۵۷۱ – قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ سَمِعْتُ ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِالْعِشَاءِ، حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: الصَّلوةَ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَخَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الآنَ، يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً، وَاضِعاً يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ لَوْ لَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا هَكَذَا. فَاسْتَثْبَتُّ عَطَاءً كَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِه؟ِ كَمَا أَنْبَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَبَدَّدَ لِي عَطَاءٌ بَيْنَ أَصَابِعِهِ شیئا من تبدید، ثُمَّ وَضَعَ طَرَفَ أَصَابِعِهِ عَلَى قَرْنِ الرَّأْسِ، ثُمَّ ضَمَّهَا يُمِرُّهَا عَلَى الرَّأْسِ، حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامُهُ طَرَفَ الأُذُنِ، مِمَّا يَلِي الْوَجْهَ عَلَى الصُّدْغِ وَنَاحِيَةِ اللِّحْيَةِ، لَا یقَصِّرُ وَلَا يُبَطِّشُ إِلَّا كَذَلِكَ، وَقَالَ: لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا هَكَذَا. [طرف الحديث: 7239]
ابن جریج بیان کرتے ہیں: میں نے عطاء سے کہا: انہوں نے بیان کیا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں تاخیر کر دی تھی کہ لوگ سوگئے اور بیدار ہوئے اور سوگئے اور بیدار ہوئے پھر حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، پس انہوں نے کہا: نماز (کے لیے آئیے)۔ عطاء نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: پھر نبی ﷺ باہر نکلے گویا کہ میں اب بھی آپ کی طرف دیکھ رہا ہوں آپ کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے آپ نے اپنا ایک ہاتھ اپنے سر کے اوپر رکھا ہوا تھا، پس آپ نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت کے اوپر دشوار نہ ہوتا تو میں انہیں حکم دیتا کہ وہ اس وقت عشاء کی نماز پڑھیں۔ ابن جریج نے کہا: میں نے عطاء سے پوچھا: نبی ﷺ نے کس طرح اپنا ہاتھ اپنے سر کے اوپر رکھا ہوا تھا جس طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کو بیان کیا تھا عطاء نے اپنی انگلیوں کو تھوڑا سا پھیلایا، پھر ان انگلیوں کو ملا کر اپنے سر پر پھیرا حتی کہ آپ کے انگوٹھے نے کان کی لو کو مس کیا، جس طرف سے کان چہرے کے قریب کنپٹی پر اور ڈاڑھی کی طرف تھا عطاء اپنے ہاتھ کو کھینچتے تھے نہ موڑتے تھے مگر اسی طرح اور آپ نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر دشوار نہ ہوتا تو انہیں اس وقت نماز پڑھنے کا حکم دیتا۔
[صحیح مسلم: 642-۶۳۹، الرقم المسلسل: 1425-1419، سنن ابوداؤد: ۴۲۰، سنن نسائی: ۵۳۶، مسند الحمیدی: 492، مسند ابویعلی: ۲۳۹۸، صحیح ابن خزیمہ:342، سنن دارمی: ۱۲۱۵، صحیح ابن حبان: ۱۵۳۳، مصنف عبدالرزاق: ۲۱۱۳، مصنف ابن ابی شیبہ: ج 1 ص۳۳۱، المعجم الکبیر: 11390، مسند احمد ج 1 ص ۲۲۱ طبع قدیم، مسند احمد: ۱۹۲۶، ج ۳ ص ۴۰۳، مؤسسۃ الرسالۃ بیروت]
حدیث مذکور کے رجال
(۱) محمود بن غیلان الحافظ المروزی
(۲) عبدالرزاق الیمانی
(۳) عبدالملک بن جریج
(۴) نافع مولیٰ ابن عمر
(۵) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما۔(عمدۃ القاری ج ۵ ص ۹۹)
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث اس جملہ میں ہے: حتیٰ کہ ہم مسجد میں سوگئے اور اس جملہ میں ہے: لوگ گئے اور اس جملہ میں ہے: حضرت ابن عمر عشاء سے پہلے سوجاتے تھے۔
جس پر نیند کا غلبہ ہو، اس کے عشاء پڑھنے سے پہلے سونے کا جواز تہائی رات تک ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔نماز مؤخر کرنے کا استحباب اور دیگر مسائل
اس حدیث سے حسب ذیل مسائل مستنبط ہوتے ہیں:
(1) جس شخص پر نیند کا غلبہ ہو یا جس شخص کو کسی ضرورت کی وجہ سے جلد سونا ہو یا کسی بیماری کی وجہ سے وہ عشاء کی نماز سے پہلے سوسکتا ہے بشرطیکہ اس کو یہ اعتماد ہو کہ وہ وقت کے اندر اٹھ کر نماز پڑھ لے گا۔
(2) اس حدیث میں عشاء کی نماز کو تاخیر سے پڑھنے کی فضیلت پر دلیل ہے کیونکہ آپؐ نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر دشوار نہ ہوتا تو میں اس کو اسی وقت میں نماز پڑھنے کا حکم دیتا۔
(3) اس حدیث میں یہ بھی دلیل ہے کہ احکامِ شرعیہ آپؐ کی طرف مفوض ہیں کیونکہ آپؐ نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر دشوار نہ ہوتا تو میں اس کو اسی وقت میں نماز پڑھنے کا حکم دیتا۔
(4) اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ امام کو نماز پڑھانے کی طرف متوجہ کرنا اور نماز کو یاد دلانا جائز ہے جیسا کہ حضرت عمرؓ نے بہ آواز بلند کہا: (نماز کے لیے آئیے)۔
(5) اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ بچوں اور عورتوں کا جماعت سے نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں آنا جائز ہے البتہ بہت چھوٹے بچوں کو مسجد میں نہیں لانا چاہیے جن سے یہ خطرہ ہو کہ وہ مسجد میں پیشاب کردیں گے یا قے کردیں گے یا جماعت میں نمازیوں کے آگے پھرتے رہیں گے یا ابا ابا کہہ کر مسجد میں شور کرتے پھریں گے۔
(6) اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر بیٹھے بیٹھے نیند آجائے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا بشرطیکہ مقعد زمین پر جمی رہے کیونکہ اس حدیث میں نمازیوں کے سونے کا ذکر ہے اور یہ ذکر نہیں ہے کہ وہ اٹھ کر وضو کرنے کے لیے گئے۔(عمدۃ القاری ج ۵ ص ۱۰۱ مع زیادۃ الایضاح دار الکتب العلمیہ بیروت 1421ھ)
* باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۳۵۱۔ ج ۲ ص ۲۶۳ پر مذکور ہے اس کی شرح کے یہ عنوان ہیں:
(1) عشاء کے وقت میں مذاہب اربعہ
(2) آپؐ کی امت پر شفقت اور رعایت
(3) منصب رسالت اور تشریع احکام۔
