Site icon اردو محفل

کتاب مواقیت الصلوۃ باب 26 حدیث نمبر 574

۵۷۴ – حَدَّثَنَا ھدبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ھمامٌ قَالَ  حَدَّثَنِی أَبُو جَمْرَةَ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی مُوسَیٰ عَن أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَن صَلَّی الْبُرْدَیْنِ دَخَلَ الْجَنَّة۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ھدبہ بن خالد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ھمام نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے ابو جمرہ نے حدیث بیان کی از ابی بکر بن ابی موسیٰ نے، اور وہ خود کے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے ٹھنڈے وقت کی دو نمازیں پڑھیں وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔

وَقَالَ ابْنُ رَجَاءٍ حَدَّثَنَا ھمَّامٌ، عَنْ أَبِی جَمْرَةَ أَنَّ أَبَا بَکْرِ بْنِ عَبْدِاللہِ بْنِ قَیْسٍ أَخْبَرَہُ بِہٰذَا۔

اور ابنِ رجاء نے کہا: ہمیں ھمام نے حدیث بیان کی از ابی جمرہ کہ ابوبکر بن عبداللہ بن قیس نے بھی اس حدیث کی خبر دی۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ عَنْ حَبَّانَ قَالَ حَدَّثَنَا ھمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِاللہِ عَنْ أَبِیہِ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہ۔

امام بخاری نے کہا: ہمیں اسحاق نے حدیث بیان کی از حبان انہوں نے کہا: ہمیں ھمام نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو جمرہ نے حدیث بیان کی از ابو بکر بن عبداللہ از والد خود از نبی ﷺ، اس حدیث کی مثل۔ (صحیح مسلم: ۶۳۵، الرقم المسلسل: 1411، سنن دارمی: 1432، جامع المسانید ابن الجوزی: 3934، مکتبہ الرشد، ریاض: ۱۴۲۶ھ)

فجر اور عصر کی پابندی کرنے والا اگر دیگر گناہوں میں ملوث رہا تو وہ جنت میں کیسے داخل ہوگا؟

اکثر علماء نے یہ کہا ہے کہ ٹھنڈے وقت کی دو نمازوں سے مراد فجر اور عصر کی نمازیں ہیں، اس حدیث میں مذکور ہے کہ جس نے ان دو نمازوں کو پڑھا، وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جس نے صرف ان دو نمازوں کو پڑھا اور باقی اسلام کے احکام پر عمل نہیں کیا اور ممنوعہ برے کاموں کا ارتکاب کیا، کیا وہ بھی جنت میں داخل ہوجائے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مطلب یہ ہے کہ جو ان دو نمازوں کی پابندی کرے گا وہ باقی نمازوں کو بھی پڑھے گا اور اسلام کے تمام احکام پر عمل کرے گا اور بے حیائی اور برے کاموں سے بچے گا کیونکہ نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے (العنکبوت: ۴۵) اور اگر وہ کسی کبیرہ گناہ میں ملوث ہوگیا تو مرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ اس کو توبہ کی توفیق دے گا اور اس کی شفاعت بھی متوقع ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل محض سے بھی گناہ گاروں کو بخش دیتا ہے ورنہ وہ اپنی سزا بھگت کر آخر میں جنت میں داخل ہوجائے گا۔

* باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم: 1337، ج ۲ ص ۲۵۶ پر مذکور ہے اس کی شرح کے یہ عنوان ہیں:

(۱) دیدار الہی کی تحقیق

(۲) عصر اور فجر میں ملائکہ کے اجتماع اور نوید جنت کی خصوصیت۔

Exit mobile version