Site icon اردو محفل

کتاب الصلوۃ  باب 4  حدیث نمبر  357

357 – حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ قَال حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، مَوْلَى عُمَرََ بنِ عُبَيْدِاللَّهِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَی امِ هَانِی بِنتِ ابی طَالِب أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَمَّ هَانِي بنت ابی طالب نَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عام الفتح ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ، وَفَاطِمَةُ ابنته تسترہ قَالَتْ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ مَنْ هَذِهِ؟ فَقُلْتُ أنا ام هاني بنتُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ مَرْحَبًا بِامٍ هَانِي. فَلَمَّا فرعَ مِنْ غُسْلِهِ ، قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثوْبِ وَاحِدٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَارَسُولَ اللهِ زَعَمَ ابْنُ أَمِي إِنَّهُ قَاتِلْ رَجُلًا قَدْ اَجَرْتُهُ فُلانَ بْنَ هبَيْرَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَداجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُم هَانِي، قَالَتْ أُمُّ هَانِیْ وَذَاكَ ضُحى۔

جامع المسانيد لابن الجوزی: ۷۵۷۸ مكتبة الرشد ریاض 1426ھ  اس حدیث کی مفصل تخریج صحیح البخاری : ۲۸۰ میں کردی گئی ہے۔ )۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں اسماعیل بن ابی اویس نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے امام مالک بن انس نے حدیث بیان کی از ابی النضر مولی عمر بن عبیداللہ کہ ابومره مولی ام جانی بنت ابی طالب نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے حضرت ام ھانی، بنت ابی طالب سے سنا کہ میں فتح مکہ کے سال رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی،  اس وقت آپ غسل کر رہے تھے اور آپ کی صاحبزادی سیده فاطمه رضی اللہ عنہا آپ پر پردہ کر رہی تھیں وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے آپ کو سلام کیا’ آپ نے فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: میں ام ھانی بنت ابی طالب ہوں، آپ نے فرمایا: خوش آمدید! ام هانی، جب آپ غسل سے فارغ ہو گئے تو آپ نے ایک کپڑا اپنے گرد لپیٹ کر آٹھ رکعات نماز پڑھی’ جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ! میری ماں کا بیٹا یہ کہتا ہے کہ وہ اس شخص کو قتل کرے گا جس کو میں پناہ دے چکی ہوں، وہ فلاں بن ھبیرہ ہے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام هانی، جس کو تم نے پناہ دی ہے اس کو ہم نے پناہ دی حضرت ام هانی نے کہا: وہ چاشت کا وقت تھا۔

بھائی کے بجائے ماں کا بیٹا کہنے کی توجیہ اور حضرت ام ھانی کا تعارف

اس حدیث میں مذکور ہے: حضرت ام ھانی ، بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا نے کہا : میری ماں کا بیٹا یہ کہتا ہے کہ وہ اس شخص کو قتل کرے گا جس کو میں پناہ دے چکی ہوں۔

حضرت ام ھانی کی اس سے مراد حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے اپنے بھائی کو ” میری ماں کا بیٹا” اس طرح کہا جس طرح حضرت ہارون علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا:

يَبْنَؤُم لَا تَأْخُذُ بِلِحْيَتِي. ( : ۹۴)

اے میری ماں کے بیٹے ! میری ڈاڑھی نہ پکڑیے۔

بھائی کے بجائے ماں کا بیٹا کہنے میں ان کی شفقت کو زیادہ متوجہ کرنا ہے۔

حضرت ام ھائی کا نام فاختہ ہے، ھانی ان کے بیٹے کا نام ہے وہ اس کنیت سے مشہور ہوگئیں ۔ حضرت ام ھانی فتح مکہ کے سال اسلام لائی تھیں۔

فلان بن ھبیرہ کے مصداق کا تعین

اس حدیث میں مذکور ہے: فلان بن ھبیرہ۔ حضرت ام ھانی ، کے خاوند کا نام ھبیرہ بن ابی وہب بن عمر المخزومی ہے حضرت ام ھانی سے ھبیرہ کی یہ اولاد تھی : عمر، ھانی ، یوسف اور جعدہ اور فلان ابن عبیرہ کی تفسیر میں کافی اختلاف ہے۔ امام طبرانی متوفی 360ھ نے حضرت ام ھانی سے روایت کیا ہے: فتح مکہ کے دن میرے پاس میرے دو مشرک دیور آئے میں نے ان کو پناہ دے دی پھر حضرت علی آئے وہ ان کو قتل کرنا چاہتے تھے پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اس وقت آپ مکہ کے بالائی حصہ میں ایک خیمہ میں تھے الحدیث۔ اس حدیث میں مذکور ہے: ہم نے اس کو پناہ دے دی جس کو تم نے پناہ دے دی اور ہم نے اس کو امن میں رکھا

جس کو تم نے امن میں رکھا۔ (المعجم الکبیر : ۱۰۱۳ – ج ۲۴ دار احیاء التراث العربی بیروت )

علامہ کرمانی نے کہا ہے کہ حضرت ام ھانی کی مراد ان کا ھبیرہ سے ایک بیٹا اور ایک لے پالک تھا علامہ عینی نے کہا ہے : حضرت ام ھانی کی اس سے مراد ھبیرو کا وہ بیٹا ہے جو حضرت ام ھانی، کے علاوہ اس کی دوسری بیوی سے تھا، راوی اس کا نام بھول گیا اور اس کو فلان بن عبیرہ سے تعبیر کیا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ معجم طبرانی میں ام ھانی ، کے دو دیوروں کو پناہ دینے کا ذکر ہے اور امام بخاری نے جو ابو النضر کی روایت ذکر کی ہے، اس میں ایک بیٹے کا ذکر ہے؟ علامہ عینی فرماتے ہیں: اس میں کوئی حرج نہیں’ ابو النضر دوسرے کا ذکر کرنا بھول گیا، جیسا کہ وہ اس ایک کا نام بھول گیا اور فلان سے تعبیر کیا۔

حدیث مذکور کے دیگر مسائل

اس حدیث میں ذکر ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  غسل فرمارہے تھے اور حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کا پردہ کررہی تھیں اس سے معلوم ہوا کہ مردوں پر عورتوں کا پردہ کرنا جائز ہے، پھر آپ نے حضرت ام ھانی کو مرحباء کہا، اس سے معلوم ہوا جو شخص زیارت اور ملاقات کے لیے آئے اس کو مرحبا اور خوش آمدید کہنا چاہیئے نیز اس حدیث میں چاشت کی آٹھ رکعات پڑھنے کا ذکر ہے اور اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ آزاد مسلمان خواہ مرد ہو یا عورت کسی مشرک کو پناہ دے سکتا ہے خواہ مشرک ایک ہو یا متعدد ہوں، پھر جس کو اس نے پناہ دے دی ہو اس کو قتل کرنا جائز نہیں ہے الا یہ کہ اس کو قتل نہ کرنے میں کوئی خرابی ہو۔

(عمدۃ القاری ج 4 ص ۹۵ – ۹۳ ، دار الکتب العلمیة بیروت 1421ھ)

Exit mobile version