روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو سات برس صرف ثواب کے لئے اذان دے تو اس کے لئے آگ سے خلاصی لکھی جاتی ہے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یعنی جوبغیرتنخواہ سات سال اذان دے تو رب تعالٰی اسے جہنم سے آزادی اور جنت میں داخلے کا پروانہ(پاسپورٹ اورویزہ)لکھ دیتا ہے جو قیامت میں اسے دیا جائے گا،جس سے بے کھٹک وہ دوزخ سے گزرکر جنت میں داخل ہوگا۔بعض مؤذن یہ طے کرلیتے ہیں کہ ہم تنخواہ مسجدکی صفائی وغیرہ کی لیں گے اذان فی سبیل اﷲ دیں گے ان کا ماخذیہ حدیث ہے۔ان شاءاﷲ اس کاضرورفیض پائیں گے۔