٣٠١- وَكَانَ يُخْرِجُ رَأسَهُ إِلَى وَهُوَ مُعْتَكِفٌ ،فَاغْسِلُهُ وَأَنَا جَائِضٌ.
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف اپنا سر نکالتے اور آپ اس حال میں معتکف ہوتے، پس میں آپ کا سر دھوتی اور میں اس وقت حائض ہوتی۔
اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری: ۲۹۵ میں گزر چکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا’ حائض کا اپنے خاوند کا سر دھونا اور کنگھی کرنا اور یہاں اس حدیث کو “مباشرت الحائض “ کے عنوان کے تحت ذکر کیا ہے اور جیسا کہ ہم بتاچکے ہیں کہ مباشرت کا معنی ہے: ایک جسم کی کھال کو دوسرے جسم کی کھال سے ملانا تو جب حضرت عائشہ آپ کا سر دھوتی تھیں تو آپ کے ہاتھوں کی کھال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی کھال سے ملتی تھی ۔
