۵۷۰ – حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ شغل عنھا لیلتہ،فأَخَّرَهَا حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ رَقَدْنَا، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ ﷺ، ثُمَّ قَالَ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ.قَالَ ابْنُ عُمَرَ لَا يُبَالِي أَقَدَّمَهَا أَمْ أَخَّرَهَا إِذَا كَانَ لَا يَخْشَى أَنْ يَغْلِبَهُ النَّوْمُ عَنْ وَقْتِهَا، وَكَانَ يَرْقَدُ قَبْلَهَا.
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمود نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبدالرزاق نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے ابن جریج نے خبر دی انہوں نے کہا: مجھے نافع نے خبر دی انہوں نے کہا: ہمیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ کسی کام میں مشغول تھے تو آپ نے عشاء کی نماز کو مؤخر کردیا حتی کہ ہم مسجد میں سوگئے پھر ہم بیدار ہوئے پھر ہم سوگئے پھر ہم بیدار ہوئے حتی کہ ہمارے پاس نبی ﷺ نکل کر آگئے اور پھر آپ نے فرمایا: تمام روئے زمین پر اس نماز کا تمہارے سوا اور کوئی انتظار نہیں کررہا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ عشاء کی نماز مقدم کریں یا مؤخر کریں جبکہ انہیں یہ خطرہ نہ ہو کہ نیند کے غلبہ کی وجہ سے عشاء کا وقت نکل جائے گا اور وہ عشاء پڑھنے سے پہلے سوجاتے تھے۔
