۲۱ – بَابُ التَّسَتْرِ فِي الْغُسْلِ عِنْدَ النَّاسِ    

غسل میں لوگوں کے سامنے پردہ کرنا

 

باب سابق کے ساتھ اس کی مناسبت یہ ہے کہ پہلے باب میں تنہائی میں برہنہ غسل کرنے کا جواز ذکر کیا تھا اور اس باب میں لوگوں کے سامنے پردہ میں غسل کرنے کو بیان کیا ہے۔

۲۸۰- حَدَّثَنَا عَبْدُاللهِ بن مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ . عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِاللهِ اَنَّ اَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أَمْ هَانِى بِنتِ أَبِي طَالِب أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ام ھانیء أَبِي طَالِبٍ تَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةٌ تَسْتُرُهُ ، فَقَالَ مَنْ هَذِهِ ۚ فَقُلْتُ أَنَا أَمْ هَانِي۔

اطراف الحدیث: ۳۵۷-۳۱۷۱- 6158

صحیح مسلم : 336، الرقم المسلسل : ۷۴۸ ، سنن ترمذی: ۲۷۳۴ سنن نسائی: ۴۲۴، سنن ابن ماجه : ۴۶۵ السنن الکبری للنسائی:229، سنن دارمی:2502- 1453، احاد والمثانی : 3149،  صحیح ابن حبان : ۱۱۸۸ المعجم الکبیر : ۱۰۱۷ – ج ۲۴ سنن بیہقی ج ا ص ۱۹ج 9 ص 94 شعب الایمان : ۸۸۸۸ شرح السنتہ : ۲۷۱۶، مسند احمد ج ۶ ص ۳۴۳ طبع قدیم مسند احمد : ۲۶۹۰۶ – ج 44 ص ۴۷۶ مؤسسة الرسالة بیروت)

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن مسلمہ نے  حدیث بیان کی از امام مالک از ابی النضر جو کہ عمر بن عبیداللہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہ ابومرہ حضرت ام ھانی ، بنت ابی طالب کے آزاد کردہ غلام نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ام ھانی ، بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے سنا وہ بیان کرتی تھیں کہ میں فتح مکہ کے سال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی میں نے آپ کو غسل کرتے ہوئے پایا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ پر پردہ کر رہی تھیں، آپ نے پوچھا: یہ کون ہیں ؟ پس میں نے کہا: میں ام ھانی ہوں۔

باب کے عنوان کے ساتھ مناسبت اس طرح ہے کہ آپ غسل کر رہے تھے اور حضرت فاطمہ آپ پر پردہ کر رہی تھیں۔

اس حدیث کے پانچ رجال ہیں، جن میں سے چار کا پہلے تعارف ہو چکا ہے پانچویں حضرت ام ھانی ، ہیں ان کا نام فاختہ ہے ایک قول ہے: فاطمہ ہے یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں۔

شرم گاہوں کے چھپانے پر قرآن مجید اور حدیث سے دلائل

علامہ ابو الحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :

اس پر اجماع ہے کہ غسل کے وقت دیکھنے والوں کی نگاہوں سے پردہ کرنا واجب ہے اور جس طرح یہ جائز نہیں ہے کہ بغیر ضرورت کے اپنی شرم گاہ کسی کو دکھائے، اس طرح یہ بھی جائز نہیں ہے کہ بغیر ضرورت کے کسی کی شرم گاہ کو دیکھے۔

پردہ کی اصل قرآن مجید کی حسب ذیل آیات ہیں:

يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلث مرت من قبل صَلوةِ الْفَجْرِ وَحِيْنَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُمْ من الظَّهِيرَةِ وَمِنْ بَعْدِ صَلوةِ الْعِشَاءِ ثلث عَوْرتٍ لَّكُمْ لَيسَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَلَيْهِمْ جُنَاح بَعْدَهُنَّ . ( النور : ۵۸)

اے ایمان والو! تمہارے غلام ( نوکر ) اور تمہارے وہ بچے جو ابھی بالغ نہیں ہوئے ان کو چاہیے کہ وہ ( آنے کے لیے ) تین اوقات میں تم سے اجازت لیا کریں (۱) نماز فجر سے پہلے (۲) اور دوپہر کے وقت جب تم اپنے کپڑے اتار دیتے ہو ( ۳) اور نماز عشاء کے بعد یہ تین اوقات تمہارے پردے کے ہیں، ان اوقات کے بعد ( آنے میں ) نہ تم پر کوئی گناہ ہے اور نہ ان پر کوئی گناہ ہے۔

یہ وہ اوقات ہیں، جن میں انسان اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے لہذا ان اوقات میں اگر ان میں سے کوئی تمہارے گھر بغیر اجازت کے آیا تو وہ گنہ گار ہوگا کیونکہ ان اوقات میں یہ احتمال ہے کہ آنے والا تم کو برہنہ دیکھ لے۔

يبَنِي آدَمَ قَدْ انْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَواتِكُمْ وَرَيْشًا . (الاعراف: 26)

 اے اولاد آدم! بے شک ہم نے تمہارے لیے ایسا لباس اتارا ہے جو تمہاری شرم گاہوں کو چھپائے اور زینت بنے۔

اس آیت میں اللہ تعالی نے شرم گاہ چھپانے کو اپنی نعمت قرار دیا ہے۔

قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ . ( النور :۳۰)

آپ مؤمنین سے کہیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں یہ ان کے لیے بہت پاکیزہ چیز ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نگاہوں کو پست رکھنے اور شرم گاہوں کو چھپانے کا حکم دیا ہے۔

اور نبی صلی اللہ علیہ اسلام نے فرمایا : کوئی شخص بیت اللہ کا برہنہ طواف نہ کرے۔

(صحیح البخاری : ۳۶۹، سنن ابوداؤد: ۱۹۴۶ صحیح مسلم : ۱۳۴۷ سنن نسائی: ۲۹۵۴)

جس نے بغیر عذر کے شرم گاہ کو نہیں چھپایا، اس کی شہادت قبول نہیں ہوگی

ائمہ فتویٰ اس پر متفق ہیں کہ جو بغیر تہبند کے حمام میں داخل ہوا ( یعنی جس نے لوگوں کے سامنے برہنہ غسل کیا ) اس کی شہادت قبول نہیں ہوگی۔ یہ امام مالک امام ابوحنیفہ ان کے اصحاب اور امام شافعی کا قول ہے اور اس میں اختلاف ہے کہ جو شخص تہبند اتارکر حوض میں داخل ہوا اور دخول سے اس کی شرم گاہ ظاہر ہوگئی امام مالک اور امام شافعی نے کہا: اس کی شہادت بھی ساقط ہوجائے گی اور امام ابوحنیفہ اور ثوری نے کہا: وہ شخص معذور ہے کیونکہ اس سے بچنا ممکن نہیں ہے۔

اور اس پر علماء کا اجماع ہے کہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کی شرم گاہ دیکھ سکتے ہیں۔

شرح ابن بطال ج ا ص ۴۰۲-۴۰۱ دار الکتب العلمیہ، بیروت (1424ھ)

اس باب کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۶۷۲ – ج ۱ ص ۱۰۲۹ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی۔