۲ – بَابُ غَسْلِ الْحَائِضِ راسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيْلِهِ

حائض کا اپنے خاوند کا سر دھونا اور اس میں کنگھی کرنا

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حیض والی عورت اپنے خاوند کا سر دھوسکتی ہے اور اس میں کنگھی کرسکتی ہے باب سابق کے ساتھ اس کی مناسبت یہ ہے کہ دونوں باب حائض کے احکام کے ساتھ متعلق ہیں ۔

٢٩٥ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنتُ أَرَجِل رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ.

اطراف الحدیث: ۲۹۶-۳۰۱-۲۰۲۸_۲۰۲۹_۲۰41-۲۰۴۶

 امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے حدیث بیان کی از هشام بن عروه از والد خود از حضرت عائشه رضی اللہ عنہا وہ بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں کنگھی کرتی تھی اور میں اس وقت حائض ہوتی تھی۔

(سنن ترمذی: ۱۳۲ سنن نسائی: ۳۸۷-276 السنن الکبری للنسائی: 3380 مصنف عبد الرزاق: ۱۲۳۷۔۱۰۳۱ مصنف ابن ابی شیبہ ج1 ص ۳۵ سنن دارمی: ۱۰۳۷ المنتقی : ۱۰۶ سنن بیہقی ج اص ۱۸۹ شرح السنته : ۳۱۷ مسند احمد ج اص ۱۸۹ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۵۵۶۳- ج۴۱ ص 364 مؤسسة الرسالة بيروت )

اس حدیث میں صرف کنگھی کرنے کا ذکر ہے اور سر دھونے کا ذکر نہیں ہے لہذا اس باب کے عنوان کے ایک جز کے ساتھ مطابقت ہے۔

بیوی کی مرضی سے اس سے خدمت لینے کا جواز

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ حائض اپنے شوہر کے سر میں کنگھی کر سکتی ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ حائض اپنے شوہر کے سرکو دھوسکتی ہے اور اس میں کنگھی کرسکتی ہے اور اس سے یہ معلوم ہوا کہ بیوی کی مرضی سے اس سے خدمت لی جاسکتی ہے۔