– بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى (مُنِيبِينَ إِلَيْہ وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴾ (الروم : ٣٢)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (اے لوگو! ) اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس سے ڈرتے رہو اور نماز کو قائم رکھو اور مشرکین میں سے نہ ہوجاؤ ۔ (الروم : ۳۲)
اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ہر وہ چیز جس میں مشغولیت اللہ کی اطاعت سے روکتی ہو اس سے منقطع ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو اور اس کے احکام کی اطاعت کرو اور نماز پڑھتے رہو کیونکہ نماز پڑھنے سے اللہ تعالیٰ پر ایمان کا اظہار ہوتا ہے، جس نے نماز کو قائم کیا، اس نے دین کو قائم کیا اور جس نماز کو ترک کیا، اس نے دین کی عمارت کو منہدم کردیا، نماز پڑھنا مؤمنوں کا شعار ہے اور نماز نہ پڑھنا مشرکین کا طریقہ ہے اس لیے فرمایا ہے: نماز کو قائم رکھو اور مشرکین میں سے نہ ہوجاؤ۔
٥٢٣ – حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ هُو ابْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاس قَالَ قَدِمَ وَقَدْ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ، فَقَالُوا إِنَّا مِنْ هَذَا الْحَيِي مِنْ رَبيعَةَ، وَلَسْنَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِى الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِشَيْءٍ نأخُذُهُ عَنْكَ، وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، فَقَالَ امركُم بِارْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعِ الْإِيْمَانِ بِاللَّه،ِ ثُمَّ فَسَرَهَا لَهُمْ شَهَادَةً أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَانِي رَسُولُ اللهِ وَإِقَامِ الصَّلوةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكوة، وَانْ تُؤدُّوا إِلَى خمُسَ مَا غَنِمْتُمْ وَأَنْهَى عَنِ الدُّبَاء،ِ وَالْحَنتم وَالْمُقَيَّرِ وَالنقِير۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں قتیبہ بن سعید نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عباد نے حدیث بیان کی اور وہ ابن عباد ہیں از ابی جمره از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما انہوں نے بیان کیا که رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عبدالقیس کا وفد حاضر ہوا، انہوں نے کہا : ہم اس قبیلہ ربیعہ سے ہیں اور ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں میں پہنچ سکتے ہیں، آپ ہمیں کسی ایسی چیز کا حکم دیں جس کو ہم آپ سے حاصل کریں اور جو لوگ ہمارے پیچھے ہیں، ان کو اس کی طرف دعوت دیں، تب آپ نے فرمایا: میں تم کو چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں اللہ پر ایمان لانے کا، پھر انہوں نے ان کے لیے اس کی تفسیر کی: اس کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور نماز قائم کرنا اور زکوۃ دینا اور تم میری طرف مال غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرو اور میں تم کو کھوکھلے کدو سبز گھڑے اور تارکول سے لیپے ہوئے برتن اور کھوکھلی لکڑی میں (پینے سے) منع کرتا ہوں ۔
اس حدیث کی مفصل شرح، صحیح البخاری: ۵۳ میں گزرچکی ہے وہاں اس حدیث کا عنوان تھا: مالِ غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا بھی امور ایمان میں سے ہے اور یہاں اس حدیث کو نماز قائم رکھنے کے لیے بیان کیا ہے اور اس حدیث میں دونوں عنوانوں کی گنجائش ہے۔
