۲۷ – بَابُ وَقْتِ الْفَجْرِ
فجر کا وقت
اس باب میں نمازِ فجر کا وقت بیان کیا گیا ہے۔
۵۷۵ – حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ زید بن ثابت حدثہ انھم تسحروا مع النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ. قُلْتُ كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ قَدْرُ خَمْسِينَ أَوْ سِتِّينَ، يَعْنِي آيَةً. [طرف الحديث: 1921]
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عمرو بن عاصم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ھمام نے حدیث بیان کی از قتادہ از حضرت انس رضی اللہ عنہ کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ان کو یہ حدیث بیان کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کی، پھر وہ نماز کی طرف کھڑے ہوگئے؟ میں نے پوچھا: ان کی سحری اور نماز کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ تو انہوں نے بتایا: جتنی دیر میں پچاس یا ساٹھ آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے۔
(صحیح مسلم: ۱۰۹۷، الرقم المسلسل: ۲۵۱۱، سنن الترمذی: ۷۰۳، ۷۰۴، سنن نسائی: ۲۱۵۵، سنن دارمی: 1695، صحیح ابن خزیمہ: 1941، المعجم الکبیر: 4792، سنن بیہقی ج 4 ص ۲۳۸، شرح السنہ: ۳۵۵، مسند احمد ج ۵ ص ۱۸۲ طبع قدیم، مسند احمد: ۲۱۵۸۵، ج ۳۵ ص ۴۶۱، مؤسسۃ الرسالۃ بیروت، جامعۃ المسانید لابن الجوزی: 1751، المکتبۃ الرشدیہ ریاض ۱۴۲۶ھ)
حدیث مذکور کے رجال
(۱) عمرو بن عاصم الحافظ البصری ،یہ ۲۲۳ھ میں فوت ہوگئے تھے
(۲) ھمام بن یحییٰ
(۳) قتادہ بن دعامہ
(۴) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ
(۵) حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ۔ (عمدۃ القاری ج ۵ ص ۱۰۶)
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ سحری کے بعد پچاس یا ساٹھ آیات کی تلاوت کی مقدار وقت گزرنے کے بعد فجر کی نماز کھڑی ہوجاتی تھی اور یہ فجر کی نماز کا اول وقت تھا۔ اس حدیث سے امام بخاری نے یہ استدلال کیا ہے کہ فجر کی نماز کا اول وقت وہ ہے جب فجر طلوع ہوتی تھی۔
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ سحری میں تاخیر کرنا مستحب ہے اور فجر کا اول وقت طلوعِ فجر ہے۔
* باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم: 2448، ج ۳ ص ۸۲ پر مذکور ہے اس کی شرح میں سحری کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
