عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنۡ طَلَّقَكُنَّ اَنۡ يُّبۡدِلَهٗۤ اَزۡوَاجًا خَيۡرًا مِّنۡكُنَّ مُسۡلِمٰتٍ مُّؤۡمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَيِّبٰتٍ وَّاَبۡكَارًا سورۃ نمبر 66 التحريم آیت نمبر 5
sulemansubhani نے Thursday، 4 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنۡ طَلَّقَكُنَّ اَنۡ يُّبۡدِلَهٗۤ اَزۡوَاجًا خَيۡرًا مِّنۡكُنَّ مُسۡلِمٰتٍ مُّؤۡمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَيِّبٰتٍ وَّاَبۡكَارًا ۞
ترجمہ:
اگر نبی نے تم کو طلاق دے دی تو عنقریب ان کا رب ان کو تمہارے بدلے میں تم سے بہتربیویاں دے دے گا جو فرماں بردار، ایمان دار، عبادت گزار، توبہ کرنے والیاں، عبادت کرنے والیاں، روزہ دار، شوہر دیدہ اور کنواریاں ہوں گی
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر نبی نے تم کو طلاق دے دی تو عنقریب ان کا رب ان کو تمہارے بدلے میں تم سے بہتر بیویاں دے دے گا، جو فرماں بردار، ایمان دار، عبادت گزار، توبہ کرنے والیاں، عبادت کرنے والیاں، روزہ دار، شوہر دیدہ اور کنواریاں ہوں گی ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچائو جس کا ایندھن آدھی اور پتھر ہیں، جس پر سخت گیر اور مضبوط فرشتے مقرر ہیں، اللہ انہیں جو حکم دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے اے کافرو ! آج تم کوئی عذر پیش نہ کرو تمہیں ان ہی کاموں کا بدلہ دیا جائے گا جو تم دنیا میں کرتے تھے ( التحریم : ٥، ٧)
” مسلمات، مومنات “ اور ” قانتات “ وغیرھا کے معانی
اس آیت میں ” مسلمات “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی خضوع اور خشوع سے اطاعت کرنے والیاں یا اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام پر عمل کرنے والیاں۔
اور ” مومنات “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ کا ذات، صفات اور اس کی توحید پر ایمان لانے والیاں یا اللہ تعالیٰ کے اوامر اور نواہی کی تصدیق کرنے والیاں۔
اور ” قانتات “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے اطاعت کرنے والیاں اور رات کو اٹھ کر قیام کرنے والیاں۔
اور ” سائحات “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : روزہ رکھنے والیاں، حضرت ابن عباس اور حسن بصری نے کہا : اس کا معنی ہے، ہجرت کرنے والیاں، کیونکہ ” سائحات “ کا مادہ سیاحت ہے، اس کا معنی ہے : زمین میں سفر کرنا اور مؤمنوں کی سیاحت ہجرت ہے اور ایک قول ہے اللہ عزوجل کی اطاعت میں سفر کرنے والیاں اور یہ حج اور عمرہ کو سفر شامل ہے۔
اور ” ئیبسات “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے، جس کی پہلے شادی ہوچکی ہو پھر وہ خود مطلقہ ہو یا بیوہ ہو اور اس میں یہ اشارہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو شادیاں کیں وہ عورتوں کی طرف رغبت یا شہوت کے تقاضوں سے نہیں کیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کیں، جنت میں آپ کی ثیبہ، زوجہ، فرعون کی بیوی حضرت آسیہ ہوں گی۔
اور ” ابکارا “ کا لفظ ہے، با کرہ کا معنی ہے۔ دو شیزہ اور کنواری، دنیا میں آپ کی کنواری زوجہ صرف حضرت عائشہ (رض) تھیں اور جت میں کنواری زوجہ حضرت مریم بنت عمران ہوں گی۔
کیا کوئی خاتون ازواج مطہرات سے افضل ہوسکتی ہے ؟
اس آیت میں فرمایا ہے : اگر آپ ان ازواج کو طلاق دے دیں تو اللہ تعالیٰ ان کے بدلہ میں ان سے بہتر ازواج آپ کے نکاح میں لے آئے گا، اس پر یہ اعتراض ہے کہ روئے زمین پر امہات المومنین سے بہتر عورتیں موجود نہیں ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ نے کیسے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان سے بہتر ازواج آپ کے نکاح میں لے آئے گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کہ اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان ازوج کو اس وجہ سے طلاق دے دیتے کہ وہ آپ کی پسند پر اپنی پسند کو ترجیح دیتی ہیں اور اس وجہ سے آپ کو ایذاء پہنچاتی ہیں اور پھر وہ اس پر توبہ نہ کرتیں تو پھر وہ اس صفت پر قائم نہ رہتیں کہ وہ دنیا میں سب سے افضل اور بےمثل خواتین ہیں جیسا کہ اس آیت میں فرمایا :
یٰـنِسَآئَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآئِ (الاحزاب : ٣٢) اے نبی کی ازواج ! تم عام عورتوں کی مثل نہیں ہو۔
لیکن جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج نے اپنے مطالبہ سے رجوع کرلیا اور اپنی بےاعتدالی سے توبہ کرلی تو وہ پھر اپنی اسی افضلیت اور بےملی کے مقام پر فائز ہوگئیں، اور اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج رجوع کرلیں گی اور آپ ان کو طلاق نہیں دیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج رجوع کرلیں گی اور آپ ان کو طلاق نہیں دیں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو ڈرانے کے لیے فرمایا کہ وہ اس پر قادر ہے کہ ان سے بہتر ازواج اپنے نبی کے نکاح میں لے آئے اس کی نظریہ آیت ہے :
وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ ثُمَّ لَا یَکُوْنُوْٓا اَمْثَالَکُمْ (محمد : ٣٨) اور اگر تم ( اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے) اعراض کرو تو اللہ تمہارے بدلہ میں اور لوگ لے آئے گا، پھر وہ تمہاری مثل نہ ہوں گے
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو ڈرانے کے لیے خطاب فرمایا ہے اور یہ بتانے کے لیے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو ڈرانے کے لیے خطاب فرمایا ہے اور یہ بتانے کے لیے کہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ ان سے بہتر مومنوں کو وجود میں لے آئے اگرچہ روئے زمین پر ان سے بہتر مومن اس وقت تھے نہ آئندہ ہوں گے۔
حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ سے ناراضگی کے سلسلہ میں احادیث
امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ اور امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں کافی عرصہ سے یہ سوچ رہا تھا کہ میں عمر بن الخطاب (رض) سے ایک آیت کے متعلق سوال کروں لیکن ان کی ہیبت کی وجہ سے میں ان سے سوال نہیں کر رہا پا رہا تھا، حتیٰ کہ وہ حج کے لیے روانہ ہوئے اور میں بھی ان کے ہمراہ تھا، واپسی میں وہ ایک جگہ قضاء حاجت کے لیے گئے، جب وہ فارغ ہو کر آئے تو میں نے ان سے کہا : اے امیر المومنین ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج میں سے وہ کون سی دو بیویاں تھیں جنہوں نے آپ سے موافقت نہیں کی تھی ؟ حضرت عمر نے کہا : وہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ تھیں (رض) ، میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں ایک سال سے یہ چاہ رہا تھا کہ آپ سے اس کے متعلق سوال کروں، لیکن آپ کی ہیبت کی وجہ سے آپ سے سوال نہیں کرسکا، حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ایسا نہ کیا کرو، جس چیز کے متعلق بھی تمہیں خیال ہو کہ مجھے اس کا علم ہوگا تم اس کے متعلق مجھ سے سوال کرلیا کرو، اگر مجھے اسے کے متعلق علم ہوگا تو میں تم کو ضرور بتائوں گا، حضرت عمر نے کہا : ہم زمانہ جاہلیت میں عورتوں کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تھے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق وہ حقوق نازل کیے اور ان کے متعلق وہ تقسیم کی جو تقسیم کی، اسی اثناء میں ایک دن میں نے اپنی بیوی سے کسی کام کے لیے کہا، تو اس نے کہا : تم اس طرح کرلو، میں نے کہا : میں نے تم کو جس کام کا کہا ہے تم وہ کام کرو، تم اس میں اور باتیں کیوں کر رہی ہو ؟ اس نے کہا : تعجب ہے اے ابن الخطاب ! تم نہیں چاہتے کہ تمہیں جواب دیا جائے حالانکہ تمہاری بیٹی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جواب دیتی ہے، حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ دن غصہ میں گزارتے ہیں، پس حضرت عمر کھڑے ہوئے، چادر اپنی جگہ سے اٹھائی اور حضرت حفصہ کے پاس پہنچے اور کہا : اے بیٹی ! کیا تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جواب دیتی ہو حتیٰ کہ آپ پورا دن غصہ سے گزارتے ہیں ؟ حضرت حفصہ نے کہا : ہاں ! اللہ کی قسم ! ہم آپ کو ضرور جواب دیتی ہیں۔ میں نے کہا : کیا تم جاتی ہو کہ میں تمہیں اللہ کے عذاب سے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غضب سے ڈرا رہا ہوں، اے بیٹی ! تم اس سے دھوکہ میں نہ آنا جس کا حسن و جمال آپ کو پسند ہے اور وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو محبوب ہے، حضرت عمر کی مراد حضرت عائشہ تھیں، پھر میں ان کے پاس سے حضرت ام سلمہ کے پاس گیا کیونکہ میری ان سے قرابت تھی۔ میں نے ان سے اس سلسلہ میں بات کی، انہوں نے کہا : تعجب ہے اے ابن الخطاب ! تم ہر چیز میں دخل دیتے ہو، حتیٰ کہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی ازواج میں بھی مداخلت کرنا چاہتے ہو، انہوں نے مجھ سے اس قدر شدید مواخذہ کیا کہ میں نے اپنے دل میں ازواج مطہرات کو سمجھانے کا جو منصوبہ بنایا تھا اس پر عمل نہیں کیا، پھر میں ان کے پاس سے چلا گیا، ادھر میرا پڑوسی ایک انصاری تھا، ہم دونوں باری باری رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاتے تھے، ایک دن وہ جاتا اور اس دن نازل ہونے والے احکام کی خبر لے کر آتا اور ایک دن میں جاتا، ان دنوں ہمیں غسان کے بادشاہ کی طرف سے خطرہ تھا کہ وہ ہم پر حملہ کرنے والا ہے، ایک دن میرے پڑوسی انصاری نے آ کر زور سے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا : کھولو، کھولو، میں نے پوچھا : کیا غسانی نے حملہ کردیا ؟ اس نے کہا : اس سے بھی بڑی بات ہوگئی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ازواج سے الگ ہوگئے ہیں، میں نے کہا : حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ پر افسوس ہے، میں اپنے کپڑے بدل کر وہاں پہنچاتو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے بالا خانے پر تھے جس کی طرف سیڑھی سے راستہ تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سیاہ فام غلام اس کے ڈنڈے پر بیٹھا تھا، میں نے کہا : یہ عمران بن الخطاب یہ، آپ سے کہو وہ ملنے کی اجازت چاہتا ہے، حضرت عمر نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ قصہ سنایا، جب میں نے حضرت ام سلمہ کا قول سنایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرائے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے، آپ کے نیچے اور کوئی چیز نہیں تھی، اور آپ کے سپر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی اور آپ کے پیروں کی طرف درخت کے پتے تھے، اور آپ کے سر کے پاس ایک کچی کھال لٹکی ہوئی تھی اور میں نے دیکھا کہ چٹائی کے نشانات آپ کے پہلو میں نقش ہوگئے تھے، میں رونے لگا، آپ نے پوچھا : اے ابن الخطاب ! کیوں رو رہے ہو ؟ میں نے کہا : یا رسول اللہ ! کسریٰ اور قیصر کتنے عیش و آرام میں ہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ کا یہ حال ہے، آپ نے فرمایا : کیا تم اس پر رضی نہیں ہو کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت ہو۔
( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٩٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤٨٩)
امام بخاری نے کتاب المظالم و الغضب میں یہ حدیث زیادہ تفصیل سے ذکر کی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے۔
حضرت عمر (رض) نے ” اِنْ تَتُوْبَآ اِلَی اللہ ِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا “ (التحریم : ٤) کی تفسیر میں فرمایا : میرے پڑوسی نے آ کر مھے بتایا کہ عظیم حادثہ ہوگیا ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے، حضرت عمر نے کہا : حفصہ تو ناکام اور نامراد ہوگئی، مجھے پہلے ہی یہ خطرہ تھا کہ ایسا ہونے والا ہے، میں نے اپنے کپڑے بدلے اور نماز فجر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پڑھی، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے بالا خانے میں گئے اور وہاں الگ رہے، میں حفصہ کے پاس گیا تو وہ رو رہی تھیں، میں نے کہا : اب کیوں رو رہی ہو، کیا میں نے تم کو اس خطرہ سے پہلے آگاہ نہیں کیا تھا، کیا تم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طلاق دے دی ہے ؟ حضرت حفصہ نے کہا : مجھے پتا نہیں، آپ وہاں اس بالا خانے میں ہیں، پس میں باہر آیا اور منبر کے پاس گیا، وہاں لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور بعض رو رہے تھے، میں تھوڑی دیر ان کے پاس بیٹھا رہا، پھر میں اپنے خیالات سے مجبور ہو کر اٹھا اور اس بالا خانے کے پاس پہنچا جس میں آپ تشریف فرما تھے، میں نے اس سیاہ فام غلام سے کہا : جائو عمر کے لیے اجازت طلب کرو، وہ گیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کر کے آگیا اور کہا : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آپ کا ذکر کیا تھا، آپ سن کر خاموش رہے، میں لوٹ آیا اور منبر کے پاس جو لوگ تھے، ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا، پھر میں اپنے خیالات سے مجبور ہو کر اٹھا اور پھر بالا خانہ پر گیا، پھر اسی طرح ماجرا ہوا اور میں پھر منبر کے پاس جا کر لوگوں کے پاس بیٹھ گیا، پھر میں اپنے دل سے مجبورہو کر اٹھا اور اس سیاہ فام غلام کے پاس گیا اور اس سے کہا : جائو عمر کے لیے اجازت طلب کرو، پھر اسی طرح ہوا، جب میں واپس جانے لگا تو وہ غلام مجھے بلا رہا تھا، اس نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کو اجازت دے دی ہے، اس وقت آپ ایک کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے، آپ کے اور اس چٹائی کے درمیان کوئی بستر نہیں تھا، اور چٹائی کے نشانات آپ کے پہلو میں نقش ہوگئے تھے اور چمڑے کے ایک تکیہ سے آپ نے ٹیک لگائی ہوئی تھی جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، پھر میں نے کھڑے ہوئے آپ کو سلام کیا، پھر میں نے پوچھا : آپ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے ؟ آپ نے نظر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا : نہیں، پھر میں نے اسی طرح کھڑے ہوئے کہا : یا رسول اللہ ! کاش آپ مجھے دیکھیں، ہم قریش کے لوگ اپنی بیویوں پر غالب رہتے تھے، پھر ہم مدینہ آئے اور یہاں کی عورتیں اپنے مردوں پر غالب رہتی تھیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرائے، پھر میں نے کہا : کاش آپ کو معلوم ہوتا میں حفصہ کے پاس گیا اور میں نے کہا : تم کو یہ بات دھوکے میں نہ ڈالے کہ تمہاری سہیلی تم سے زیادہ حسین و جمیل ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زیادہ محبوب ہے، ان کی مراد حضرت عائشہ تھیں، آپ دوبارہ مسکرائے، جب میں نے آپ کو مسکراتے ہوئے دیکھا تو میں بیٹھ گیا پھر میں نے گھر میں نظر ڈالی، سو اللہ کی قسم ! میں نے گھر میں کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جو میری نظر کو لوٹاتی، وہاں صرف تین کچی کھالیں تھی، میں نے کہا : آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کی امت کو خوش حال کردے، کیونکہ فارس اور روم پر تو بہت خوش حالی ہے، ان کو دنیا دی گئی ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے، آپ تکیہ لگائے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا : اے ابن الخطاب ! کیا تم شک میں ہو ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کی اچھی چیزیں دنیا میں ہی دے دی گئی ہیں۔ میں نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے لیے مغفرت طلب کریں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وجہ سے ازواج سے الگ ہوگئے تھے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی راز کی بات حفصہ نے حضرت عائشہ کو بتادی تھی، اور آپ نے فرمایا : میں ایک ماہ تک ان ازواج کے پاس نہیں جائوں گا، کیونکہ آپ کو ان پر بہت رنج تھا جب اللہ نے آپ پر ( صورۃ) عتاب کیا تھا۔ جب انتیس دن گزر گئے تو آپ نے حضرت عائشہ سے ابتداء کی اور ان کے پاس گئے، حضرت عائشہ نے کہا : آپ نے تو فرمایا تھا کہ آپ ایک ماہ تک ہمارے پاس نہیں آئیں گے، اور میں تو ایک ایک رات گن کر گزار رہی تھی، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے، حضرت عائشہ نے کہا : پھر آپ پر آیت تخییر نازل کی گئی تو میں وہ پہلی عورت تھی جس سے آپ نے ابتداء کی اور فرمایا : میں تم سے ایک بات ذکر کر رہا ہوں اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ تم اس معاملہ میں اپنے والدین سے مشورہ کرلو، حالانکہ آپ کو خوب علم تھا کہ میرے ماں باپ آپ سے علیحدگی کا مشورہ دیں گے، پھر آپ نے الاحزاب : ٢٩، ٢٨ کی تلاوت فرمائی، میں نے کہا : کیا میں اس معاملہ میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی، میں اللہ کا، اس کے رسول کا اور دار آخرت کا ارادہ کرتی ہوں، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے باقی ازواج کو اختیار دیا تو باقی ازواج نے بھی حضرت عائشہ کی طرح کہا۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٤٦٨ )
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک ماہ ازواج سے الگ رہنا حضرت حفصہ کے افشاء ِ راز کی وجہ سے تھا یا ازواج کے زیادہ خرچ مانگنے کی وجہ سے ؟
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بات سے ناراض ہوئے تھے کہ حضرت حفصہ نے آپ کے راز کی بات حضرت عائشہ کو بتادی تھی، اس لیے آپ نے ایک ماہ کے لیے ازواج سے علیحدگی اختیار کرلی تھی، اور الاحزاب : ٢٩، ٢٨ میں جو آیت تخییرنازل ہوئی ہے، اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ازواج مطہرات نے آپ سے زیادہ خرچ کا مطالبہ کیا تھا، اس پر ناراض ہو کر آپ نے ایک ماہ کے لیے ازواج سے علیحدگی اختیار کرلی، جیسا کہ اس حدیث میں ہے :
حضرت جابر بن عبد اللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر آئے، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آنے کی اجازت طلب کر رہے تھے، حضرت ابوبکر نے دیکھا کہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازے پے بیٹھے ہوئے ہیں اور کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، پھر حضرت ابوبکر (رض) کو اجازت دی گئی، پھر حضرت عمر آئے اور اجازت طلب کی، سو ان کو بھی اجازت دی گئی، انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے ہوئے ہیں اور آپ کے گرد آپ کی ازواج بیٹھی ہوئی ہیں اور آپ افسردہ اور خاموش بیٹھے ہوئے ہیں۔ حضرت عمر نے دل میں سوچا کہ میں ضرور کوئی بات کہہ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہنسائوں گا، میں نے کہا : یا رسول اللہ ! کاش ! آپ دیکھتے کہ بنت خارجہ مجھ سے نفقہ کا سوال کرے اور میں اس کی گردن مروڑ دوں، سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے اور فرمایا : ان کو جو تم میرے گرد بیٹھا ہوا دیکھ رہے ہو یہ مجھ سے نفقہ کا سوال کر رہی ہیں، پھر حضرت ابوبکر کھڑے ہو کر حضرت عائشہ کی گردن مروڑنے لگے، پھر حضرت عمر کھڑے ہو کر حضرت حفصہ کی گردن مروڑنے لگے اور وہ دونوں سے کہہ رہے تھے کہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس چیز کا سوال کر رہی ہو جو آپ کے پاس نہیں ہے، انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم آئندہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسی ایسی چیز کا سوال نہیں کریں گی جو آپ کے پاس نہ ہو، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ماہ یا انتیس دن اپنی ازواج سے الگ رہے، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل ہوئی : اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہیے : اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کو چاہتی ہو تو آئو ! میں تم کو دنیا کا مال دوں اور تم کو اچھائی کے ساتھ خصت کر دوں اور اگر تم اللہ کا ارادہ کرتی ہو اور اس کے رسول کا اور آخرت کے گھر کا تو بیشک اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے ( الاحزاب : ٢٩، ٢٨) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ (رض) سے ابتداء کی اور فرمایا : اے عائشہ ! میں تمہارے سامنے ایک چیز پیش کر رہا ہے، مجھے یہ پسند ہے کہ تم اس میں جلدی نہ کرو حتیٰ کہ تم اپنے والدین سے مشورہ کرلو، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی، حضرت عائشہ نے کہا : یا رسول اللہ ! کیا میں آپ کے متعلق اپنے والدین سے مشورہ کروں گی، بلکہ میں اللہ، اس کے رسول اور دار آخرت کو اختیار کرتی ہوں اور میں آپ سے یہ سوال کرتی ہوں کہ آپ اپنی ( باقی) ازواج کو میرے فیصلہ کے متعلق نہ بتائیں، آپ نے فرمایا : ان میں سے جس نے بھی اس کے متعلق سوال کیا میں اس کو بتادوں گا، بیشک اللہ نے مجھے دشوار بنا کر بھیجا نہ دشواری میں ڈالنے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن اللہ نے مجھے تعلیم دینے والا اور آسانی پیدا کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٧٨٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤٧٨، السنن الکبریٰ ، للنسائی رقم الحدیث : ٩٢٠٨، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣١٨، سنن النسائی رقم الحدیث : ٢١٣١، مسندر احمد رقم الحدیث : ٢٦٦٣٧، عالم الکتب)
علامہ بدر الدین محمود بن عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
اختیاردینےکے سبب میں بھی اختلاف ہے اور اس میں حسب ذیل اقوال ہیں :
١۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا کے ملک اور آخرت کی نعمتوں کے درمیان اختیار دیا تھا تو آپ نے دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو اختیار کرلیا تھا، سو اس نہج پر آپ کو حکم دیا کہ آپ اپنی ازواج کو اختیار دیں تاکہ آپ کی ازواج کا حال بھی آپ کی مثل ہو۔
٢۔ ازواج نے آپ کے اوپر غیرت کی تھی ( یعنی ان کو آپ کا دوسری ازواج کے پاس جانا گوارا نہ تھا) تو آپ نے ایک ماہ تک ان کے پاس نہ جانے کی قسم کھالی تھی۔
٣۔ ایک دن وہ سب ازواج آپ کے پاس جمع ہوئیں اور آپ سے اچھے کپڑے اور اچھے زیورات کا مطالبہ کیا۔
٤۔ ان میں سے ہر ایک نے ایسی چیز کا مطالبہ کیا جو آپ کے پاس نہیں تھی، حضرت جویرہ نے سر پر باندھنے کے کپڑے کا مطالبہ اور حضرت سودہ نے خیبر کی چادر کا مطالبہ کیا، البتہ حضرت عائشہ (رض) نے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔
(عمدۃ القاری ج ١٩ ص ١٦٧، ١٦٦ دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢١ ھ)
اس تفصیل سے اصل اشکال کا جواب نکل آیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات سے ناراضگی کے دو سبب تھے، ایک حضرت حفصہ کا آپ کے راز کو فارش کرنا اور دوسرا ازواج کا زیادہ خرچ کا مطالبہ کرنا اور ان دونوں سببوں سے آپ ایک ماہ تک ازواج مطہرات سے الگ رہے۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عتاب کا محمل
صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٤٦٨ میں ہے، جب اللہ نے آپ پر عتاب کیا تھا اس سے مراد صورۃ عتاب ہے حقیقۃً عتاب نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا تھا : آپ اس چیز کو کیوں حرام قرام دے رہے ہیں جس کو اللہ نے آپ کے لیے حلال فرما دیا ہے، اس سے آپ کی دل جوئی مقصود ہے اور آپ کو آپ کی پسندیدہ چیزوں کی طرف متوجہ کرنا مطلوب ہے اور یہ بتلانا کہ آپ ازواج کی خاطر کیوں اپنی پسندیدہ چیزوں کو چھوڑ رہے ہیں آپ کا یہ مقام نہیں ہے کہ آپ ازواج کو راضی کریں بلکہ ازواج کو چاہیے کہ وہ آپ کو راضی کریں، اسی طرح احادیث میں جہاں بھی یہ آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ نے آپ پر عتاب فرمایا اس سے مراد صورۃ عتاب ہے حقیقۃً عتاب نہیں ہے۔
جیسے حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم کا واقعہ، اس کی تفصیل انشاء اللہ سورة عبس میں آئے گی یا جیسے غزوہ تبوک میں منافقین کو اجازت دینے کا معاملہ اس کی تفسیر التوبہ : ٤٣ میں گزر چکی ہے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 66 التحريم آیت نمبر 5