Site icon اردو محفل

کتاب العلم باب 14 حدیث نمبر 72

١٤ – باب الفهم في العلم

علم کی فہم

 

اس عنوان پر یہ اعتراض ہے کہ علم اور فہم کا ایک معنی ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ علم سے مراد ہے: معلوم اور اس عنوان کا خلاصہ ہے: معلومات کا ادراک، اور اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں فقہ کا ذکر تھا اور ہم بتاچکے ہیں کہ فقہ کا معنی فہم ہے۔

۷۲- حدثنا علي قال حدثنا سفيان قال قال لي  ابن أبي نجيح عن مجاهد قال صحبت ابن عمر إلى المدينة فلم اسمعه يحدث عن رسول اللہ صلى الله عليه وسلم إلا حـديثا واحدا، قال كنا عند النبی صلى الله عليه وسلم فأتى بجمار فقال ان من الشجر شجرة مثلها كمثل المسلم فأردت ان أقول هي النخلة، فإذا أنا أصغر القوم، فسكت قال النبي صلى الله عليه وسلم هي النخلة ۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں علی نے حدیث بیان کی وہ کہتے ہیں : ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں : مجھ سے ابن ابی نجیح نے کہا از مجاہد، انہوں نے کہا: میں مدینہ تک حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کے ساتھ رہا۔ میں نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف ایک حدیث سنی،  انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوۓ تھے کہ آپ کے پاس کھجور کے درخت کا گوند لایا گیا، جو چربی سے مشابہ ہوتا ہے، آپ نے فرمایا: درختوں میں سے ایک درخت ہے جو مسلم کے مشابہ ہے، میرے دل میں آیا کہ میں کہوں کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن میں حاضرین میں سب سے چھوٹا تھا، میں خاموش رہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے ۔

حدیث :61 میں اس حدیث کی تخریج اور شرح گزرچکی ہے ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) علی بن عبداللہ بن جعفر بن نجیح، سمعانی نے کہا: یہ اپنے زمانہ میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا علم رکھنے والے تھے،  ان سے امام احمد، امام بخاری اور امام ابوداؤد وغیرہ نے روایت کیا ہے یہ 234ھ میں فوت ہو گئے تھے.

(۲) سفیان بن عیینہ ان کا تعارف ہو چکا ہے.

(۳) عبداللہ بن یسارابونجیح، یحیی القطان نے کہا: یہ منکر تقدیر تھے،  ابوزرعہ نے کہا : یہ ثقہ اور صالح الحدیث تھے یحیی نے کہا: ابن ابی نجیح اپنی بدعت کے بہت بڑے مبلغ تھے یہ ۱۳۱ھ میں فوت ہو گئے تھے.

( ۴ ) مجاہد بن جبر المخزومی، یہ تابعین کے طبقہ ثانیہ میں سے ہیں، اور فقہاء اہل مکہ سے ہیں، ان کی امانت اور توثیق پر اتفاق ہے انہوں نے حضرت ابن عباس، حضرت جابر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت کی ہے اور ان سے امام بخاری وغیرہ نے روایت کی ہے،  حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کے سماع میں اختلاف ہے یہ 83 سال کی عمر میں ۱۰۲ ھ میں فوت ہو گئے تھے.

(۵) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما ان کا تعارف گزر چکاہے۔

( عمدة القاری ج 2 ص 79۔80)

Exit mobile version