Site icon اردو محفل

کتاب مواقیت الصلوۃ باب 14 حدیث نمبر 552

۱۴ – بَابُ إِثْمِ مَنْ فَاتَتْهُ الْعَصْرُ

اس کا گناہ جس کی عصر کی نماز فوت ہوگئی

نماز فوت ہونے سے مراد یہ ہے کہ عصر کی نماز کے وقت جواز کے بغیر مؤخر کرکے اس کو پڑھا جائے، جس کو ہمارے عرف میں نماز کو قضاء کرنا کہتے ہیں کیونکہ اس کے اوپر گناہ مترتب ہوتا ہے۔

۵۵۲ – حَدَّثَنَا عَبْدُ للَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الَّذِي تَفُوتُهُ صَلُوةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ.

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از نافع از حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہوجائے گویا اس کے اہل اور مال کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

قَالَ أَبُو عَبْدِاللَّهِ يِتْرُكُمْ أَعْمَالَكُمْ، وَتِرتَ الرَّجُلُ إِذَا قتِلتَ لَهُ قَتِيلاٌ، أَوْ أُخِذَتْ لَهُ مَالاً.

امام ابوعبداللہ نے کہا: تمہارے اعمال ہلاک ہوگئے اور میں نے مرد کو ہلاک کردیا اس کا معنی ہے: میں نے اس کو قتل کردیا یا اس کا مال لے لیا۔

(صحیح مسلم:۶۲۶، الرقم المسلسل:۱۳۹۱، سنن ابوداؤد:414، السنن الکبری للنسائی:8345، سنن ترمذی:175، موطا امام مالک:۲۱۔ ج ۱ ص ۳۸ دارالمعرفۃ بیروت ۱۳۴۰ھ، مصنف ابن ابی شیبہ ج 1 ص 342، مسند ابو یعلی:۵۵۰۶، شرح السنہ:371، تاریخ بغداد ج ۱۲ ص ۴۴، مسند احمد ج ۲ ص ۱۲ طبع قدیم، مسند احمد:4621 ۔  ج ۸ ص ۲۳۸، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، جامع المسانید لابن الجوزی:3438، مکتبۃ الرشد، ریاض ۱۴۲۶ھ)

اس حدیث کے چار رجال ہیں، ان کا پہلے تعارف ہوچکا ہے۔

’’وتر‘‘ کا معنیٰ نماز کو اپنے وقت میں پڑھنے کی اہمیت اور عصر کی نماز کی تعظیم کی خصوصیت

علامہ حمد بن محمد خطابی شافعی متوفی ۳۸۸ھ لکھتے ہیں:

اس حدیث میں مذکور ہے: جس کی نماز عصر فوت ہو گئی گویا اس کا اہل اور مال وتر ہوگیا۔

’’وتر‘‘ کا معنیٰ ہے: نقصان ہونا یا چھن جانا، پس جس کے اہل اور مال چھن گئے یا اس کا نقصان ہوگیا، گویا وہ تنہا اور اکیلا رہ گیا، لہٰذا نماز کے فوت ہونے سے انسان کو اس طرح ڈرنا چاہیے جس طرح وہ اپنے اہل اور مال کے چھن جانے اور ان کے نقصان سے ڈرتا ہے۔ (معالم السنن مع مختصر المنذری ج ۱ ص 242 دار المعرفۃ بیروت)

حافظ ابوعمر یوسف بن عبداللہ ابن عبد البر المالکی الاندلسی المتوفی ۴۶۳ھ التمہید میں لکھتے ہیں:

اس حدیث میں نماز کو اپنے وقت میں پڑھنے کی تعظیم اور اہمیت ہے، حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یاد رکھو! تمہارے اعمال میں سب سے افضل نماز ہے۔

(سنن ابن ماجہ:277، مسند احمد ج ۵ ص 227، سنن بیہقی ج ۱ ص ۸۲، المستدرک ج ۱ ص ۱۳۰)

اس حدیث میں دنیا کی تحقیر کا ثبوت ہے اور یہ کہ نیک عمل خواہ قلیل ہو وہ دنیا کی کثیر دولت سے افضل ہے، پس جو شخص عاقل اور عالم ہو وہ اس حدیث کی وجہ سے عصر کی نماز کے فوت ہونے کی وجہ سے غم زدہ ہوگا، اگر اس نے آفتاب کے غروب ہونے سے پہلے یا آفتاب کے زرد ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت بھی نہیں پڑھی۔

اس حدیث سے ان علماء نے استدلال کیا ہے جو کہتے ہیں کہ صلوٰۃ وسطی عصر کی نماز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خصوصیت کے ساتھ صلوٰۃ وسطیٰ کا ذکر فرمایا ہے، قرآن مجید میں ہے:

حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی (البقرہ:۲۳۸)

  تمام نمازوں کی حفاظت کرو، خصوصیت کے ساتھ صلوٰۃ وسطیٰ کی۔

اللہ تعالیٰ نے تمام نمازوں کو ذکر کرنے کے بعد خصوصیت کے ساتھ صلوٰۃ وسطیٰ کا ذکر فرمایا تاکہ اس کی تعظیم ظاہر ہو، جس طرح اللہ تعالیٰ نے درج ذیل آیت میں تمام نبیوں کے ذکر کرنے کے بعد خصوصیت کے ساتھ ہمارے نبی سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کا ذکر فرمایا ہے:

وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیِّنَ مِیْثَاقَہُمْ وَمِنْکَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ۔ (الاحزاب:۷)

اور جب ہم نے تمام نبیوں سے پکا عہد لیا اور آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور عیسیٰ ابنِ مریم سے۔

اس آیت میں انبیاء ﷺ کا عمومی ذکر کرنے کے بعد آپ کا اور دیگر اولوالعزم رسولوں کے ساتھ ذکر کی خصوصیت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اور نبی ﷺ نے تمام نمازوں میں سے صرف نماز عصر کی اہمیت اور تعظیم بیان فرمائی کہ عصر کی نماز کا فوت ہونا تمام اہل اور مال کی ہلاکت اور نقصان کی مثل ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صلوٰۃ وسطیٰ بھی عصر ہی ہے۔

سو جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہوجائے، اس کو اس مصیبت پر اتنا رنج اور افسوس کرنا چاہیے جتنا رنج اور افسوس وہ اپنے اہل اور مال کی ہلاکت پر کرتا ہے۔ عصر کی نماز کی اہمیت کی دیگر احادیث درج ذیل ہیں:

ابو الملیح بیان کرتے ہیں کہ ایک ابر آلود دن میں ہم حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے انہوں نے کہا: نماز کو اول وقت میں پڑھ لو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس نے عصر کی نماز کو ترک کر دیا اس کا عمل ضائع ہو گیا۔(صحیح البخاری: ۵۵۳؛ سنن نسائی: ۴۷۳؛ مسند احمد ج ۵ ص ۳۵۰)

عمل ضائع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس نماز کو بعد میں پڑھنے سے وہ اجر نہیں ملے گا جو اس نماز کو وقت پر پڑھنے سے اجر ملتا ہے، اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کی ساری نمازوں اور سارے نیک اعمال کا اجر ضائع ہوجائے گا کیونکہ سارے نیک اعمال کفر سے ضائع ہوتے ہیں، جیسا کہ اس آیت میں ہے:

وَمَنْ یَّکْفُرُ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ۔ (المائدہ: ۵)

اور جو شخص ایمان کے بعد کفر کرے اس کے تمام نیک اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔

یعنی جو کفر نہ کرے اس کے نیک اعمال ضائع نہیں ہوتے۔(فتح المالک بتیویب التمہید لابن عبدالبر علی موطا الامام مالک ج ۱ ص 170-172، ملخصا دار الکتب العلمیہ بیروت 1418ھ)

قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی اندلسی متوفی ۵۴۴ھ لکھتے ہیں:

عصر کی نماز کی یہ خصوصیت اس لیے ہے کہ عصر کی نماز میں دن اور رات کے فرشتے جمع ہوتے ہیں، دن کو جانے والے فرشتے بھی اس عمل کو لکھ لیتے ہیں اور رات میں آنے والے فرشتے بھی اس عمل کو لکھ لیتے ہیں، نیز یہ وقت ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اپنے کاروبار میں مشغول ہوتے ہیں اور اپنی اغراض کو پورا کرنے کے درپے ہوتے ہیں اور ایسے وقت میں اپنے دنیاوی معاملات کو چھوڑ کر اللہ کا حکم بجا لانے کے لیے مسجد کے لیے جانے کو بڑی ہمت اور بڑے حوصلہ کی بات ہے اور جس شخص نے اپنے دنیاوی معاملات کو مقدم رکھا اور نماز میں اتنی تاخیر کردی کہ سورج زرد ہوگیا یا غروب ہوگیا تو یہ اس کا اخروی اتنا نقصان ہے جس پر اس کو اتنا رنج کرنا چاہیے جتنا رنج وہ جان اور مال کے ضیاع یا ان کی ہلاکت پر کرتا ہے۔ (اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ۲ ص ۵۹۱، دار الوفاء 1419ھ)

* یہ حدیث ‘شرح صحیح مسلم’: 1317- ج ۲ ص 247 پر مذکور ہے وہاں اس کی مختصر شرح کی گئی ہے۔

Exit mobile version