Site icon اردو محفل

کتاب الصلوۃ  باب 32  حدیث نمبر 402

۳۲ – بَاب مَا جَاءَ فِي الْقِبْلَةِ ، وَمَنْ لَا  يَرَى الْإِعَادَةَ عَلَى مَنْ سَهَا، فَصَلَّى إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَتہ

  قبلہ کے متعلق احادیث اور جس کا یہ نظریہ ہے کہ جس نے سہوا غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھی اس پر نماز کا اعادہ نہیں ہے

اس باب میں اور باب سابق میں یہ فرق ہے کہ باب سابق میں یہ بیان کیا تھا کہ قبلہ کی طرف توجہ کی جائے اور اس باب میں یہ بیان کیا ہے کہ جس نے سہوا غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھی اس پر اعادہ نہیں ہے۔

سہوا غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھنے کے متعلق مذاہب فقہاء

امام ابو حنیفہ، ان کے اصحاب، امام مالک اور امام بخاری کا یہ مسلک ہے کہ جس نے سہوا غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھی اس پر نماز کا اعادہ کرنا لازم نہیں ہے تاہم اگر اس نے وقت کے اندر نماز کو دہرالیا تو یہ مستحسن ہے۔ ابن المنذر،حسن بصری اور الزہری نے کہا ہے : وہ ہمیشہ نماز کو دہرائے گا اور امام شافعی نے یہ کہا ہے کہ اگر نماز پڑھنے کے بعد اس پر یہ منکشف ہوا کہ اس نے غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھی ہے تو وہ نماز دوبارہ پڑھے اور اگر بغیر غور و فکر کے اس پر یہ منکشف نہ ہو تو اس پر اعادہ نہیں ہے اور التوضیح میں مذکور ہے: امام شافعی نے یہ کہا ہے کہ اگر اس کو خطاء کا یقین نہ ہو تو اس پر اعادہ نہیں ہے ورنہ اس پر اعادہ لازم ہے، امام ابو حنیفہ کے مسلک پر دلیل یہ حدیث ہے:

عبداللہ بن عامر بن ربیعہ اپنے والد سے یہ روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں اندھیری رات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ہم کو پتا نہیں چلا کہ قبلہ کس طرف ہے پس ہم میں سے ہر شخص نے اپنے اجتہاد سے نماز پڑھ لی پس جب صبح ہوئی تو ہم نے اس بات کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، تو یہ آیت نازل ہوئی:

فأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ (البقره: ۱۱۵)

پس تم جس طرف بھی منہ کرو، ہیں اللہ کی ذات ہے۔

(سنن ترمذی: ۳۴۵ سنن ابن ماجه: ۱۰۲۰)

اس حدیث کے بعد بیان مذاہب میں امام ترمذی لکھتے ہیں :

اکثر اہل علم کا یہی مذہب ہے، انہوں نے کہا: جب کوئی شخص ابر آلود موسم میں غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھ لے پھر نماز پڑھنے لے بعد اس پر منکشف ہو کہ اس نے غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھی ہے تو اس کی نماز جائز ہے سفیان ثوری ابن المبارک امام احمد اور اسحاق کا یہی مذہب ہے۔ (سنن ترمذی ص ۱۷۰ دار المعرفة بیروت 1423ھ)

امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے، لیکن امام ترمذی نے امام اعظم سے تعصب کی وجہ سے ان کے مذہب کا ذکر نہیں کیا۔

وَقَدْ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيِ الظُّهْرِ ، وَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ ، ثُمَّ أَتَم ما بقى۔

اور بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکعت میں سلام پھیردیا اور لوگوں کی طرف اپنا چہرہ کر لیا’ پھر آپ نے باقی نماز کو پورا کیا۔

يہ تعلیق حدیث مذکور ذیل کا ایک قطعہ ہے:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر یا عصر کی نمازوں میں سے کوئی ایک نماز پڑھائی، پھر دو رکعت میں سلام پھیردیا، پھر مسجد کے قبلہ کی جانب ایک لکڑی کے ستون سے ٹیک لگا کر بہ اندازِ غضب کھڑے ہوگئے اور لوگوں میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے وہ آپ سے بات کرنے سے ڈرے اور لوگ جلدی سے باہر نکلنے گئے حضرت ذوالیدین نے کھڑے ہوکر کہا: یا رسول اللہ ! آیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں بائیں دیکھ کر فرمایا: ذوالیدین کیا کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں، آپ نے صرف دو رکعت نماز پڑھائی ہے پس آپ نے دو رکعت نماز اور پڑھی اور سلام پھیر دیا، پھر اللہ اکبر پڑھا اور سجدہ (سہو) کیا، پھر اللہ اکبر پڑھا، پھر اٹھے پھر اللہ اکبر پڑھا اور (دوسرا) سجدہ ( سہو) کیا پھر اللہ اکبر پڑھا اور ( سجدہ سے) اٹھے۔ ( صحیح مسلم : ۵۷۳)

نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کو علم تھا کہ احکام شرعیہ میں نسخ واقع ہوتا رہتا ہے تبھی حضرت ذوالیدین نے پوچھا: آیا نماز کم کر دی گئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ سے پیٹھ پھیر کر کھڑے ہوگئے’ حضرت ذوالیدین نے آپ سے بات کی آپ نے ان سے بات کی اور دوسرے صحابہ سے بات کی پھر آپ نے قبلہ کی طرف منہ کرکے دو رکعت نماز اور پڑھادی اور سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ قبلہ سے پیٹھ پھیرلیں، آپ کسی سے بات کر لیں، کوئی آپ سے بات کرلے آپ کی نماز قائم رہتی ہے اور آپ جس سے بات کریں اور جو آپ سے بات کرے اس کی نماز بھی قائم رہتی ہے اس کے برخلاف کوئی اور مسلمان قبلہ سے عمدا پیٹھ پھیر لے یا کسی اور شخص سے بات کر لے تو اس کی نماز ٹوٹ جاتی ہے اور یہ حدیث امام بخاری کے مقصد پر بھی دلالت کرتی ہے۔

کیونکہ آپ نے سہوا قبلہ سے پیٹھ پھیری تھی، تاہم ان کے مقصود پر مکمل دلالت نہیں کرنی، کیونکہ ان کا مقصود تھا کہ جو شخص سہوا غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھے اس کی نماز جائز ہے اور اس حدیث میں یہ مذکور ہے کہ آپ نے سہواً قبلہ سے پیٹھ پھیری، یہ مذکور نہیں ہے کہ آپ نے سہوا غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھی۔

٤٠٢ – حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْن قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْم عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ قَالَ قَالَ عُمَرُ وَافَقْتُ رَبِّي فی ثلَاتٍ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلم، لَوِاتَّخَذْنَا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى فَنَزَلَتْ (وَاتَّخذوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى )(القره ۱۲۵) وَ ايَة الْحِجَاب قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ ، لَوْ اَمَرْتَ نِسَاءَكَ أَنْ يَحْتَجبن فَإِنَّهُ يُكَلِّمُهُنَّ الْبَرِّ وَالْفَاجِرُ، فَنَزَلَتْ ايَةُ الْحِجاب،وَاجْتَمَعَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِی الغَيْرَةِ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ لَهُنَّ (عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَقکن أنْ تُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنكُنَّ) (التحريم : ٥) فَنَزَلَتْ ھذہ الآية۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عمرو بن عون نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا : ہمیں ھشیم نے حدیث بیان کی از حمید از حضرت انس رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:میں نے اپنے رب کی تین چیزوں میں موافقت کی ہے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! کاش! ہم مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنالیں تو یہ آیت نازل ہو گئی : اور تم مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنالو ۔ (البقرہ: ۱۲۵) اور پردہ کی آیت میں، میں نے عرض کیا: یا رسول الله ! کاش! آپ اپنی ازواج کو پردہ کرنے کا حکم دیں کیونکہ ان سے نیکوکار اور بدکار ( ہر طرح کا آدمی ) بات کرتا ہے، تو پردہ کی آیت نازل ہوگئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج آپ کے خلاف غیرت میں  اکٹھی ہوگئیں تو میں نے آپ کی ازواج سے کہا: اگر آپ نے تم سب کو طلاق دے دی تو عنقریب آپ کا رب آپ کو (تمہارے) بدلے میں تم سے بہتر ازواج عطا کردے گا۔ (التحریم: ۵) تو یہی آیت نازل ہوگئی۔

قَالَ أَبُو عَبْدِاللَّهِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَال أخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنِي حَميدٌ قال سَمِعْتُ أَنسًا بِهذا.اطراف الحدیث: ۴۴۸۳-4790- 4916

امام ابوعبد لله ( بخاری ) نے کہا: ہمیں ابن ابی مریم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں یحیی بن ایوب نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھ سے حمید نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے۔

( سنن ترمذی: ۲۹۶۰ سنن ابن ماجه ۱۰۰۹ السنن الکبری للنسائی :11611 سنن دارمی: ۱۸۴۹ مسند البزار: ۲۲۰ صحیح ابن حبان : 6896، المعجم الصغیر :868 شرح السنتہ : 3887 سنن بیہقی ج ۷ ص ۸۸ مسند ابوداؤد الطیالسی: ۴۱ مسند احمد ج ا ص ۲۴ طبع قدیم مسند احمد : ۱۵۷ – ج ا ص ۲۹۷ مؤسسة الرسالة بیروت)

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے : اور تم مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنالو۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) عمرو بن میمون ابو عثمان الواسطی البزاز ،یہ بصرہ میں رہتے تھے اور ۲۲۵ھ میں فوت ہو گئے تھے

(۲) ھشیم بن بشیر

(۳) حمیدالطويل

(۴) حضرت انس بن مالک رضی اللہ  عنہ

(۵) حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ  عنہ ان سب کا تعارف ہوچکا ہے۔(عمدة القاری ج ۳ ص ۲۱۴)

اس اعتراض کا جواب کہ حضرت عمر نے یہ کیوں کہا کہ میں نے اپنے رب کی موافقت کی جب کہ ان کی موافقت میں آیات نازل ہوئیں

اس حدیث میں مذکور ہے: میں نے اپنے رب کی موافقت کی، یہ باب مفاعلہ سے ہے، جس کا خاصہ ہے: مشارکت، یعنی ہر ایک نے دوسرے کی موافقت کی ‘ واقع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر کی موافقت کی تھی، کیونکہ جس طرح حضرت عمر نے کہا اسی طرح آیت نازل ہوگئی لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ادبا کہا: میں نے اپنے رب کی موافقت کی۔

حضرت عمر کی موافقت میں نازل ہونے والی آیات کی تعداد

اس حدیث میں تین چیزوں میں موافقت کا ذکر ہے حالانکہ حضرت عمر نے تین سے زیادہ چیزوں میں موافقت کی ہے جو حسب ذیل ہیں:

(1) بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے کے متعلق حضرت عمر کی رائے یہ تھی کہ ان سے فدیہ نہ لیا جائے بلکہ ان کو قتل کردیا جائے اس کے موافق یہ آیت نازل ہو گئی:

مَا كَانَ لِنَبِي أَنْ يَكُونَ لَةَ أَسْرَى حَتَّى يُثخِنَ فِي الأرض۔( الانفال: 67)

نبی کے لیے قیدی بنانا جائز نہیں ہے حتی کہ ان کا زمین میں اچھی طرح خون بہا دے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر کافروں کو قتل کرنے کے بعد کافروں کو قید کیا تھا، اس لیے آپ کا عمل اس آیت کے خلاف نہیں۔

(۲) حضرت عمر کی رائے یہ تھی کہ آپ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ نہ پڑھیں اور اسی کے موافق یہ آیت نازل ہوئی:

وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا (التوبة: 84) اور ان میں سے کوئی مرجائے تو آپ کبھی بھی اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھا دی اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی اس لیے آپ کے نماز پڑھانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور آپ کے نماز پڑھانے کی یہ حکمت تھی کہ جب اس کی قوم نے آپ کا حسن خلق دیکھا کہ آپ نے اپنے کٹر مخالف کی درخواست کو رد نہیں کیا تو اس کی قوم کے ایک ہزار آدمی اسلام میں داخل ہوگئے۔

امام ابن جریر طبری متوفی ۳۱۰ھ نے روایت کی ہے، ہمیں یہ حدیث بیان کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری قمیص یا میری نماز جنازہ اس سے اللہ کے عذاب کو دور نہیں کرسکتی اور بے شک مجھے یہ امید ہے کہ اس سبب سے اس کی قوم کے ایک ہزار آدمی اسلام لے آئیں گے۔ (جامع البیان ج ۱۰ ص ۲۳۲ دار احیاء التراث العربی بیروت 1421ھ)

(۳)  شراب کی تحریم کی آیات’ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے موافق نازل ہوئیں۔

(۴) جب یہ آیات نازل ہوئیں:

وَلَقَد خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَلَةٍ مِنْ طِين0ٍ ثُمَّ جَعَلَنهُ نُطْفَةٌ فِي قَرَارٍ مَّكِينِ (المؤمنون : ۱۳ -12)  اور بے شک ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا0 پھر اس کو نطفہ بنا کر مضبوط جگہ میں رکھا0 تو حضرت عمر نے بے ساختہ کہا:

فَتَبَرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَلِقِينَ (المؤمنون: 14)

پس اللہ بہت برکتوں والا ہے جو سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے

تو یہ آیت اسی طرح نازل ہوگئی۔

(۵) جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی گئی تو حضرت عمر نے پوچھا: یا رسول اللہ! ان سے آپ کا نکاح کس نے کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: اللہ نے حضرت عمر نے کہا: کیا آپ کی یہ رائے ہے کہ اللہ نے آپ سے ان کا عیب چھپا لیا تھا!

سُبحَنَكَ هذَا بُهْتَان عَظِيمٌ ( النور :١٦)

اے اللہ ! تو پاک ہے یہ بہت بڑا بہتان ہے۔

پھر یہ آیت اسی طرح نازل ہوگئی۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ نے حق کو عمر کی زبان اور دل میں رکھ دیا ہے اور حضرت ابن عمر نے کہا: جب بھی لوگوں پر کوئی امر پیش آیا، پس لوگوں نے اس کے متعلق کوئی بات کہی اور حضرت عمر نے بھی اس کے متعلق کوئی بات کہی تو قرآن حضرت عمر کی کہی ہوئی بات کے مطابق نازل ہوجاتا۔ (سنن ترمذی : 3682، مسند احمد ج ۲ ص ۵۳ )

ہم نے مقالات سعیدی ص ۱۷۵ میں سولہ ایسی آیات کا باحوالہ ذکر کیا ہے، جو حضرت عمر کی رائے کے موافق نازل ہوئی ہیں۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ پھر حضرت عمر نے یہ کیوں کہا ہے کہ میں نے اپنے رب کی تین آیات میں موافقت کی ہے اس کا ایک جواب یہ ہے کہ کسی عدد کے ساتھ تخصیص اس کے ماسوا کی نفی نہیں کرتی ، دوسرا جواب یہ ہے کہ ان آیات کی شہرت کی وجہ سے حضرت عمر نے ان تین آیات کا ذکر کیا۔

اس حدیث میں آیت حجاب کا ذکر ہے وہ یہ آیت ہے:

يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُذنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيهِنَّ (الاحزاب : 59)

اے نبی ! اپنی ازواج سے کہیے اور اپنی بیٹیوں اور مومنین کی بیویوں سے کہ اپنے اوپر چادر میں ڈال لیا کریں۔

غیرت کا معنی اور جو ازواج غیرت میں اکٹھی ہوئی تھیں، ان کا بیان

اس حدیث میں ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج غیرت میں اکٹھی ہوگئیں۔

غیرت کا معنی ہے: اپنے محبوب سے شدید محبت کی وجہ سے محبوب میں کسی کی شرکت کا ناگوار ہونا حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شدید محبت تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب بن جحش رضی اللہ عنہا کے پاس شہد پینے کی وجہ سے زیادہ ٹھہرتے تھے تو یہ ان کو ناگوار ہوتا اور انہوں نے آپ کو ان کے پاس ٹھہرنے سے روکنے کے لیے یہ حیلہ کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ نے مغافیر کھایا ہے عرفط نام کے ایک درخت پر گوند لگتا تھا ، جس کی بو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو ناپسند تھی اس گوند کو مغافیر کہتے ہیں ۔

اس واقعہ کی تفصیل درج ذیل حدیثوں میں ہے:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹہرتے تھے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے پس میں نے اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما نے یہ مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ آپ سے یہ کہے کہ مجھے آپ سے مغافیر کی بو آرہی ہے کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ پھر ان میں سے کسی ایک کے پاس آپ گئے تو اس نے یہ کہا آپ نے فرمایا: نہیں ! میں نے زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب میں اس کو کبھی نہیں پیوں گا تب یہ آیتیں نازل ہوئیں:

يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ. (تحريم :1)

اے نبی! آپ اپنے آپ کو اس چیز سے کیوں روکتے ہیں جس کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کر دیا ہے۔

وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضٍ أَزْوَاجِهِ حَدِيثا (التحريم : ٣) اور جب نبی نے اپنی کسی بیوی کو راز کی بات بتائی۔

( صحیح بخاری: ۵۲۶۷ صحیح مسلم : ۱۳۷۴ الرقم المسلسل : 3614، سنن ابوداؤد : 3714، سنن نسائی:۳۷۹۵ -۳۴۲۱ السنن الکبیری للنسائی: 5614 مسند احمد ج 6 ص 60-۵۹)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم شہد اور مٹھاس کو پسند کرتے تھے اور آپ جب عصر کی نماز سے فارغ ہوتے تو اپنی ازواج کے پاس جاتے، پس ان میں سے کسی ایک کے قریب جاتے، پس آپ حضرت حفصہ بنت عمر کے پاس گئے اور ان کے پاس معمول سے زیادہ ٹھہرے، پس مجھے ان پر غیرت آئی (یعنی ان کے پاس زیادہ ٹھہرنا مجھے ناگوار گزرا) میں نے اس کے متعلق سوال کیا تو مجھے بتایا گیا کہ آپ کے خاندان کی ایک عورت نے آپ کو شہر کا ڈبا پیش کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے شہد پیش کیا تب میں نے دل میں کہا: اللہ کی قسم! ہم ضرور اس کے لیے کوئی حیلہ کرلیں گے پس میں نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا: عنقریب آپ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئیں گے جب وہ آپ کے قریب آئیں تو آپ ان سے کہیں : آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ وہ آپ سے کہیں گے نہیں، پھر آپ ان سے کہیں : تب یہ آپ کے پاس سے بو کیسی آرہی ہے؟ آپ کہیں گے: مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا تو آپ ان سے کہیں : شہد کی مکھی نے عرفط درخت کی پتیوں کو چوس لیا ہوگا اور عنقریب میں بھی یہی کہوں گی اور اے صفیہ اتم بھی یہی کہنا، حضرت سودہ کہتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر کھڑے ہوئے تو میں نے تمہارے ڈر سے ارادہ کیا کہ میں وہی کہوں جو تم نے کہا تھا، پھر جب آپ حضرت سودہ کے پاس گئے تو انہوں نے کہا: یارسول اللہ ! آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں حضرت سودہ نے کہا: پھر آپ سے یہ بو کیسی آرہی ہے؟ آپ نے فرمایا: مجھے حفصہ نے شہد پلایا ہے، حضرت سودہ نے کہا: شہد کی مکھی نے عرفط درخت کی پتیوں کو چوس لیا ہوگا پھر جب آپ میرے پاس آئے تو میں نے بھی یہی کہا، پھر جب آپ حضرت صفیہ کے پاس گئے تو انہوں نے بھی یہی کہا، پھر جب آپ حضرت حفصہ کے پاس گئے تو انہوں نے کہا: یارسول اللہ ! میں آپ کو اس سے شہد پلاؤں آپ نے فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے حضرت سودہ کہتی تھیں: اللہ کی قسم ! ہم نے آپ کو شہد سے روک دیا تو میں نے ان سے کہا: چپ رہو۔ ( صحیح البخاری : 5268، صحیح مسلم : 1474 الرقم المسلسل : ۳۶۱۵)

اس اعتراض کا جواب کہ بخاری اور مسلم کی ان دو حدیثوں میں تعارض ہے

ان حدیثوں پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ عبید بن عمیر کی روایت میں ہے: حضرت زینب بنت جحش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد پلایا تھا اور ہشام بن عروہ کی روایت میں حضرت حفصہ نے آپ کو شہد پلایا تھا بہ ظاہر یہ تعارض ہے؟

حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس تعارض کے جواب میں لکھا ہے کہ یہ متعدد واقعات ہیں۔ پہلے حضرت حفصہ کے شہد پلانے کا واقعہ ہے اور پھر حضرت زینب بنت جحش کے شہد پلانے کا واقعہ ہے اس لیے ان میں تعارض نہیں ہے۔

اور ترجیح کے طریقہ سے عبید بن عمیر کی حدیث راجح ہے، کیونکہ مفسرین نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر شہد کو روکنے والی حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما تھیں۔

علامہ قرطبی نے کہا ہے کہ ہشام بن عروہ کی روایت درایہ صحیح نہیں ہے کیونکہ اس روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک دوسری کی مدد کرنے والی تین ازواج تھیں : حضرت عائشہ، حضرت سودہ اور حضرت صفیہ اور قرآن مجید میں تصریح ہے کہ یہ دو بیویاں تھیں کیونکہ قرآن مجید میں تثنیہ کا صیغہ ہے: ” وَإِنْ تَظهَرا عَلَيْهِ التحریم:۴) اور اگر تم نبی کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو گی۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ دو بیویاں حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما تھیں۔ اس لیے عبید بن عمیر کی روایت صحیح ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ حضرت زینب بنت جحش، نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہد پلاتی تھیں اور اس کے خلاف حیلہ کرنے کا حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ نے مشورہ کیا۔ (فتح الباری ج 6 ص 453، دار المعرفة بيرات 1426ھ)

اس اعتراض کا جواب کہ ازواج مطہرات نے مغافیر کی بو کا کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ بولا

اگر اس حدیث پر یہ اعتراض کیا جائے کہ پھر لازم آئے گا کہ ازواج مطہرات نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ بولا،  اس کا جواب یہ ہے کہ جھوٹ تب ہوتا جب وہ آپ کو یہ خبر دیتیں کہ آپ نے مغافیر کھایا ہے جب کہ انہوں ے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا: کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ یہ آپ کے منہ سے کیسی بو آرہی ہے؟ انہوں نے یہ بات سوالیہ انداز میں کہی اور حرف استفہام کو ذکر نہیں کیا اور اس کو انہوں نے حیلہ سے تعبیر کیا، یعنی یہ آپ کو شہد پینے سے یا حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا پاس زیادہ ٹھہرنے سے روکنے کی خفیہ تدبیر تھی اور حیلہ کرنا جائز ہے جیسے حضرت یوسف علیہ السلام نے بنیامین کو اپنے پاس روکنے کے لیے حیلہ کیا تھا، اسی طرح حضرت عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما نے یہ تدبیر اس لیے اختیار کی تاکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ کو زیادہ دیر اپنے پاس ٹھہراسکیں ۔

یہ بحث مصنف کے خصائص میں سے ہے اور کسی شرح میں یہ تفصیل نہیں ہے۔

دوسرے نبیوں کی شریعت پر عمل کرنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا موجب ہے،  پھر حضرت عمر نے مقام ابراہیم کو مصلی بنانے کی درخواست کیوں کی؟

اس حدیث میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سوال کا ذکر ہے کہ مقام ابراہیم کو مصلی بنالیا جائے، اس پر یہ اعتراض ہے کہ حضرت عمر کو یہ علم تھا کہ دوسری ملت کی پیروی کرنے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوتے ہیں کیونکہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے تورات پڑھ رہے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے اور آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں ( سیدنا ) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! اگر تمہارے سامنے حضرت موسیٰ ظاہر ہوتے اور تم ان کی پیروی کرتے اور مجھے چھوڑ دیتے تو تم سیدھے راستے سے گم راہ ہوجاتے اور اگر وہ زندہ ہوتے اور میری نبوت کو پالیتے تو میری پیروی کرتے ۔ (سنن دارمی: ۴۳۵) تو پھر حضرت عمر نے یہ سوال کیوں کیا کہ مقام ابراہیم کو مصلی بنالیا جائے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید کی چند آیات پڑھ کر حضرت عمر کو علم ہوا کہ ہماری شریعت میں حضرت ابراہیم کی ملت کی پیروی کرنا پسندیدہ ہے اس لیے انہوں نے یہ سوال کیا اور وہ آیات یہ ہیں، جن میں حضرت ابراہیم کے متعلق فرمایا ہے:

اني جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا. (البقره: 124)

بے شک میں آپ کے تمام لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔

ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا.( النحل : 123)

پھر ہم نے آپ کی طرف یہ وحی کی کہ آپ ابراہیم کی ملت کی پیروی کیجئے جو ادیان باطلہ سے اعراض کرنے والے ہیں۔

فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا. (آل عمران: ۹۵)

سو (اے مسلمانو !) تم ابراہیم کی ملت کی پیروی کرو جو ادیانِ باطلہ سے اعراض کرنے والے ہیں۔

مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قبل وَفِي هَذَا. (الحج : 78)

(یہ) تمہارے باپ ابراہیم کی ملت ہے اس نے اس سے پہلے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اور اس ( قرآن ) میں ( بھی ) ۔

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا: یارسول اللہ! یہ قربانیاں کیسی ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہیں۔ (سنن ابن ماجہ: ۳۱۲۷ مسند احمد ج 4 ص ۳۶۸)

اور انہوں نے دیکھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے افعال کی حج میں اتباع کی جاتی ہے اور ان کی سنت کے مطابق ختنہ کیا جاتا ہے اور بیت اللہ کے بنانے کی بھی ان کی طرف نسبت ہے اور مقام میں ان کے قدم کا نقش قائم ہے جیسے کسی عمارت کے بنانے والے کا نام اس عمارت پر کندہ ہوتا ہے جس طرح آج کل بھی سنگ بنیاد رکھنے کا رواج ہے جس سے بنانے والے کی یادگار قائم رہتی ہے تو حضرت عمر نے سوچا کہ کعبہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار کے طور پر اس پتھر کو مصلی بنالیا جائے، جس پر ان کے پیر کا نقش اب تک قائم ہے تاکہ مسلمانوں کے دلوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد قائم رہے اور کعبہ میں نماز پڑھتے وقت اور حج کرتے وقت یہ ذہنوں میں رہے کہ ہمارے پہلے مقتدی اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد اور اس کعبہ کے بانی حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ ” مقام ” کا معنی ہے: کھڑے ہونے کی جگہ، یعنی یہ پتھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کھڑے ہونے کی جگہ تھا، جس پر آپ کے پیر کا نشان ثبت تھا اس کی حضرت عمر کے نزدیک یہ عظمت تھی کہ انہوں نے درخواست کی کہ اس کو مصلی بنالیا جائے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس چیز کی کسی نبی کی طرف نسبت ہو اس کو یادگار بنانا حضرت عمر کے نزدیک جائز تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک اور آپ کے دیگر تبرکات کو جو بہ طور یادگار محفوظ رکھے جاتے ہیں اور ان کی زیارت کی جاتی ہے اور آپ کا میلاد منایا جاتا ہے اس کی اصل بھی یہی آیت اور یہی حدیث ہے، نیز مقام ابراہیم کو مصلی بنانا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کے مقبول ہونے کا اظہار ہے:

وَاجْعَلْ لى لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ (الشعراء: 84)

اور میر اذکر خیر بعد کے لوگوں میں باقی رکھنا۔

ازواج مطہرات کے حجاب کی تحقیق

اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ  نے فرمایا: اور میں نے پردہ کی آیت میں اللہ تعالیٰ کی موافقت کی۔

پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے رواج کے مطابق ازواج مطہرات کو پردہ میں نہیں رکھتے تھے اور آپ پر یہ مخفی نہیں تھا کہ آپ کی ازواج کا پردہ میں رہنا بہتر ہے، لیکن آپ اس معاملہ میں وحی کا انتظار فرما رہے تھے ازواج مطہرات کے حجاب کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے:

وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَسْنَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاء حجاب. (احزاب:53)

اور جب تم نبی کی ازواج سے کسی چیز کا سوال کرو تو ان سے پردہ کی اوٹ سے سوال کرو۔

یہ آیت سورۃ الاحزاب کی ہے اور جمہور ارباب سیر و مغازی کا اتفاق ہے کہ غزوۃ الاحزاب ۵ ہجری میں ہوا ہے۔

(فتح الباری ج ۷ ص 393لاہور، ۱۴۲۶ھ )

ازواج مطہرات کے حجاب کا ذکر اس حدیث میں ہے:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں تمام لوگوں سے زیادہ حجاب کے متعلق جاننے والا ہوں اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی مجھ سے اس کے متعلق سوال کرتے تھے حضرت انس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب کے ساتھ شب زفاف کی صبح کی آپ نے ان کے ساتھ مدینہ میں نکاح کیا تھا، پھر آپ نے دن چڑھنے کے بعد لوگوں کو ولیمہ کے لیے بلایا’ پس رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور لوگوں کے اٹھنے کے بعد کچھ لوگ آپ کے ساتھ بیٹھے رہے، حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے پھر آپ چلے گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ چلا گیا حتی کہ آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے دروازہ پر پہنچ گئے، پھر آپ نے گمان کیا کہ شاید اب وہ لوگ حجرہ سے باہر نکل گئے ہوں گے، سو آپ لوٹ آئے اور میں بھی آپ کے ساتھ لوٹ آیا جب کہ وہ لوگ اپنی جگہوں پر اسی طرح بیٹھے ہوئے تھے آپ پھر لوٹ کرگئے اور میں بھی آپ کے ساتھ لوٹ گیا، حتیٰ کہ آپ حضرت عائشہ کے حجرہ تک پہنچے پھر آپ لوٹ آئے اور میں بھی لوٹ آیا اس وقت وہ لوگ کھڑے ہوگئے، پھر آپ نے میرے اور اپنے گھر کے درمیان پردہ ڈال دیا اور اللہ تعالیٰ نے حجاب کی آیت نازل کردی۔

(صحیح البخاری : 5466، صحیح مسلم : 1428، الرقم المسلسل : 3443، السنن الکبری للنسائی: 6616،)

اور وہ یہ آیت ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُۙ-وَ لٰـكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍؕ-اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ٘-وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّؕ- وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْــٴَـلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍؕ-ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّؕ-وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًاؕ-اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا(53)الاحزاب

اے ایمان والو! نبی کے گھر میں داخل نہ ہو، سوا اس کے کہ تمہیں کھانے کے لیے بلایا جائے، کھانا پکنے کا انتظار نہ کرتے رہو بلکہ جب تمہیں بلایا جائے اس وقت جاؤ پھر جب کھانا کھاچکو تو فورا چلے جاؤ اور (وہاں) باتوں میں دل نہ لگاؤ بے شک تمہارے اس عمل سے نبی کو تکلیف پہنچتی ہے سو وہ تم سے حیا کرتے ہیں اور اللہ حق بات کہنے سے نہیں رکتا، اور جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز مانگو تو پردہ کے پیچھے سے مانگو یہ تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کے لیے نہایت پاکیزگی کا باعث ہے۔

حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر شافعی متوفی ۷۷۴ ھ نے لکھا ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا اللہ کے ساتھ غزوہ بنو قریظہ کے بعد ذو القعدہ پانچ ہجری میں ہوا اور اسی تاریخ کو حجاب کے احکام نازل ہوئے ۔البداية والنہايہ ج ۳ ص 305 دار الفکر، بیروت 1419ھ)

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات پر جو حجاب فرض ہے وہ عام مسلم خواتین کی بہ نسبت زیادہ سخت اور مؤکد ہے،  عام مسلم خواتین تو گواہی یا علاج کی ضرورت کی وجہ سے اجنبی مردوں کے سامنے چہرے اور ہاتھوں کو کھول سکتی ہیں اور ازواج مطہرات کو اس کی بھی اجازت نہیں ہے۔ (عمدۃ القاری ج 19 ص ۱۷۷ دار الکتب العلمیہ بیروت 1421ھ )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج تمام دنیا کی عورتوں سے افضل ہیں پھر کیسے فرمایا: اللہ ان کے بدلہ میں ان سے بہتر ازواج لے آئے گا؟

اس حدیث کے آخر میں التحریم : ۵ کی آیت ذکر کی گئی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اگر آپ نے تم سب کو طلاق دے دی تو عنقریب آپ کا رب آپ کو (تمہارے) بدلے میں تم سے بہتر ازواج عطا کر دے گا۔

امام فخرالدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں:

اللہ تعالی کو علم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کو طلاق نہیں دیں گے لیکن اللہ تعالی نے اپنی قدرت کا اظہار فرمایا ہے کہ اگر بالفرض نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی تو اللہ تعالٰی آپ کے نکاح میں ان سے بہتر ازواج لے آئے گا اور یہ اللہ تعالیٰ نے ازواج کے متعلق اس لیے فرمایا ہے تاکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرنے اور آپ کو ناراض کرنے اور آپ کے خلاف مدد کرنے سے ڈرتی رہیں۔ اس آیت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جن عورتوں کو ازواج کے بدلہ میں لایا جائے گا وہ ازواج سے بہتر کیسے ہوسکتی ہیں جب کہ روئے زمین پر کوئی عورت امہات المؤمنین سے بہتر نہیں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اس صورت میں ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی اور آپ کو ایذاء پہنچانے کی وجہ سے ان کو طلاق دے دیتے، پھر ازواج تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر ہونے کی صفت پر باقی نہیں رہتیں اور دوسری عورتیں جو آپ کی اطاعت گزار ہوتیں وہ ان سے بہتر ہوتیں لیکن جب حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالی کے حکم کے مطابق توبہ کرلی تو پھر وہی سب سے اعلیٰ اور افضل رہیں۔( تفسیر کبیر ج 10 ص ۵۷۱ دار احیاء التراث العربی بیروت، ۱۴۱۵ھ)

امام ابو منصور محمد بن محمود ماتریدی متوفی 333ھ لکھتے ہیں:

یہ ہوسکتا ہے کہ وہ عورتیں اپنی ذات کے اعتبار سے تو آپ کی ازواج سے بہتر نہ ہوتیں لیکن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ازواج مطہرات سے بہتر ہوتیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

مسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَت قنتت تئبت الخ (التحريم:۵) مسلمان، مومن، خشوع کرنے والیاں، توبہ کرنے والیاں۔

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بھی اس صفت پر تھیں، کیا تم نہیں دیکھتے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ حضرت حفصہ سے رجوع کرلیجئے کیونکہ وہ بہت روزے رکھنے والی اور بہت قیام کرنے والی ہیں۔

اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ عورتیں اپنے حسن و جمال اور اپنے نسب کے اعتبار سے ازواج مطہرات سے بہتر ہوتیں۔

حضرت حفصہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کردیا تھا، آپ نے حضرت حفصہ کی دل جوئی کے لیے ان سے فرمایا تھا: میں آئندہ شہد نہیں پیوں گا یا فرمایا تھا: میرے بعد ابوبکر اور عمر خلیفہ ہوں گے لیکن تم یہ کسی کو بتانا نہیں، حضرت حفصہ نے یہ بات حضرت عائشہ کو بتادی تھی، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (اے نبی کی دونوں بیویو! اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرلو تو بہتر ہے، پس بے شک تم دونوں کے دل ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شدت محبت میں) بہت جھک گئے ہیں، اگر تم نبی کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کروگی تو یقینا ان کا کارساز اللہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک مسلمان ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی ان کی مدد کرنے والے ہیں۔ (التحریم: ۳) اور احادیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کو ایک طلاق دے دی تھی، پھر حضرت جبریل علیہ السلام نازل ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ حضرت حفصہ سے رجوع کرلیں، وہ بہت روزے رکھنے والی اور بہت قیام کرنے والی ہیں اور یہ جنت میں بھی آپ کی زوجہ ہیں ۔ ( تاویلات اہل السنتہ ج ۱۰ ص ۸۲ )

امام ماتریدی مزید لکھتے ہیں: اس آیت کا معنی یہ ہوسکتا ہے کہ وہ عورتیں ازواج مطہرات سے اس لحاظ سے بہتر ہوتیں کہ وہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہ کرتیں اور آپ کی مخالفت میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرتیں اور اگر حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ توبہ نہ کرتیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں ایک دوسرے کی مدد کرتی رہتیں،  تو پھر وہ عورتیں ان ازواج سے بہتر ہوتیں، لیکن جب انہوں نے آپ کی نافرمانی سے توبہ کرلی اور آپ کے خلاف ایک دوسرے کی مدد نہیں کی تو وہ اپنے مرتبہ پر برقرار ہیں اور وہی تمام دنیا کی عورتوں سے افضل رہیں ۔ ( تاویلات اہل السنت ج ۱۰ ص ۸۶ دار الکتب العلمیہ بیروت 1426ھ)

Exit mobile version