۲۵ – بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ
عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے
یہ عنوان اس پر دلالت کرتا ہے کہ عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک ہے۔
وَقَالَ أَبُو بَرْزَةَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ يَسْتَحِبُّ تَأْخِيرَهَا۔
اور حضرت ابو برزہ نے کہا: نبی کریم ﷺ عشاء کی نماز میں تاخیر کو مستحب قرار دیتے تھے۔
یہ تعلیق صحیح البخاری: 547 کا ایک قطعہ ہے۔
۵۷۲ – حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحِيمِ الْمُحَارِبِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَخَّرَ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْف اللَّيْلِ، ثُمَّ صَلَّى، ثُمَّ قَالَ قَدْ صَلَّى النَّاسُ وَنَامُوا، امااِنَّکُمْ فِیْ صَلٰوةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوْهَا. وَزَادَ ابْنُ اَبِیْ مَرْیَمَ: اخبرنا یحیی بْنُ اَیُّوْبَ قَالَ حَدَّثَنِیْ حُمَیْدٌ سَمِعَ اَنَسًا قَالَ کَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلٰی وَبِیْصِ خَاتَمِهِ لَیْلَتَئذ۔.
[اطراف الحدیث: ۶۰۰، ۶۶۱، 847، ۵۸۶۹]
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبدالرحیم المحاربی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں زائدہ نے حدیث بیان کی از حمید الطویل انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے نے عشاء کی نماز آدھی رات تک مؤخر کر دی پھر نماز پڑھی پھر فرمایا: لوگوں نے نماز پڑھی اور سوگئے اور تمہارا شمار اس وقت تک نماز میں ہوتا ہے جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہے اور ابن ابی مریم نے یہ اضافہ کیا: ہمیں یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں حمید نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا: گویا اس رات میں نبی کریم ﷺ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا تھا۔
(سنن ابن ماجہ: 692، سنن نسائی: ۵۳۵، مسند ابویعلی: ۳۸۰۰، صحیح ابن حبان: ۲۰۳۳، سنن بیہقی ج 1 ص ۳۷۵، مسند احمد ج ۳ ص ۱۸۲ طبع قدیم مسند احمد: ۱۲۸۸۰، ج ۲۰ ص 240 مؤسسۃ الرسالۃ بیروت، جامع المسانید لابن الجوزی: 271، مکتبۃ الرشید ریاض 1426ھ)
حدیث مذکور کے رجال
(۱) عبد الرحیم بن عبدالرحمان بن محمد المحاربی الکوفی، ان کی کنیت ابوزیاد ہے اور یہ امام بخاری کے قدیم شیوخ سے ہیں یہ ۲۱۱ھ میں فوت ہوگئے تھے صحیح بخاری میں ان سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے۔ المحاربی میں محارب بن عمرو بن ودیعہ کی طرف نسبت ہے
(۲) زائدہ بن قدامہ
(۳) حمید الطویل
(۴) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ۔ (عمدۃ القاری ج 5 ص 102)
اس حدیث میں یہ مذکور ہے کہ نبی کریم ﷺ نے آدھی رات کے بعد عشاء کی نماز پڑھی اس میں یہ دلیل ہے کہ آدھی رات تک نماز میں تاخیر کرنا مستحب ہے اور آدھی رات کے بعد نماز پڑھنا مباح ہے اس کی مزید تشریح حدیث: 547 میں کی جاچکی ہے۔
