روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بالغہ عورت کی نماز دوپٹے کے بغیر قبول نہیں ہوتی ۱؎ (ابوداؤدوترمذی)
شرح
۱؎ خِمَارْ خَمْرَۃٌ سے بناءبمعنی ڈھکنا،اسی لئے شراب کو خمر کہتے ہیں،کہ وہ عقل کو ڈھک لیتی ہے،عمامہ کوبھی خمار کہہ دیا جاتاہے۔یہاں سر ڈھکنے والا کپڑا مرادہے،دوپٹہ،چادریا بڑا رومال۔اس سے معلوم ہوا کہ بالغہ عورت کا ستر سر ہے جس کا ڈھکنا نماز میں فر ض ہے۔لہذا ایسے باریک دوپٹہ میں نماز جس سے سر نظر آئے نہ ہوگی۔یہ حکم آزاد عورت کے لیے ہے،لونڈی کا سر سترنہیں۔