۱۲ – بَابُ تَأْخِیرِ الظُّهْرِ إِلَى الْعَصْرِ
ظہر کی نماز کو عصر تک مؤخر کرنا
اس حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ظہر کی نماز کو اول وقت سے لے کر عصر کے وقت تک مؤخر کرنا جائز ہے اور اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ دو نمازوں کو ملا کر ایک وقت میں پڑھا جائے۔
۵۴۳ – حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، هُوَ ابْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابن عباسؓ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلّٰی بِالْمَدِیْنَۃِ سَبْعًا وَثَمَانِیًا الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ. فَقَالَ أَیُّوبُ لَعَلَّہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مَطِیْرَۃٍ؟ قَال عَسٰی۔ [اطراف الحدیث: 562۔ 1174]
(صحیح مسلم: ۷۰۵، الرقم المسلسل: ۱۵۹۹، سنن ابوداؤد: 1214، سنن نسائی: ۵۸۸، مسند الحمیدی: 470، مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص 456، ج 14 ص ۱۶۵، سنن بیہقی ج ۳ ص 168۔ ۱۶۶، مسند ابوداؤد الطیالسی: ۲۶۱۳، مصنف عبدالرزاق: 4436، صحیح ابن حبان: ۱۵۹۷، المعجم الکبیر: ۱۲۸۰۸۔ 12807۔12805۔۱۲۸۰۶۔، مسند احمد ج ۱ ص ۲۲۱ طبع قدیم، مسند احمد: ۱۹۱۸، ج ۳ ص ۳۹۸ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت، جامع المسانید لابن الجوزی: ۲۹۱۵، مکتبۃ الرشد،ریاض 1426ھ)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابوالنعمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں حماد نے حدیث بیان کی اور وہ ابن زیدہے از عمرو بن دینار از جابر بن زید از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں سات رکعات اور آٹھ رکعات نماز پڑھی ظہر اور عصر کی اور مغرب اور عشاء کی۔ ایوب نے کہا: شاید یہ بارش کی رات تھی؟ انہوں نے کہا: یہ (بارش) متوقع تھی۔
اس حدیث کے پانچ رجال ہیں اور ان کا تعارف پہلے ہوچکا ہے۔
دو نمازوں کو ملا کر پڑھنے کی کیفیت
اس حدیث کے باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں سات رکعات اور آٹھ رکعات نماز پڑھی ظہر اور عصر کی اور مغرب اور عشاء کی یعنی آپ نے ظہر اور عصر کی آٹھ رکعات اس طرح پڑھی کہ ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کیا اور عصر کی نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں پڑھا پھر مغرب کی نماز کو عشاء کے وقت تک مؤخر کیا اور عشاء کو ابتدائی وقت میں پڑھا اور اس طرح آپ نے صورۃً دو نمازوں کو جمع کیا اور حقیقۃً جمع نہیں کیا کیونکہ ہر نماز اپنے اپنے وقت میں پڑھی۔
علامہ ابن بطال کا امام ابوحنیفہ پر دو مثل سائے اور ظہر اور عصر کے درمیان فاصلہ قرار دینے کا اعتراض۔۔۔اور مصنف کی طرف سے اس کا جواب
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں:
امام مالک نے اس حدیث کی یہ تاویل کی ہے کہ ان نمازوں کو جمع کرنا بارش کے موقع پر تھا جیسا کہ ایوب نے اس حدیث کی تاویل کی ہے اور یہی امام شافعی کا قول ہے اور اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ نماز کے اوقات مشترک ہیں اور اس حدیث میں امام شافعی کے اس قول کا رد ہے کہ ظہر کے آخر وقت اور عصر کے اول وقت کے درمیان فاصلہ ہے جس میں ظہر کی کوئی نماز جائز ہے نہ عصر کی اور اس حدیث میں اس شخص کا بھی رد ہے جو کہتا ہے کہ عصر کا وقت اس وقت تک داخل نہیں ہوتا جب تک ہر چیز کا سایہ دو مثل نہ ہوجائے اور وہ امام ابوحنیفہ ہیں اور رد کی وجہ یہ ہے کہ نبی ﷺ نے ظہر اور عصر کی نمازوں کے درمیان فاصلہ کو نہیں بیان فرمایا اگر ان کے درمیان فاصلہ ہوتا تو اس فاصلہ کو نبی ﷺ بیان فرماتے۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۲۲۶)
میں کہتا ہوں کہ علامہ ابن بطال نے امام ابوحنیفہ پر دو اعتراض کیے ہیں ایک اعتراض اس پر کیا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ عصر کا وقت اس وقت داخل ہوتا ہے جب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہوجائے سو اس پر اعتراض کرنا باطل ہے کیونکہ امام اعظم کا قول صحیح حدیث سے ثابت ہے یہ حدیث گزرچکی ہے کہ نبی ﷺ نے ظہر کی اذان دینے کا حکم اس وقت دیا جب ٹیلوں کا سایہ ایک مثل ہوگیا تھا۔ (صحیح البخاری: ۵۳۹) اور جب ایک مثل سائے کے بعد ظہر کی اذان دی گئی تو متعین ہوگیا کہ ایک مثل سائے کے بعد عصر کا وقت داخل نہیں ہوتا جیسا کہ ائمہ ثلاثہ کا مذہب ہے بلکہ دو مثل سائے کے بعد عصر کا وقت داخل ہوتا ہے جیسا کہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔
علامہ ابن بطال کا امام اعظم قدس سرہ پر دوسرا اعتراض بھی باطل ہے کیونکہ امام اعظم ظہر اور عصر کی نمازوں کے درمیان فاصلہ اور مہمل وقت کے قائل نہیں ہیں، ہم صحیح البخاری: 540 کی شرح میں لکھ چکے ہیں کہ امام اعظم کے نزدیک ظہر کا وقت زوالِ آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور امام ابو یوسف نے فرمایا کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک سائے تک ظہر کا وقت رہتا ہے۔ (المبسوط ج۱ ص۲۸۹-۲۹۰) بلکہ خود علامہ ابن بطال نے بھی تصریح کی ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک دو مثل سائے تک ظہر کا وقت رہتا ہے، پس جب امام اعظم کے نزدیک ظہر کا وقت زوالِ آفتاب سے لے کر دو مثل سائے تک رہتا ہے تو پھر اس وقت میں ظہر اور عصر کے درمیان فاصلہ کہاں سے آگیا۔
بارش کے عذر کی وجہ سے دو نمازوں کو حقیقتاً جمع کرنے کی کیفیت میں ائمہ ثلاثہ کے مذاہب
علامہ ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں:
بارش کے عذر کی وجہ سے دو نمازوں کو جمع کرنے میں فقہاء کا اختلاف ہے، امام مالک نے کہا: بارش کی رات میں مغرب اور عشاء کو جمع کرنا جائز ہے اور ظہر اور عصر کو بارش میں جمع کرنا جائز نہیں ہے، امام احمد کا بھی یہی قول ہے اور امام شافعی نے کہا ہے کہ جب بارش مسلسل ہورہی ہو تو ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کو جمع کرنا جائز ہے اور بغیر بارش کے دو نمازوں کو جمع نہیں کیا جائے گا اور امام مالک نے کہا: اندھیرے اور کیچڑ میں بھی مغرب اور عشاء کو جمع کیا جائے گا خواہ بارش نہ ہورہی ہو۔ امام مالک کے نزدیک جمع کا طریقہ یہ ہے کہ مغرب کی نماز کو مؤخر کیا جائے پھر اس کی اذان دی جائے اقامت کہی جائے اور نماز پڑھی جائے پھر مسجد میں عشاء کی اذان دی جائے اقامت کہی جائے اور نماز پڑھی جائے اور لوگ شفق کے غائب ہونے سے پہلے چلے جائیں۔(شرح ابن بطال ج۲ ص۲۲۶-۲۲۷ دار الکتب العلمیہ بیروت 1424ھ)
دو نمازوں کو حقیقتاً جمع نہ کرنے اور صورۃً جمع کرنے کی وجہ سے علامہ ابن بطال کا امام ابوحنیفہ پر اعتراض
علامہ ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں:
امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب نے اس حدیث کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ کوئی شخص دو نمازوں کو جمع نہ کرے خواہ بارش کا عذر ہو یا کوئی اور عذر ہو اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کے متعلق کہا ہے: اس میں جمع کا طریقہ ذکر نہیں ہے اور یہ ممکن ہے کہ آپ نے ظہر کو آخری وقت تک مؤخر کیا ہو اور آخری وقت میں اس کو پڑھا ہو پھر عصر کی نماز کو اول وقت میں پڑھا ہو اور مغرب اور عشاء کی نمازوں میں بھی اسی طرح کیا ہو اور انہوں نے اس کا نام جمع (صوری) رکھا ہے، لیث سے بھی اسی کی مثل مروی ہے، عمرو بن دینار اور ابوالشعثاء نے بھی امام ابوحنیفہ کی مثل تاویل کی ہے۔
عمرو بن دینار نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ میں آٹھ رکعت جمع کرکے پڑھیں اور سات رکعت جمع کرکے پڑھیں، عمرو بیان کرتے ہیں: میں نے جابر بن زید سے کہا: میرا گمان ہے کہ آپ نے ظہر کو مؤخر کیا اور عصر کو جلدی پڑھا اور مغرب کو مؤخر کیا اور عشاء کو جلدی پڑھا، جابر بن زید نے کہا: میرا بھی یہی گمان ہے، یہ ان فقہاء کی تاویل ہے جو جمع حقیقی کو جائز نہیں سمجھتے، امام بخاری نے بھی اس حدیث کے عنوان میں اسی طرف اشارہ کیا ہے۔
ابن المواز نے بھی ابن الماجشون سے اس کی مثل روایت کی ہے اور کہا ہے کہ ظہر کو آخری وقت تک مؤخر کرکے پڑھنے میں اور عصر کو جلدی پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ جمع صوری ہے حالانکہ یہ تاویل کچھ بھی نہیں ہے۔
اگر دو نمازوں کو اس طرح جمع کیا جاتا جس طرح امام ابوحنیفہ، ابو الشعثاء اور عمرو بن دینار کا زعم ہے تو اس طرح عصر اور مغرب میں بھی جمع کرنا جائز ہوتا اور عشاء اور صبح میں بھی جمع کرنا جائز ہوتا اور جب کہ اس پر اجماع ہے کہ سنت صرف ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کو جمع کرنے میں ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ ان دونوں کا وقت مشترک ہے اور جو انہوں نے تاویل کی ہے وہ حقیقت میں نہیں ہے لہذا ان کا قول ساقط ہو گیا۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۲۲۸- ۲۲۷ دارالکتب العلمیہ بیروت 1424ھ)
مصنف کی طرف سے علامہ ابن بطال کے اعتراض کا جواب
میں کہتا ہوں کہ ائمہ ثلاثہ بارش اور سفر ایسے عوارض میں دو نمازوں کو حقیقتاً جمع کرنے کے قائل ہیں، بایں طور کہ ظہر کے وقت میں عصر پڑھ لی جائے اور مغرب کے وقت میں عشاء پڑھ لی جائے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ایک نماز کو دوسری نماز کے وقت میں پڑھنا جائز نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر نماز کو اپنے وقت میں پڑھنے کا حکم دیا ہے، اگر ایک نماز کے وقت میں دوسری نماز کو پڑھا جائے تو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی مخالفت ہوگی، قرآن مجید میں ہے:
﴿إِنَّ الصَّلوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَبًا مَّوْقُوتًا﴾(النساء: ۱۰۳)
بے شک مومنین پر مقررہ اوقات میں نماز فرض ہے
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نہیں دیکھا کہ نبی ﷺ نے کوئی نماز اپنے وقت کے بغیر پڑھی ہو، سوا دو نمازوں کے آپ نے (مزدلفہ میں) مغرب اور عشاء کو جمع کیا اور فجر کی نماز کو اپنے (معروف) وقت سے پہلے پڑھا۔(صحیح البخاری: ۱۶۸۲؛ صحیح مسلم: ۱۲۸۹)
نیز حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ہر نماز اپنے وقت میں پڑھتے تھے سوائے مزدلفہ اور عرفات کے۔(سنن نسائی: ۳۰۰۷)
رسول اللہ ﷺ نے متعدد سفر کیے ہیں اگر رسول اللہ ﷺ مغرب کے وقت میں عشاء پڑھتے یا ظہر کے وقت میں عصر پڑھتے تو یہ بات صحابہ میں بہت مشہور ہوتی مگر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرفات اور مزدلفہ کے علاوہ آپ کو بیک وقت دو نمازوں میں جمع کرتے ہوئے نہیں دیکھا، اس سے معلوم ہوا کہ جن احادیث میں ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کو جمع کرنے کا ذکر ہے اس سے مراد جمع صوری ہے، جمع حقیقی نہیں ہے، رہا علامہ ابن بطال کا یہ اعتراض کہ پھر آپ نے عصر اور مغرب کو جمع کیوں نہیں کیا اور عشاء اور صبح کو جمع کیوں نہیں کیا یہ عجیب و غریب اعتراض ہے، ہم ان نمازوں میں جمع صوری کی تاویل کر رہے ہیں جن کو آپ نے جمع کرکے پڑھا ہے اور جن نمازوں کو آپ نے جمع نہیں کیا ہے ہم ان میں کہاں تاویل کریں گے!
* باب مذکور کی حدیث شرح مسلم: ۱۵۲۵۔ ج ۲ ص ۴۰۹ پر مذکور ہے اس کی شرح کے حسب ذیل عنوان ہیں:
جمع بین الصلوتین میں مذاہب
(۲) ائمہ ثلاثہ کے دلائل اور ان کے جوابات
(۳) احناف کے دلائل۔
یہ بحث شرح مسلم ج ۲ ص 416-411 پر ہے۔
