Site icon اردو محفل

کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 45 حدیث 196

١٩٦ – حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُوأَسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ،فَعَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ وَمَج فِيْهِ.

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں محمد بن العلاء نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے حدیث بیان کی، از برید از ابوبرده از حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگایا، جس میں پانی تھا، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اور چہرہ کو اس میں دھویا اور اس میں کلی کی ۔

اس حدیث کی تخریج اور اس کی شرح صحیح البخاری : ۱۸۸ میں گزر چکی ہے، وہاں مطالعہ فرمائیں۔

جس برتن میں کلی کی ہو اس سے وضوء کرنے کا جواز

علامہ بدرالدین محمود بن احمد مینی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں :

داؤدی نے کہا ہے کہ اس پانی سے وضوء کرنا جائز ہے جس میں کلی کی ہو۔

اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ اس پانی کو پینا بھی جائز ہے اور اس کو اپنے چہرے اور سینہ پر ڈالنا بھی جائز ہے۔

(عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۳۳ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )

Exit mobile version