9- بَابُ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِ
سخت گرمی میں ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنا
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ سخت گرمی میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنے کی فضیلت ہے۔
٥٣٤٠٥٣٣ – حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُوبَكْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ صَالِحُ بنُ كَيْسَانَ حَدَّثَنَا الْأَعْرَجُ، عَبْدُالرَّحْمَنِ وَغَيْرُهُ، عَن أَبِي هُرَيْرَةَ، وَنَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْداللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلوة فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ [ طرف الحديث : ۵۳۶]
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ایوب بن سلیمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابوبکر نے حدیث بیان کی از سلیمان صالح بن کیسان نے کہا: ہمیں الاعرج عبد الرحمان وغیرہ نے حدیث بیان کی از حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام، ان دونوں نے ان کو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی، آپ نے فرمایا: جب شدید گرمی ہو تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت دوزخ کے جوش سے ہے۔
(السنن الکبری: 1487، مسند احمد ج ۲ ص 50 طبع قدیم، مسند احمد : ۱۰۵۰۶ – ج 16 ص ۳۰۲ مؤسسة الرسالة بیروت)
حدیث مذکور کے رجال
(1) ایوب بن سلیمان بن بلال المدنی، یہ ۲۳۴ھ میں فوت ہوگئے تھے
(۲) ابوبکر عبد الحمید بن ابی اویس الاصبحی یہ 102ھ میں فوت ہوگئے تھے
(۳) سلیمان بن بلال ، یہ ایوب بن سلیمان کے والد ہیں
(۴) صالح بن کیسان
(۵) الاعزج یہ عبدالرحمان بن هرمز ہیں
(۲) نافع یہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ہیں
(۷) حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ
(۸)حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما.(عمدۃ القاری ج ۵ ص ۲۸)
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو اس سے مراد ظہر کی نماز ہے کیونکہ اس وقت بہت سخت گرمی ہوتی ہے، اس لیے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں تصریح ہے کہ ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش سے ہے اور وہ حدیث اس باب کے آخر میں آئے گی، اس کے اعتبار سے امام بخاری نے عنوان قائم کیا ہے : گرمی کی شدت میں ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنا۔
نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنے کی حکمت اور فیح “ کا معنی
اس حدیث میں فرمایا ہے: جب شدید گرمی ہوتو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو۔ اس حکم کی حسب ذیل حکمتیں ہیں.
(1) اس حکم سے مقصود مشقت کو کم کرنا ہے کیونکہ گرمی کی شدت سے انسان تنگ ہوگا اور نماز میں گرمی کی تمازت کی طرف خیال رہے گا، جس کی وجہ سے نماز کی طرف توجہ نہیں ہوگی اور خشوع میں کمی ہوگی۔
(۲) حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی ہیں اللہ علیہ وسلم نے نماز کے اوقات بتاتے ہوئے حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : جب سورج سر پر ہو تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ یہ وہ وقت ہے جب دوزخ میں ایندھن کو گرم کیا جاتا ہے۔ (صحیح مسلم : ۸۳۲ الرقم المسلسل : ۱۸۹۸) اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ نماز رحمت کا سب ہے اور نماز قائم کرنے سے عذاب کو دور کرنے کی امید ہوتی ہے تو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت نماز ترک کرنے کا حکم کیوں دیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے ظہور کا وقت ہے، اس وقت میں اسی کی طلب مفید ہو گی جس کو طلب کی اجازت دی گئی ہو، یہی وجہ ہے کہ میدانِ حشر میں ہمارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا سب شفاعت کرنے سے عذر پیش کریں گے اسی وجہ سے ہمیں بھی ظہر کی نماز اس وقت پڑھنی چاہیے، جب شارع علیہ السلام کی طرف سے اس کی اجازت ہے۔
اس حدیث میں فیح “ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: کسی چیز کا ہیجان اور اس کا جوش میں آنا عرب کہتے ہیں: فاحت القدر ” دیگچی میں جوش آ گیا۔
ٹھنڈے وقت میں نماز پڑھنے کا مستحب ہونا اور ٹھنڈے وقت کی تحدید
اس حدیث میں ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنے کا امر ہے اور امر وجوب کے لیے آتا ہے لہذا ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنا واجب ہونا چاہیے، لیکن فقہاء اس کو مستحب کہتے ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں پر امر استحباب کے لیے ہے اور فقہا، مذاہب کا یہی مختار ہے اور اس پر قرینہ یہ ہے کہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ نمازیوں کو مشقت نہ ہو اور حرج کم کرنے کے لیئے سو یہ حکم شفقت کے قبیل سے ہے اور شفقت کی بناء پر جو حکم ہوتا ہے وہ استحباب کے لیے ہوتا ہے۔
اگر یہ سوال کیا جائے کہ ٹھنڈے وقت کی کوئی تعیین ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب ہر چیز کا سایا اس چیز کی مثل ہوجائے تو یہ ٹھنڈا وقت ہوتا ہے کیونکہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے حتی کہ ہم نے ٹیلوں کا سایا دیکھا۔ (عمدۃ القاری ج 5 ص۳۱۔۳۰)
