Site icon اردو محفل

کتاب مواقیت الصلوۃ باب 18 حدیث نمبر 559

۱۸ – بَابُ وَقْتِ الْمَغْرِبِ

مغرب کا وقت

اس سے پہلے ابواب میں عصر کے وقت کے متعلق احادیث کا ذکر تھا اور اس باب سے مغرب کے وقت کے متعلق احادیث شروع ہو رہی ہیں اور ان میں مناسبت ظاہر ہے۔

وَقَالَ عَطَاءٌ يَجْمَعُ الْمَرِيضُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ۔

اور عطاء نے کہا: مریض مغرب اور عشاء کو جمع کرکے پڑھے۔

اس تعلیق کے قریب یہ حدیث ہے:

امام عبدالرزاق روایت کرتے ہیں کہ ابن جریج نے عطاء سے پوچھا: یہ بتائیں کہ اگر کوئی شخص دو نمازوں کو ایک وقت میں پڑھے؟ عطاء نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (مصنف عبدالرزاق: ۲۴۲۲، ج ۲ ص ۳۶۳، دارالکتب العلمیہ بیروت 1421ھ)

ہمارے نزدیک مسافر اور مریض دونوں صورۃً دو نمازوں کو ایک وقت میں پڑھ سکتے ہیں اور ان کو حقیقۃً ایک وقت میں جمع کرکے پڑھنا جائز نہیں ہے۔

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ نبی ﷺ نے ایک نماز کو دوسری نماز کے وقت میں پڑھا ہو سوا اس کے کہ آپ نے ظہر اور عصر کو میدانِ عرفات میں جمع کرکے پڑھا اور مغرب اور عشاء کو مزدلفہ میں جمع کرکے پڑھا۔(مصنف عبدالرزاق: 4432، ج ۲ ص ۳۶۲، دارالکتب العلمیہ بیروت 1421ھ)

ابو العالیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف مکتوب لکھا: یاد رکھو! بغیر عذر کے دو نمازوں کو جمع کرکے پڑھنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ (مصنف عبدالرزاق: 4434)

۵۵۹ – حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَهُوَ عَطَاءُ بْنُ صُهَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُ كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن مہران نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں الولید نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں الاوزاعی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوالنجاشی نے حدیث بیان کی، جو حضرت رافع بن خدیج کے آزاد کردہ غلام ہیں اور وہ عطاء بن صہیب ہیں انہوں نے کہا: میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے پھر ہم میں سے کوئی واپس ہوتا تو وہ اپنے تیر گرنے کی جگہ دیکھ لیتا تھا۔

(صحیح مسلم: 637، الرقم المسلسل: 1414، سنن ابن ماجہ: ۶۸۷، صحیح ابن حبان: ۱۵۱۵، سنن بیہقی ج ۱ ص 442، المعجم الکبیر: 4421، المستدرک ج ۱ ص ۱۹۲، مسند احمد ج 4 ص 142 طبع قدیم، مسند احمد: 17275، ج ۲۸ ص ۵۱۰، مؤسسۃ الرسالۃ بیروت، جامع المسانید لابن الجوزی: ۱۶۵۲، مکتبۃ الرشد، ریاض 1426ھ)

حدیث مذکور کے رجال

(۱) محمد بن ابراہیم الجمال الحافظ الرازی ابوجعفر، یہ ۲۳۸ھ میں فوت ہوگئے تھے

(۲) الولید بن مسلم ابو العباس الاموی، یہ اہل شام کے عامل تھے، یہ ۱۹۵ھ میں فوت ہوگئے تھے

(۳) عبدالرحمان بن عمر والاوزاعی

(۴) ابوالنجاشی ان کا نام عطاء بن صہیب ہے یہ حضرت رافع بن خدیج کے غلام ہیں

(۵) حضرت رافع بن خدیج الانصاری الاوسی المدنی۔ (عمدۃ القاری ج ۱ ص ۸۰۔۸۱)

باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے۔

مغرب کی نماز کے وقت میں مذاہب فقہاء

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ سورج غروب ہوتے ہی مغرب کی نماز پڑھ لیتے تھے اور مغرب کی نماز جلدی پڑھتے تھے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد روشنی باقی ہوتی تھی اور یہی جمہور کا مذہب ہے۔

طاؤس، عطاء اور وہب بن منبہ کا یہ مذہب ہے کہ مغرب کا اول وقت وہ ہے جب ستارے طلوع ہوجائیں اور انہوں نے اس پر حضرت ابوبصرہ غفاری کی حدیث سے استدلال کیا ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے المخمص میں ہم کو عصر کی نماز پڑھائی، پھر آپ نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں پر یہ نماز پیش کی گئی تھی انہوں نے اس کو ضائع کردیا سو جس نے اس نماز کی حفاظت کی اس کو اس نماز کا دگنا اجر ملے گا اس کے بعد اور کوئی نماز نہیں ہے حتی کہ ستارہ طلوع ہوجائے۔(صحیح مسلم: ۸۳۰، رقم المسلسل: 1892، سنن النسائی: 521)

امام طحاوی نے اس حدیث کا یہ جواب دیا ہے کہ آخری جملہ راوی نے اپنی رائے سے کہا ہے یہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد نہیں ہے۔

علاوہ ازیں نبی کریم ﷺ سے متواتر روایت یہ ہے کہ جیسے ہی سورج غروب ہوتا آپ مغرب کی نماز پڑھ لیتے تھے۔ ابوبصرہ کا نام حمیل ہے اور ایک قول ہے کہ ان کا نام جمیل ہے المخمص وہ جگہ ہے جہاں پر اونٹ ایک کھٹی گھاس چرتے ہیں۔

امام مالک، امام شافعی، امام احمد، امام ابویوسف، امام محمد اور داؤد ظاہری کے نزدیک جب شفق کی سرخی غائب ہوجائے تو مغرب کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عائشہ، حضرت ابوہریرہ، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہم کے نزدیک جب سفیدی غائب ہوجائے تو مغرب کا وقت ختم ہو جاتا ہے اور یہی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۵ ص ۸۱۔۸۲ دار الکتب العلمیہ بیروت)

* باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم: 1349 ج ۲ ص ۲۵۸ پر مذکور ہے اس کی شرح کا عنوان ہے:

مغرب کے وقت میں مذاہب اربعہ۔

Exit mobile version