اس حدیث کو ضعیف قرار دینے کا جواب
علامہ بدرالدین محمود بن احمد معینی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
(1) اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا فرض ہے اور نماز کو اس کے وقت سے پہلے پڑھنا جائز نہیں ہے۔
(۲) نماز کو اول وقت میں پڑھنا افضل ہے سوا ان نمازوں کے جن کے متعلق احادیث میں تاخیر سے پڑھنے کا حکم ہے مثلاً فجر کی نماز کو سفیدی پھیلنے کے بعد پڑھنا مستحب ہے، ظہر کی نماز کو گرمیوں میں ٹھنڈے وقت میں پڑھنا مستحب ہے اور عشاء کی نماز کو تہائی رات تک مؤخر کرکے پڑھنا مستحب ہے۔
(۳) عروه ،عمر بن عبد العزیز کے پاس گئے اور ان کو تاخیر سے عصر کی نماز پڑھنے پر ٹوکا اس سے معلوم ہوا کہ جب علماء حکام کے پاس جائیں اور ان کو خلاف سنت کام کرتے ہوئے دیکھیں تو ان کو اس پر ملامت کریں۔
(۳) عمربن عبدالعزیز نے عروہ سے پوچھا اس پر کیا دلیل ہے کہ عصر کو اول وقت میں پڑھنا چاہیے تو عروہ نے اس پر دلیل بیان کی کہ حضرت جبریل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اول وقت میں عصر کی نماز پڑھائی۔
(۵) پہلے عروہ نے حضرت مغیرہ کی حدیث بیان کی جب اس سے عمر بن عبدالعزیز مطمئن نہیں ہوئے تو انہوں نے حضرت ابومسعود انصاری کی حدیث مرفوع بیان کی، اس سے معلوم ہوا کہ اگر طالب علم قوی دلیل کا مطالبہ کرے تو شیخ کو چاہیے کہ اس کا مطالبہ پورا کرے۔
(۶) علامہ ابن العربی نے اس حدیث سے اس پر استدلال کیا ہے کہ فرض پڑھنے والے کی نماز نفل پڑھنے والے کے پیچھے جائز ہے کیونکہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز فرض تھی اور چونکہ حضرت جبریل مکلف نہیں ہیں، اس لیے ان کی نماز نفل تھی اس کا جواب یہ ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی وہ نماز نفل تھی ورنہ حضرت جبریل بیان کرتے کہ آپ کی یہ نماز فرض ہے دوسرا جواب یہ ہے کہ جب حضرت جبریل کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ یہ نماز پڑھائیں تو ان پر بھی اس نماز کو پڑھانا فرض ہوگیا۔
(۷) علامہ ابن بطال نے کہا ہے کہ حضرت جبریل کی امامت کرنے کی حدیث ضعیف ہے، اس حدیث میں یہ مذکور ہے کہ پہلے دن حضرت جبریل نے ہر نماز کو اول وقت میں پڑھایا اور دوسرے دن ہر نماز کو آخر وقت میں پڑھایا اور کہا: ان دونوں وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو عروہ، عمر بن عبد العزیز کو آخر وقت میں نماز پڑھنے پر انکار نہ کرتے، علامہ عینی فرماتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ عمر بن عبد العزیز نے عصر کی نماز اس وقت پڑھی، جب عصر کا مختار وقت نکل چکا ہو عصر کا مختار وقت وہ ہے جب ہر چیز کا سایا دو مثل ہوجائے نہ کہ وقت جواز میں پڑھی ہو اور وہ غروب آفتاب کا وقت ہے اور چونکہ عمر بن عبدالعزیز نے مختار وقت کے نکلنے کے بعد عصر کی نماز پڑھی تھی، اس لیے عروہ نے ان پر اعتراض کیا تھا اس لیے اس حدیث کو ضعیف قرار دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
(۸) حضرت ابو مسعود کی حدیث روایت کرنے کے بعد عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث روایت کی کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تھے اور دھوپ ان کے حجرے میں ہوتی تھی، اس حدیث کو روایت کرنے سے عروہ کی غرض یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اول وقت میں پڑھتے تھے۔ (عمدۃ القاری ج ۵ ص ۹ – ۸ دار الکتب العلمیہ بیروت 1421ھ )
شرح صحیح مسلم میں پانچ نمازوں کے اوقات پر دلائل اور دیگر مباحث
یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۲۸۱ – ج ۲ ص ۲۲۹ پر مذکور ہے اس حدیث کی وہاں شرح نہیں کی گئی’ البتہ باب کے شروع میں حسب ذیل عنوان ہیں:
پانچ نمازوں کے اوقات پر قرآن مجید سے استدلال
(۲) احادیث سے استدلال
(۳) اجماع امت سے استدلال
۴ عقل سے تائید
(۵) بلغاریہ اور قطبین میں اوقات نماز
(۶) حدیث دجال کی تحقیق
(۷) ایک نماز پڑھنے کے بعد اسی نماز کا وقت دوسرے شہر میں
(۸) ایک شہر میں روزے رکھنے کے بعد دوسرے شہر میں ایام رمضان پانا۔
یه بخش شرح صحیح مسلم ج ۲ ص 229- 222 پر مذکور ہے۔
