روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بمقابلہ تمہارے ظہرجلدی پڑھتے تھے اورتم عصرحضور سے جلدی پڑھتے ہو ۱؎(احمدوترمذی)
شرح
۱؎ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عصرکی نمازوقت شروع ہوتے ہی نہ پڑھے کچھ دیرسے پڑھے۔اگرحضور وقت شروع ہوتے ہی پڑھاکرتے تو یہ حضرات اس سے پہلے کیسے پڑھ سکتے،لہذا یہ حدیث امام اعظم کی تاخیرعصر پر قوی دلیل ہے۔حضرت ام سلمہ ان سے فرمارہی ہیں کہ اگرتم سنت کی اتباع چاہتے ہوتوعصر دیرسے پڑھا کرو۔