روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ جب میں حائضہ ہوتی تو بسترسے چٹائی پراتر آتی پھرہم حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے قریب نہ ہوتے یہاں تک کہ ہم پاک ہوجاتے ۱؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی ہم تمام ازواج پاک بحالت حیض حضورانورکے پاس نہ لیٹتے تھے بلکہ علیحدہ چٹائی پر آپ کے بستر سے دور،یہ تو ہمارا اپنا عمل تھا کہ اس حالت میں آپ کے پاس لیٹنے،بیٹھنے کی جرات وہمت نہ کرتے تھے،ہاں اگر حضورانورخودہی ہم کوبلالیتے تو تعمیل حکم کرتے تھے،لہذایہ حدیث ان گزشتہ احادیث کے خلاف نہیں جن میں مباشرت اور مس ثابت ہے کہ وہ حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہواہے اوریہاں ازواج پاک کی اپنی ہمت و جرات کا ذکر ہے۔ بعض نے فرمایا یہ حدیث منسوخ ہے اورگزشتہ احادیث ناسخ مگر پہلی توجیہ قوی ہے۔