اور عطاء نے کہا: جنبی فصد لگائے اور اپنے ناخن تراشے اور اپنا سر مونڈے خواہ اس نے وضوء نہ کیا ہو۔
اس تعلیق کی اصل حسب ذیل حدیث ہے:
عبد الرزاق از ابن جریج وہ بیان کرتے ہیں : میں نے عطاء سے پوچھا: آیا جنبی فصد لگا سکتا ہے اور (موئے زیر ناف صاف کرنے کے لیے ) چونے کا لیپ کرسکتا ہے اور اپنے ناخن تراش سکتا ہے اور اپنا سر مونڈ سکتا ہے اور اس نے وضوء نہ کیا ہو انہوں نے کہا: ہاں ! اس میں کیا ہے اور وہ تعجب کر رہے تھے ۔ (مصنف عبد الرزاق: ۱۰۹۱ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبد الاعلی بن حماد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں یزید بن زریع نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سعید نے حدیث بیان کی از قتادہ کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان کو حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات میں اپنی تمام ازواج کے پاس گئے اور ان دنوں آپ کی نو ازواج تھیں ۔
اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری: ۲۶۸ میں گزر چکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: جب جماع کیا پھر دوبارہ جماع کیا اور جو شخص ایک غسل میں اپنی تمام ازواج کے پاس گیا اور یہاں اس کا عنوان ہے: جنبی نکلے اور بازار وغیرہ میں چلے، کیونکہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات میں اپنی تمام ازواج کے ساتھ جماع کیا تو آپ حالت جنابت میں ایک زوجہ کے حجرہ سے دوسری زوجہ کے حجرہ میں جاتے تھے۔