۱۸۸ – وَقَالَ أَبُو مُوسَى : دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءً، فَغسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ ، وَمَج فيهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُمَا اشْرَبَا مِنْهُ وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا ونُحورِ كُمَا . [ اطراف الحديث : ۱۹۶ – ۴۳۲۸

( صحیح مسلم : ۲۴۹۷ الرقم المسلسل : ۶۲۸۸ )

 اور حضرت ابو موسیٰ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا پیالہ منگوایا اور اس میں اپنے دونوں ہاتھوں کو اور چہرے کو دھویا اور کلی کی اور ان دونوں سے کہا: اس پانی کو پیو اور اس پانی کو تم دونوں اپنے چہروں اور اپنے سینوں پر ڈالو ۔

حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیالہ میں کلی کر کے ان کو پینے کا حکم اس لیے دیا تھا تا کہ آپ اپنے لعاب مبارک کی برکت ان کو پہنچا دیں۔ (فتح الباری ج اص 729 دار المعرفہ بیروت 1426ھ، فتح الباری ج۱ ص ۲۹۵ طبع لاہور ) اس نسخہ پر شیخ عبدالعزیز بن عبد اللہ بن باز کا حاشیہ ہے، لیکن انہوں نے حافظ ابن حجر کی اس عبارت پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ حافظ ابن حجر کی اصل عبارت یہ ہے: ” والغرض بذالك ايجاد البركة بريقه المبارك”  یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی کلی کا جو پانی پینے کا حکم فرمایا، اس سے آپ کی غرض یہ تھی کہ آپ اپنے لعاب دہن سے برکت کو وجود میں لائیں۔

باب مذکور کی تعلیق کی حدیث متصل

امام بخاری نے جو حدیث یہاں ذکر کی ہے وہ ایک طویل حدیث کا قطعہ ہے وہ حدیث اس طرح ہے:

حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، اس وقت آپ مکہ اور مدینہ کے درمیان جعرانہ میں ٹھہرے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ حضرت بلال تھے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور اس نے کہا: آپ نے جو مجھ سے وعدہ کیا تھا، کیا آپ اس کو پورا نہیں کرتے ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بشارت قبول کرو اس نے کہا: آپ مجھے بہت بشارتیں دے چکے ہیں! پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابو موسیٰ اور بلال کی طرف متوجہ ہوئے، گویا آپ غصہ میں تھے آپ نے فرمایا: اس شخص نے بشارت کو مسترد کردیا ہے تم دونوں قبول کرلو ان دونوں نے کہا: ہم نے قبول کرلیا، پھر آپ نے پانی کا پیالہ منگایا، اس میں اپنے دونوں ہاتھوں اور چہرے کو دھویا اور اس میں کلی کی پھر فرمایا: تم دونوں اس سے پی لو اور اس کو تم دونوں اپنے چہروں اور سینوں پر ڈالو اور بشارت قبول کرو پس ان دونوں نے پیالہ لیا اور اسی طرح کیا۔ (صحیح البخاری : 4328 صحیح مسلم : ۲۴۹۷)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب دہن کا پاکیزہ اور خوشبودار ہونا

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں :

علامہ کرمانی نے کہا ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پانی کے برتن میں کلی کرنا جائز ہے اور کلی میں منہ کے لعاب کی آمیزش ہوتی ہے۔ (علامہ عینی فرماتے ہیں: ) میں کہتا ہوں کہ یہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ہے کیونکہ آپ کا لعاب مشک سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے اور دوسرے شخص کے لعاب سے گھن آتی ہے اس لیے علماء نے اس کو مکروہ کہا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام بہت بلند ہے اور صحابہ کرام آپ کے بلغم کو بھی جھپٹ کرلیتے تھے اور اس کی برکت اور خوشبو حاصل کرنے کے لیے اس کو اپنے جسم اور کھال پر ملتے تھے ۔( صحیح البخاری : ۲۷۳۲-۲۷۳۱) اور آپ کے منہ کی خوشبو کی مثل کسی کے منہ کی بو نہیں تھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ فرشتوں سے باتیں کرتے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کے جسم اور آپ کے منہ کو خوشبودار بنایا اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم پانی کے برتن میں پھونک مارنے سے اس وجہ سے منع فرمایا ہے کہ اس سے دوسرے شخص کو گھن آئے گی کیونکہ عموماً لوگوں کے منہ سے بدبو آتی ہے۔

علامہ ابن بطال نے کہا ہے کہ آپ نے حضرت ابو موسیٰ کو وہ مشروب پینے کا حکم دیا، جس میں آپ نے کلی کی تھی اور اس کو چہرے اور سینے پر ڈالنے کا حکم دیا، ہوسکتا ہے یہ ان کی کسی بیماری کو دور کرنے کے لیے ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ان کو محض برکت پہنچانے کے لیے ہو ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۱۲ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۶۲۸۳۔ ج۲ ص 1178،  پر مذکور ہے اس کی شرح میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی سوانح بیان کی گئی ہے۔