Site icon اردو محفل

کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 17 حدیث نمبر 152

۱۷ – بَابُ حَمْلِ الْعَنَزَةِ مَعَ المَاءِ فِي الْإِسْتِنْجَاءِ

استنجاء کے لیے پانی کے ساتھ نیزہ کو اٹھانا

اس باب کے عنوان میں العنزة ” کا لفظ ہے یہ لاٹھی سے لمبا ہوتا ہے اور جنگ میں استعمال ہونے والے نیزہ یا بھالے سے چھوٹا ہوتا ہے اور اس کی نچلی طرف لوہے کا نوک دار پھل ہوتا ہے اور اس کو بوڑھے لوگ سہارے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

” مفتاح العلوم میں مذکور ہے کہ نجاشی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نیزہ ہدیہ میں پیش کیا تھا، جب آپ عیدہ گاہ میں نماز پڑھانے کے لیے جاتے تو وہ آپ کے سامنے زمین میں گاڑ دیا جاتا’ آپ کے بعد وہ نیزہ آپ کے خلفاء رضی اللہ عنہم کے پاس رہا اور طبقات کبری میں مذکور ہے کہ نجاشی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین نیزے ہدیہ کیے تھے ایک نیزہ آپ نے اپنے پاس رکھ لیا’ ایک نیز حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عطا کیا اور ایک نیزہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو عطا کیا۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۴۴۴ فتح الباری ج ا ص 694 )

ان دونوں بابوں میں مناسبت یہ ہے کہ ان دونوں بابوں میں پانی سے استنجاء کرنے کا ذکر ہے۔

١٥٢ – حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ ابی مَيْمُونَةَ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللہ  صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ الْخَلَاء فَاحْمِلُ انا وَغُلَامٌ إِدَاوَةً مِّنْ مَّاءٍ وَعَنَزَةٌ ، يَسْتَنْجِى بِالْمَاءِ ۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں محمد بن بشار نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از عطاء بن ابی میمونہ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو میں اور ایک اور لڑکا پانی کا مشکیزہ اور نیزہ اٹھا کر لے جاتے آپ پانی سے استنجاء کرتے ۔

تَابَعَهُ النَّضْرُ وَشَاذَانُ عَنْ شُعْبَةَ الْعَنَزَةُ عَصا عَلَيْهِ زُج.

 محمد جعفر کی متابعت النضر اور شاذان نے کی ہے از شعبہ ” العنزہ “ اس لاٹھی کو کہتے ہیں : جس پر نوک دار لوہے کا پھل ہو۔

اس حدیث کی تخریج اور شرح کے لیے صحیح البخاری: ۱۵۰ کا مطالعہ کریں۔

نیزہ ساتھ رکھنے کی حکمتیں۔

(۱) نماز کے وقت سامنے نیزہ گاڑکر اس کو سترہ بنا دیا جائے تاکہ کھلی فضاء میں لوگ اس کے سامنے سے گزرسکیں۔

(۲) اس نیزہ سے منافقوں اور یہودیوں کی سازشوں کا توڑ کیا جاسکے وہ آپ کو قتل کرنے کی سازشیں کرتے رہتے تھے اس لیے آپ اپنی مدافعت کے لیے اپنے پاس نیزہ رکھتے تھے۔

(۳) موذی جانوروں اور حشرات الارض اور سانپ اور بچھو سے بچاؤ کے لیے آپ نیز در کھتے تھے۔

(۴) قضاء حاجت کے وقت نرم جگہ بنانے کے لیے نیزہ کی ضرورت پڑتی ہے۔

(۵) بعض اوقات اس پر کوئی چیز ٹانگنی ہوتی ہے اور بعض اوقات نیزہ سے سہارا لیا جاتا ہے اور اس پر ٹیک لگائی جاتی ہے۔

Exit mobile version