کتاب الغسل باب 12 حدیث 268
٢٦٨- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قتادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا انس بن مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي السَّاعَةِ الْوَاحِدَةِ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ. قَالَ قُلْتُ لِأنَسِ اوَ كَانَ يُطِيقُهُ ؟ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أَعْطِيَ قُوةُ ثَلَاثِينَ وَقَالَ سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ إِنَّ انَسًا حَدَّثَهُمْ تِسْعُ نِسْوَةٍ۔
اطراف الحدیث: ۲۸۴ – ۵۰۶۸-۵۲۱۵
سنن نسائی : ۱۳۶۵، صحیح ابن خزیمہ: ۱۲۳۱ صحیح ابن حبان : ۱۲۰۸ مسند ابویعلی : ۲۹۴۱ ، سنن بیہقی ج ۷ ص ۵۴ ، شرح السنة : ۲۷۰، مسند احمد ج ۳ ص ۲۹۱ طبع قدیم مسند احمد: ۱۴۱۰۹، ج ۲۱ ص ۴۷۲ مؤسسة الرسالة بیروت
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن بشار نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں معاذ بن ہشام نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی از قتادہ انہوں نے کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن اور رات کی ایک ساعت میں اپنی تمام ازواج کو عمل زوجیت سے مشرف فرماتے تھے اور وہ گیارہ ازواج مطہرات تھیں، قتادہ کہتے ہیں: میں نے حضرت انس سے پوچھا: کیا آپ اس کی طاقت رکھتے تھے تو انہوں نے کہا: ہم یہ باتیں کرتے تھے کہ آپ کو تیس مردوں کی طاقت دی گئی تھی اور سعید نے کہا از قتادہ حضرت انس نے ان کو حدیث بیان کی کہ آپ کی نو ازواج تھیں۔
اس حدیث کے پانچ رجال میں ان سب کا تعارف پہلے ہو چکا ہے۔
آیا آپ کی ازواج گیارہ تھیں یا نو ؟ اس کی تحقیق
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
امام ابن خزیمہ نے کہا ہے کہ گیارہ ازواج کی تعداد کے ساتھ معاذ بن ہشام منفرد ہیں اور سعید بن ابی عروبہ وغیرہ نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ آپ کی نو ازواج تھیں اور امام بخاری نے دس ابواب کے بعد یہ روایت ذکر کی ہے کہ آپ ایک رات میں تمام ازواج کے پاس جاتے تھے اور اس دن آپ کے پاس نو ازواج تھیں ۔ (صحیح البخاری: ۲۷۴) امام ابن حبان نے ان میں تطبیق دی ہے کہ ابتداء میں آپ کے پاس نو ازواج تھیں اور آخر میں گیارہ ہوگئی تھیں، جب آپ مدینہ میں آئے تو آپ کے نکاح میں صرف حضرت سودہ تھیں، پھر مدینہ میں آپ نے حضرت عائشہ کے ساتھ دخول کیا، پھر حضرت ام سلمہ کے ساتھ نکاح کیا، پھر حضرت حفصہ کے ساتھ پھر حضرت زینب بنت خزیمہ کے ساتھ تیسرے اور چوتھے سال میں، پھر حضرت زینب بنت جحش کے ساتھ پانچویں سال میں، پھر حضرت جویریہ کے ساتھ چھٹے سال میں، پھر حضرت صفیہ، حضرت ام حبیبہ اور حضرت میمونہ کے ساتھ ساتویں سال میں رضی اللہ عنہن ۔
یہ وہ تمام ازواج ہیں، جو ہجرت کے بعد آپ کے نکاح میں تھیں اور حضرت ریحانہ میں اختلاف ہے۔ یہ بنوقریظہ کے قیدیوں میں تھیں امام ابن اسحاق نے کہا ہے کہ آپ نے ان پر نکاح کو پیش کیا، لیکن انہوں نے باندی رہنے کو پسند کیا اکثر علماء نے کہا ہے کہ وہ ۱۰ھ میں آپ سے پہلے فوت ہوگئی تھیں، اسی طرح حضرت زینب بنت خزیمہ بھی آپ کے دخول کے تھوڑے عرصہ بعد فوت ہوگئی تھیں امام ابن عبدالبر نے کہا ہے: وہ آپ کے پاس دو یا تین ماہ رہی ہیں، اس تفصیل کے مطابق آپ کے پاس نو ازواج سے زیادہ جمع نہیں رہیں، جب کہ حضرت سودہ نے اپنی باری حضرت عائشہ کو ہبہ کر دی تھی، اس طرح سعید بن ابی عروبہ کی روایت راجح قرار پاتی ہے کہ آپ کے پاس اس دن نو ازواج تھیں، لیکن معاذ بن ہشام کی روایت کا محمل یہ ہے کہ حضرت ماریہ اور حضرت ریحانہ کو ان کے ساتھ ملا لیا جائے اور آپ کی نساء کے لفظ کو عام رکھا جائے، خواہ وہ آپ کی ازواج ہوں یا آپ کی کنیزیں، تو پھر گیارہ کے عدد کا ایک محمل ہے۔
علامہ الدمیاطی نے اپنی “سیرت” میں لکھا ہے کہ آپ کی کل ازواج جن سے آپ نے دخول کیا یا صرف عقد کیا یا جن کو دخول سے پہلے طلاق دے دی یا جن کو نکاح کا پیغام دیا اور عقد نہیں کیا، ان کا عدد تیس ہے اور “المختارة” میں حضرت انس سے روایت ہے کہ آپ نے پندرہ خواتین سے نکاح کیا ان میں سے گیارہ کے ساتھ دخول کیا اور جب آپ کی وفات ہوئی اس وقت نو ازواج تھیں ۔
(فتح الباری ج ۱ ص ۷۹۶ دار المعرفہ بیروت 1426ھ )
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت چار ہزار مردوں کے برابر تھی
حضرت انس نے کہا: آپ کو تیس مردوں کی طاقت دی گئی تھی اس کی شرح میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:
اسماعیلی کی روایت میں تیس کے بجائے چالیس مردوں کی طاقت کا ذکر ہے اور ابونعیم نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ چالیس جنتی مردوں کی طاقت دی گئی تھی اور حضرت عبداللہ بن عمر نے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ گرفت میں اور جماع کرنے میں آپ کو چالیس مردوں کی قوت دی گئی تھی اور حضرت زید بن ارقم سے مرفوعا روایت ہے کہ ایک جنتی مرد کو کھانے پینے، جماع کرنے اور شہوت میں سو مردوں کی طاقت دی جائے گی۔ (مسند احمد، سنن نسائی، مستدرک) اس حساب سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت چار ہزار مردوں کے برابر ہے۔ (فتح الباری ج 1 ص ۷۹۷-796 دار المعرفہ بیروت 1426ھ)
حافظ بدرالدین عینی نے اس سے زیادہ تفصیل سے لکھا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۳۲۱ – ۳۲۰ دار الکتب العلمیة بیروت 1421ھ )
حافظ ابن حجر عسقلانی نے جس حدیث کا ذکر کیا ہے وہ یہ ہے:
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی آکر کہنے لگا: یا ابا القاسم ! کیا آپ کا یہ زعم نہیں ہے کہ اہل جنت جنت میں کھائیں گے اور پئیں گے اور اس نے اپنے اصحاب سے کہا ہوا تھا کہ اگر انہوں نے اس کا اقرار کرلیا تو میں ان سے بحث کروں گا تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے! ایک جنتی کو ایک سو مردوں کے کھانے پینے، شہوت اور جماع کی قوت دی جائے گی اس یہودی نے کہا: جو شخص کھاتا اور پیتا ہے، اس کو پھر حاجت بھی ہوتی ہے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کی حاجت ایک پسینہ سے رفع ہوگی، جو ان کے تمام جسم سے نکلے گا اس میں مشک کی طرح خوشبو ہوگی پھر ان کا پیٹ پتلا ہوجائے گا۔
یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں ۔ (صحیح ابن حبان : ۷۴۲۴ مسند البزار: 3522، العجم الکبیر 5007، البعث والنثور اللبیہقی :352، الزهد لابن لمبارک : 1459، سنن دارمی: ۲۸۲۵ سنن الكبرى للنسائی: ۱۱۴۷۸ المعجم الاوسط : ۱۷۴۳ حلیۃ الاولیاء : ج ۷ ص ۳۶۶- ج ۸ ص ۱۱۶ مجمع الزوائد ج 10 ص ۴۱۶ مسند احمد ج 4 ص ۳۶۷ طبع قدیم، مسند احمد ج ۳۲ ص ۱۹ مؤسسة الرسالة بیروت)
اس حدیث کے شواہد حسب ذیل ہیں:
سنن ترمذی: 2536، مسند ابوداؤد الطیالسی: ۲۰۱۲ صحیح ابن حبان : ۷۴۰۰ المعجم الاوسط : ۲۵۶۳
نوٹ : حافظ عسقلانی نے جس حدیث کا حوالہ دیا تھا’ وہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جب کہ مذکورہ شواہد میں جو حدیث مروی ہے اس کے راوی حضرت ابوہریرہ ہیں۔
[…] حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۲۶۷ میں گزر چکی ہے وہاں اس حدیث کا عنوان تھا: جس نے جماع […]
[…] حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری: ۲۶۸ میں گزر چکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: جب جماع کیا پھر […]