Site icon اردو محفل

کتاب مواقیت الصلوۃ باب 5 حدیث نمبر 527

٥ – بَابٌ فَضْلِ الصَّلوةِ لِوَقْتِهَا

نماز کو اپنے وقت میں پڑھنے کی فضیلت

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ نماز کو اپنے وقت میں پڑھنا افضل ہے۔

٥٢٧ – حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِالْمَلِك قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ الوَلِيدُ بْنَ الْعَيْزَارِ أَخْبَرَنِي قَالَ سمِعْتُ اَبَا عَمْرِو الشَّيْبَانِيَّ يَقُولُ حَدَّثنَا صَاحِب هَذِهِ الدَّارِ، وَأَشَارَ إِلى دَارٍ عَبدِاللَّهِ، قَالَ سَأَلْت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ اَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ قَالَ الصَّلوةُ عَلَى وَقتِهَا، قَالَ ثُمَّ أَتى؟ قَالَ ثُمَّ بر الْوَالِدَيْنِ . قَالَ ثُمَّ أَيُّ ؟ قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ الله قَالَ حَدَّتَنِى بِهِنَّ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وَلَوِ اسْتَرَدْتَهُ لَزَادَنِي۔اطراف الحدیث: ۲۷۸۲-۵۹۷۰ – ۷۵۳۴

(صحیح مسلم : 85، الرقم المسلسل : 246، سنن ترمذی: ۱۸۹۸- ۱۷۳ سنن النسائی: 6100، مسند الحمیدی: ۱۰۳ المعجم الكبير: ۹۸۰۳ – ۹۸۰۲ شعب الایمان : 4926-4927، مجمع الزوائد ج ۱۰ ص ۳۰۱ مسند احمد ج ۱ ص ۴۴۲ طبع قدیم، مسند احمد : ۴۲۲۳ – ج ۷ ص ۲۶۶ مؤسسة الرسالة بیروت جامع المسانيد لابن الجوزی: ۴۰۵۹ مكتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ )

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابو الولید ہشام بن عبدالملک نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: الولید بن العیزار نے مجھے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے ابوعمرو الشیبانی سے سنا وہ کہتے تھے : ہمیں اس گھر والے نے حدیث بیان کی اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا، انہوں نے بیان کیا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اللہ کے نزدیک کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ نے فرمایا : نماز کو اپنے وقت میں پڑھنا انہوں نے کہا: پھر کون سا؟ فرمایا: پھر ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا انہوں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا حضرت ابن مسعود نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان کے متعلق بتایا اور اگر میں اور زیادہ طلب کرتا تو آپ اور زیادہ بتاتے۔

حدیث مذکور کے رجال

(۱) ابو الولید ہشام بن عبد الملک الطیاسی البصری

(۲) شعبہ بن الحجاج

(۳) الوليد بن العیزار بن حریث الکوفی

(۴) ابوعمر الشیبانی اور وہ سعید بن ایاس ہیں، یہ الحضرم ہیں یعنی انہوں نے اہل جاہلیت اور اسلام کا زمانہ پایا ہے یہ ایک سو میں سال زندہ رہے یہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اس وقت میں اپنے گھر والوں کے اونٹ چراتا تھا اور جنگ قادسیہ میں میرا شباب کامل ہوا، اس وقت میری عمر ۴۰ سال تھی اور یہ حضرت عبداللہ بن مسعود کے اصحاب میں سے تھے

(۵) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله  عنہ.(عمدۃ القاری ج ۵ ص ۱۹)

بر الوالدين “ اور ” جہاد فی سبیل اللہ “ کا معنی

اس حدیث میں ” بر الوالدین “ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا ان کی خدمت کرنا ان کی نافرمانی اور ان کے ساتھ بدسلوکی کو ترک کرنا۔

” الجهاد فی سبیل اللہ اللہ کے دین کو سربلند کرنے اور شعائر اسلام کا اظہار کرنے کے لیے اپنی جان اور مال کے ساتھ کفار کے خلاف جنگ کرنا۔

مذکورہ تین اعمال کو ذکر کرنے کی خصوصیت

اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کاموں کو افضل اعمال میں شمار کیا ہے (۱) نماز کو اپنے وقت میں پڑھنا (۲) ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا (۳) اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ان کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ نماز دین کا ستون ہے اور جو شخص نماز میں سستی کرے گا وہ باقی احکام پر عمل کرنے میں زیادہ سستی کرے گا اور جو شخص ماں باپ کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرے گا باقی حقوق کی ادائیگی میں اس کی کوتاہی زیادہ متوقع ہے اور جو شخص جہاد میں تقصیر کرے گا دیگر نیک اعمال میں اس کی تقصیر زیادہ متوقع ہے۔

افضل اعمال کی حدیثوں میں تعارض کا جواب

نیک اعمال ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے ہیں اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ ایک حدیث میں ہے کھانا کھلانا اسلام کا سب سے اچھا عمل ہے (صحیح البخاری : ۱۲) اور ایک حدیث میں ہے: سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جس میں زیادہ دوام ہو ( صحیح البخاری : ۴۳) اور یہاں فرمایا ہے: سب سے افضل عمل نماز کو اپنے وقت میں پڑھنا ہے ان میں موافقت کس طرح ہوگی؟

اس کا جواب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر سائل کو اس کی غرض کے موافق جواب دیا یا اس کے حال کے لائق جواب دیا یا اس وقت کے اعتبار سے جواب دیا ابتداء اسلام میں جہاد افضل اعمال تھا کیونکہ یہ اسلام کو قائم کرنے کا وسیلہ تھا اور اس کی وجہ سے اسلام کے باقی احکام پر عمل ہوسکتا تھا یا آپ نے حال اور موقع کے لحاظ سے جواب دیا کیونکہ نصوص سے نماز کی صدقہ پر فضیلت ثابت ہے.لیکن بعض اوقات کسی شدید ضرورت مند کا حال تقاضا کرتا ہے کہ اس کی مدد کی جائے اس وقت صدقہ کرنا افضل ہوگا۔(عمدۃ القاری ج ۵ ص ۲۱ – ۲۰ ملخصاً دار الكتب العلمیة بیروت ۱۴۲۱ھ)

نماز کو اول وقت میں پڑھنے کی فضیلت پر دلیل اور نماز کے بعد ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے کی ۔۔۔ فضیلت پر دلیل

علامہ ابو الحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں :

ایک دن حضرت انس رضی اللہ عنہ رو رہے تھے ان سے پوچھا گیا: آپ کیوں رور ہے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کے معمولات اب نظر نہیں آتے، کہا گیا کہ لوگ نماز تو پڑھ رہے ہیں، حضرت انس نے کہا: اس نماز کو بھی ضائع کردیا گیا ہے یعنی لوگ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرکے پڑھتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نماز کو اول وقت میں پڑھنے کے لیے سبقت کرنی چاہیے۔

المہلب نے کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا نماز کو ضائع نہیں کردیا گیا؟ اس کا معنی یہ ہے کہ لوگ نماز کو اس کے مستحب وقت سے مؤخر کرکے پڑھتے ہیں، اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ لوگ نماز کو اس کا وقت نکل جانے کے بعد پڑھتے ہیں، قرآن مجید میں ہے:

فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلوةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا (مریم:۵)

پھر (اللہ کے نیک بندوں کے بعد ) ایسے بُرے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کردیا اور نفسانی خواہشوں کی پیروی کی وہ عنقریب انجام بد سے دوچار ہوں گے ان کو دوزخ کی وادی میں ڈال دیا جائے گاO

اس آیت میں فرمایا ہے کہ انہوں نے نماز کو ضائع کر دیا، اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ انہوں نے نماز کو بالکل ترک کردیا کیونکہ نماز کو بالکل ترک کردینا تو کفر کی علامت ہے بلکہ اس کا یہ معنی ہے کہ وہ نماز کو اس کے اول وقت یا مستحب وقت میں نہیں پڑھتے تھے اور اس میں یہ دلیل ہے کہ افضل عمل نماز کو اول وقت یا مستحب وقت میں پڑھنا ہے۔

نماز کو اول وقت میں پڑھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے کو افضل عمل فرمایا کیونکہ قرآن مجید میں بھی یہی ترتیب ہے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

أنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ. (لقمان: 14)

میراشکر ادا کرو اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو۔( شرح ابن بطال ج ۲ ص ۲۱۲ ۲۱۱ دار الکتب العلمیة بیروت (1424ھ)

اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے شکر کے ساتھ والدین کے ساتھ نیکی کرنے اور ان کا شکر ادا کرنے کی وجوہ

لاتَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا۔(البقرہ: 83)

اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیکی کرو۔

.میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالی کے شکر کے ساتھ والدین کا شکر کرنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ والدین کے ساتھ نیکی کرنے کے ذکر کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(1) اللہ تعالیٰ انسان کی پیدائش اور اس کی پرورش کا حقیقی سبب ہے اور والدین اس کی پیدائش اور پرورش کے ظاہری سبب ہیں۔

(۲) اللہ تعالیٰ کی انسان پر بے شمار نعمتیں ہیں، وہ انسان کو مسلسل اور لگاتار نعمتیں عطا فرماتا ہے اور اکتاتا نہیں ہے اسی طرح والدین بھی اولاد کو مسلسل اور لگاتار نعمتیں عطا فرماتے ہیں اور تھکتے اور اکتاتے نہیں ہیں۔

(۳) انسان کے کفر اور معصیت کے باوجود اللہ تعالیٰ بندوں کی روزی اور رزق کو بند نہیں کرتا، اسی طرح والدین بھی اولاد کی نافرمانی کے باوجود ان پر اپنی عطاؤں کی بارش کو بند نہیں کرتے ۔

(۴) بڑی سے بڑی معصیت کے بعد جب بندہ ندامت اور توبہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بندہ کو معاف فرمادیتا ہے اسی طرح بڑی سے بڑی خطاء کے بعد جب اولاد والدین سے معافی طلب کرتی ہے تو وہ اسے معاف کردیتے ہیں۔

یوں والدین اللہ تعالی کی کئی صفات کے مظہر ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے ساتھ ان کے ساتھ نیکی کرنے اور اپنے شکر کے ساتھ ان کا شکر ادا کرنے کا ذکر کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز کو اپنے وقت میں ادا کرنے کے ساتھ والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا ذکر فرمایا ہے۔

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : 160۔ ج ۱ص ۵۴۲ پر مذکور ہے اس کی شرح کا عنوان ہے: افضل اعمال کی احادیث میں تعارض کے جوابات۔

Exit mobile version