١٥ – بَابُ الْإِسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ

پانی کے ساتھ استنجاء کرنا

یعنی پانی کے ساتھ استنجاء کرنے کا شرعی حکم، استنجاء کا لغوی معنی ہے: مخرج کے منہ پر باقی نجاست کو زائل کرنا اور اس کا شرعی معنی ہے: قبل یا ڈبر پر لگی ہوئی نجاست کو مٹی کے ڈھیلوں یا پانی سے زائل کرنا، اس سے پہلے باب میں قضاء حاجت کا ذکر تھا اور اس باب میں قضاء حاجت کے اثر کو زائل کرنے کا ذکر ہے۔

١٥٠ – حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِى مُعَاذ، وَاِسْمُهُ عَطَاء بن ابي مَيْمُونَةً قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ أَجِيءُ انا وَغُلَامٌ مَعَنَا إِدَاوَةٌ مِّنْ مَّاءٍ يَعْنِي يَسْتَنْجِى بِهِ.

اطراف الحدیث :۱۵۱ – ۱۵۲ – ۲۱۷ -۵۰۰]

 امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از ابی معاذ، ان کا نام عطاء ابن ابی میمونہ ہے انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لیے نکلتے تو میں اور ایک لڑکا آتا ہمارے ساتھ پانی کا برتن ہوتا، آپ اس سے استنجاء کرتے تھے۔

(صحیح مسلم:270،  الرقم المسلسل : ۶۰۸ ، سنن ابوداؤد: ۴۳، سنن نسائی :45،سنن الکبری للنسائی: ۴۸)

عنوان باب کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: آپ اس (پانی) سے استنجاء کرتے ۔ امام بخاری نے اس باب سے ان لوگوں پر رد کرنے کا قصد کیا ہے جو کہتے ہیں: پانی کے ساتھ استجاء کرنا مکروہ ہے اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کے ساتھ استنجاء نہیں کیا، ہم عنقریب ان شاء اللہ اس سلسلہ میں مفصل احادیث بیان کریں گے، صحیح البخاری : ۱۴۳ کی شرح میں بھی اس کی کافی وضاحت ہو چکی ہے۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) ابو الولید ہشام بن عبد الملک البصری

(۲) شعبہ بن الحجاج ان کا تعارف ہو چکا ہے

(۳) ابو معاذ عطا بن میمونہ البصری التابعی یہ ۱۳۰ھ میں فوت ہو گئے تھے، یہ تقدیر کا انکار کرتے تھے۔

(۴) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ان کا تعارف گزر چکا ہے۔

(عمدۃ القاری ج ۲ ص ۴۳۹)

غلام “ اور “اداوہ “ کا معنی

اس حدیث میں غلام “ کا لفظ ہے غلام “ اس نو عمر لڑکے کو کہتے ہیں، جس کی مسیں بھیگ چکی ہوں، زمخشری نے کہا ہے کہ غلام اس نو عمر لڑکے کو کہتے ہیں، جس کی ڈاڑھی آنے والی ہو۔

اداوہ چمڑے کے چھوٹے برتن کو کہتے ہیں، جس میں پانی رکھا جاتا ہے۔

پانی سے استنجاء کرنے کی ممانعت کے متعلق احادیث

امام ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ متوفی ۲۳۵ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ھمام بیان کرتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پانی سے استنجاء کرنے کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: پھر ہمیشہ میرے ہاتھ سے بدبو آتی رہے گی ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: 1635،- ج ۱ص ۱۴۲ دار الکتب العلمیہ بیروت 1416ھ )

قضاء حاجت کے بعد ہاتھوں کو صابن سے دھولینا چاہیے، خصوصاً جراثیم کش صابن مثلاً ڈیٹول کے صابن سے اس سے بد بو بھی زائل ہوگی اور پیلیا (یرقان) کا خطرہ بھی نہیں رہے گا اگر استنجاء کرنے کے بعد صابن سے ہاتھ دھوئے بغیر کھانے پینے کی چیزوں کو ہاتھ لگایا جائے اور ان کو کھایا جائے تو اس سے پیلیا کا خطرہ ہے، گٹر کے پانی سے یہ بیماری پھیلتی ہے پاکستان کے شہروں میں سیوریج سسٹم کی خرابی کی وجہ سے سڑکوں پر گٹر کا پانی بہتا رہتا ہے، پھر دھوپ لگنے سے اس کے بخارات فضا میں اٹھتے ہیں اور گزرنے والوں کے سانس کے ذریعہ ان کے جسم میں اس کے جراثیم داخل ہوجاتے ہیں، اسی طرح لوگ سڑک پر بلغم تھوک دیتے ہیں اور دھوپ لگنے سے اس سے بخارات اٹھتے ہیں اور سانس کے ذریعہ تھوکنے والے کی بیماریاں دوسروں میں منتقل ہو جاتی ہیں، ہمارے ملک کے لوگوں میں اجتماعی شعور اور احساس ذمہ داری نہیں ہے۔

ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ اسود اور عبدالرحمان بن یزید بیت الخلاء میں داخل ہوتے اور پتھروں سے استنجاء کرتے اور اس پر اضافہ نہیں کرتے تھے اور پانی کو نہیں چھوتے تھے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۶ ۱۶۳)

یہ تابعین کا عمل ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے مقابلہ میں مرجوح ہے، پتھروں سے استنجاء کرنے سے کھال چھل جانے کا خطرہ ہے آج کل گھروں میں جو بیت الخلاء بنے ہوئے ہوتے ہیں، وہاں استنجاء کرنے کے بعد ان پتھروں کو رکھنا بہت دشوار ہے مساجد میں جو استنجا خانے بنے ہوتے ہیں، بعض لوگ استنجاء کرنے کے بعد ان پتھروں کو بیت الخلاء کے اندر اس کی نالی میں ڈال دیتے ہیں، جس کی وجہ سے سیوریج سسٹم خراب ہو جاتا ہے اور بیت الخلاء کی نالی سے پانی نہیں گزرتا اور وہ بند ہوجاتا ہے۔

حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین پتھروں سے استنجاء کیا جائے، جن میں لید نہ ہو ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: ۱۶۳۸)

اس حدیث میں پتھروں سے مراد مٹی کے ڈھیلے ہیں اور اس کا محل گاؤں اور دیہات ہیں یا چھوٹے شہر میں جہاں شہر کے باہر جنگل اور کھلے میدان ہوتے ہیں، وہاں مٹی کے ڈھیلوں سے استنجاء کر کے ان ڈھیلوں کو وہیں پھینک دیا جاتا ہے اس سے گھروں کے اندر بنے ہوئے بیت الخلاء میں ڈھیلوں سے استنجاء کرنا مراد نہیں ہے علاوہ ازیں اس حدیث میں بیان جواز مراد ہے استحباب نہیں ہے۔

بشر کہتے ہیں کہ طاؤس نے کہا: تین پتھروں سے استنجاء کرو میں نے کہا: اگر مجھے تین پتھر نہ ملیں ؟ انہوں نے کہا: پھر تین لکڑیوں سے استنجاء کرو میں نے کہا: اگر مجھے تین لکڑیاں نہ ملیں ؟ انہوں نے کہا: پھر خاک کی تین مٹھیوں سے استنجاء کرو۔

(مصنف ابن ابی شیبه : ۱۶۳۹)

تین پتھروں کی وضاحت اس سے پہلے کی جاچکی ہے نیز یہ طاؤس کا قول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نہیں ہے تین لکڑیوں سے استنجاء کرنے سے خراش پڑنے کا خطرہ ہے اور خاک کی مٹھی کے لیپ سے صفائی حاصل نہ ہونے کا امکان ہے۔

پانی سے استنجاء کرنے کے متعلق احادیث اور آثار

معاذہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اپنے شوہروں سے کہو کہ وہ پیشاب اور پاخانے کے اثر کو پانی سے دھولیا کریں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ عمل کرتے تھے اور میں لوگوں سے حیاء کرتی ہوں ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: ۱۶۱۸)

ابن سیرین بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ خواتین سے فرماتی تھیں : اپنے شوہروں سے کہو کہ وہ بیت الخلاء سے نکلنے کے بعد (یعنی قضائے حاجت کے بعد) استنجاء کیا کریں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ۱۶۱۹)

فریعہ حضرت حذیفہ کی زوجہ تھیں، وہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت حذیفہ پانی سے استنجاء کرتے تھے۔ (مصنف :۱۶۲۰)

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو میں اور میرا ہم عمر ایک اور لڑکا پانی کا مشکیزہ اور نیزہ اٹھا کر لے جاتے تھے سو آپ پانی سے استنجاء کرتے تھے ۔ (مصنف :1621)

ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو وضوء کرتے یا پانی سے استنجاء کرتے تھے۔ (مصنف : ۱۶۲۴)

ابوالنحاس بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سفر میں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا وہ پانی سے استنجاء کرتے تھے۔(المصنف : ۱۶۲۲)

یحیی بن ابی کثیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ حوض سے پانی لے کر استنجاء کرتے تھے ۔ (مصنف :۱۶۲۸)

یعقوب بن مجمع بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عویم بن ساعدہ سے پوچھا: تمہاری وہ کون سی طہارت ہے، جس کی وجہ سے اللہ نے تمہاری تعریف فرمائی ہے انہوں نے کہا: ہم پچھلے حصہ کو پانی سے دھوتے ہیں۔ (مصنف : ۱۶۲۹)

محمد بن یوسف بن عبد اللہ بن سلام بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس قباء میں آئے تو فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری طہارت کی تعریف اور تحسین کی ہے:

فِيهِ رَجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا وَاللهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ ( التوبة :١٠٨)

اس بستی میں ایسے لوگ ہیں، جو خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے

کیا تم مجھے اس کی خبر نہیں دو گے؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم نے تورات میں پڑھا تھا کہ پانی سے استنجاء کرنا چاہیے۔(مصنف : ۱۶۳۰)

شعبی بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : ” فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَهِّرِينَ ( التوبة : ۱۰۸) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اہل قباء ! اللہ تعالی نے تمہاری تعریف اور تحسین کسی وجہ سے فرمائی ہے؟ انہوں نے کہا: ہم میں سے ہر شخص بیت الخلاء سے نکل کر پانی سے استنجاء کرتا ہے۔ (المصنف : ۱۶۳۱)

عبدالملک بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم سے پہلے لوگ مینگنیاں کرتے تھے اور تم پتلا پاخانہ کرتے ہو اس لیے تم ڈھیلوں کے بعد پانی سے استنجاء کیا کرو۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: ۱۹۳۴ دار الکتب العلمیہ بیروت 1416ھ )

کسی بڑے عالم کو چھوٹوں سے ایسی خدمت لینی چاہیے؟

اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت انس اور ایک اور لڑکا، رسول اللہ صی اللہ علیہ وسلم کے استنجاء کے لیے پانی لے جاتے تھے،  اس سے معلوم ہوا کہ صالحین اور اہل فضل کی اس قسم کی خدمت کرنی چاہیے اور ان سے برکت حاصل کرنی چاہیے۔

کسی نیک شخص اور بڑے عالم کو لڑکوں سے اس قسم کی خدمت لینی چاہیے۔