٢٥٢- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، أَنَّهُ كَانَ عِندَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللهِ هُوَ وَاَبُوهُ ، وَعِنْدَهُ قَوْم ، فَسَأَلُوهُ عَنِ الْغُسلِ فَقَالَ يَكْفِيكَ صَاعٌ. فَقَالَ رَجُلٌ مَا يَكفيني ، فَقَال جَابِرٌ كَانَ يَكْفِى مَنْ هُوَ اَوْفِى مِنْكَ شَعْرًا وَخَيْرٌ مِنْكَ ، ثُمَّ اَمَّنَا فِي ثَوب (اطراف الحدیث: ۲۵۵-۲۵۶)
صحیح مسلم :329 الرقم المسلسل : ۷۲۸ سنن ابن ماجہ: 577، سنن نسائی: ۲۵۲)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن محمد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں یحیی بن آدم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں زہیر نے حدیث بیان کی از ابواسحاق انہوں نے کہا: ہمیں ابوجعفر نے حدیث بیان کی کہ وہ اور ان کے والد حضرت جابر بن عبداللہ کے پاس تھے اور ان کے پاس اور لوگ بھی تھے ان لوگوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے غسل کے متعلق سوال کیا حضرت جابر نے کہا: تمہارے لیے ایک صاع ( چار لیٹر پانی) کافی ہے، ایک شخص نے کہا: میرے لیے یہ کافی نہیں ہے، حضرت جابر نے کہا: جن کے تم سے زیادہ بال تھے اور جو تم سے افضل تھے ان کے لیے اتنا پانی کافی ہوتا تھا، پھر حضرت جابر نے ہمیں ایک کپڑے میں نماز پڑھائی۔
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: تمہارے لیے ایک صاع پانی کافی ہے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) عبد الله بن محمد الجعفی
(۲) یحی بن آدم الکوفی یہ ۲۰۳ھ میں فوت ہو گئے تھے
(۳) زہیر بن معاویہ الکوفی الجزری
(۴) ابواسحاق السبیعی عمرو بن عبد للہ الکوفی
(۵) ابو جعفر محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب، یہ باقر کے نام سے مشہور ہیں، یہ بقیع میں عباس کے ساتھ مشہور گنبد میں دفن کیے گئے
(۶) ان کے والد زین العابدین ہیں
(۷) حضرت جابر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۹۵)
اس حدیث میں مذکور ہے کہ لوگوں میں سے ایک شخص نے سوال کیا، اس سے مراد حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب ہیں ان کے والد ابن الحنفیہ کے نام سے معروف تھے ۔
غسل طہارت کے لیے چار لیٹر پانی کا کافی ہونا اور صرف تہبند باندھ کر نماز پڑھنے کا جواز
حضرت جابر نے کہا: جن کے بال تم سے زیادہ تھے اور جو تم سے افضل تھے ان کے غسل کے لیے اتنا پانی کافی ہوتا تھا، اس سے مراد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ حضرت جابر نے ایک کپڑے میں نماز پڑھائی محمد بن المنکدر سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت جابر کوایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور حضرت جابر نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑا اپنے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
اس حدیث کے فوائد میں سے یہ ہے کہ ضرورت سے زیادہ پانی استعمال کرنا جائز نہیں ہے اور مستحب یہ ہے کہ ایک صاع یعنی چار لیٹر پانی سے غسل کیا جائے البتہ ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے یا صفائی کے قصد سے زیادہ پانی استعمال کرنا صحیح ہے اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے۔ حضرت جابر کے شاگرد نے ان پر اعتراض کیا کہ ایک صاع پانی میرے لیے کافی نہیں ہے اور حضرت جابر نے اس کا جواب دیا اس میں مناظرہ کا ثبوت ہے۔
ننگے سر نماز پڑھنا خلاف سنت ہے
غیر مقلد ٹوپی اتار کر نماز پڑھتے ہیں اور ننگے سر نماز پڑھنے کو حضرت جابر کی سنت کہتے ہیں، لیکن صرف ٹوپی یا عمامہ اتارنے سے یہ سنت کیسے ادا ہوتی ہے جب کہ انہوں نے بنیان، قمیص، شلوار اور ولیس کوٹ، شیروانی وغیرہ پہنی ہوتی ہے، اگر حضرت جابر ہی کی سنت اپنانی ہے تو صرف ایک تہبند باندھ کر نماز پڑھا کریں۔ حضرت جابر نے اپنی وجہ خود بیان کی ہے کہ اس زمانہ میں ہر شخص کے پاس دو چادریں کب ہوتی تھیں اور اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خوش حالی اور وسعت عطا فرمائی ہے اور وہ متعدد کپڑے پہنتے ہیں توعمامه یا ٹوپی پہن کر نماز پڑھنی چاہیے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عام اور غالب معمول یہی تھا کہ آپ عمامہ یا ٹوپی پہن کر نماز پڑھتے تھے۔
اس باب کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۶۵۱ – ج ۱ ص ۱۰۲۲ پر مذکور ہے اس کی شرح میں بحث اور مناظرہ کا ثبوت لکھا ہے۔
