Site icon اردو محفل

کتاب مواقیت الصلوۃ باب 18 حدیث نمبر 560

۵۶۰۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ قَدِمَ الْحَجَّاجُ فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللَّهِ فَقَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ نَقِيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا وَأَحْيَانًا إِذَا رَآهُمْ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ، وَإِذَا رَآهُمْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ، وَالصُّبْحَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ۔ (طرف الحدیث: ۵۶۵)

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن بشار نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از سعد از محمد بن عمرو بن الحسن بن علی انہوں نے بیان کیا کہ حجاج آیا تو ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے (نماز کے اوقات کے متعلق) سوال کیا تو انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ ظہر کی نماز دوپہر کے وقت پڑھتے تھے اور عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج چمک رہا ہوتا تھا اور مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج غروب ہوجاتا اور عشاء کی نماز مختلف اوقات میں پڑھتے تھے جب آپ دیکھتے تھے لوگ جمع ہوگئے ہیں تو آپ جلدی پڑھتے اور جب آپ دیکھتے تھے۔کہ لوگوں نے تاخیر کی ہے تو آپ عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھتے اور صبح کی نماز آپ آخر شب کے اندھیرے میں پڑھتے تھے۔

(صحیح مسلم: 646، الرقم المسلسل: 1433، سنن ابوداؤد: ۳۹۷، سنن نسائی: ۵۲۳، مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱ ص ۳۱۸، مسند ابوداؤد الطیالسی: 1722،سنن دارمی: ۱۱۸۴، مسند ابویعلی: ۲۰۲۹، صحیح ابن حبان: ۱۵۲۸، سنن بیہقی ج ۱ ص 449، شرح السنہ: ۳۵۱، مسند احمد ج ۳ ص ۳۶۹ طبع قدیم، مسند احمد:14969، ج ۲۳ ص ۲۲۲ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)

اس حدیث کے چھ رجال ہیں ان کا پہلے تعارف ہوچکا ہے۔

حجاج کا تذکرہ اور اس کے آنے پر نمازوں کے اوقات معلوم کرنے کا سبب اور “غلس” کا معنی

اس حدیث میں مذکور ہے: حجاج آیا اس سے مراد حجاج بن یوسف ثقفی ہے جو عراق کا گورنر تھا، حجاج کے آنے سے مراد یہ ہے کہ حجاج، عبدالملک بن مروان کی طرف سے مدینہ کا گورنر بن کر آیا یہ ۷۴ھ کا واقعہ ہے حضرت ابن الزبیر رضی اللہ عنہما کے شہید ہونے کے بعد عبد الملک نے اس کو حرمین کا گورنر بنادیا تھا۔ اس حدیث میں مذکور ہے کہ ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ سے سوال کیا۔ مسند ابوعوانہ میں مذکور ہے کہ ہم نے حضرت جابر سے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا، کیونکہ حجاج تاخیر سے نماز پڑھتا تھا اور اس حدیث میں “غلس” کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: آخر شب کا اندھیرا۔

نمازوں کے مستحب اوقات

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز کو اس کا وقت شروع ہونے کے بعد جلدی پڑھنا چاہیے، سوا ان نمازوں کے جن میں احادیث صحیحہ سے تاخیر ثابت ہے، سوا ان میں تاخیر مستحب ہے جیسا کہ گرمیوں میں ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنا مستحب ہے یعنی ایک مثل سایہ ہوجانے کے بعد، اور صبح کو سفیدی پھیل جانے کے بعد نماز پڑھنا مستحب ہے، اور عشاء کی نماز کو تہائی رات تک مؤخر کرکے پڑھنا مستحب ہے اور عصر اور مغرب کی نماز کو وقت شروع ہونے کے بعد جلدی پڑھنا مستحب ہے۔

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب حکام خلاف شرع کام کریں تو عالم دین سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے جیسا کہ جب حجاج نے دیر سے نمازیں پڑھائیں تو لوگوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنت کے مطابق نماز کے اوقات معلوم کیے۔

* باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم: ۱۳۵۹۔ ج ۲ ص 271۔ 279 پر مذکور ہے اس کی شرح کے عنوان ہیں:

۱. فجر کے مستحب وقت میں مذاہب ائمہ

۲. عشاء کے بعد باتیں کرنا۔

Exit mobile version