Site icon اردو محفل

کتاب الصلوۃ  باب 55  حدیث نمبر 435-436

٥٥ – باب

باب

امام بخاری نے اس باب کا کوئی عنوان قائم نہیں کیا لہذا یہ باب بھی باب سابق کے ساتھ لاحق ہے۔

٤٣٦٠٤٣٥ – حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِي قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُاللهِ بن عبداللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَائِشَةَ وَعَبْدَاللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَال لما نَزَلَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، طَفِقَ يَطرح خمِيصَةٌ لَهُ عَلَى وَجْهِهِ ، فَإِذَا اعْتَمَّ بِهَا كَشَفَهَا عن وَجْهِهِ فَقَالَ وَهُوَ كَذلِكَ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيھود وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحذرما صنعوا [ اطراف الحدیث : ۱۳۳۰-۱۳۹۰ – ۳۴۵۳-۳۴۵۴-۵۸۱۶-۵۸۱۵-۴۴۴۴- 4443 – ۴۴۴۱

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابوالیمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے خبر دی از الزہری انہوں نے کہا: مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم پر مرض الموت نازل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے پر سیاه منقش چادر ڈالی پھر جب آپ کو اس چادر سے تنگی ہوئی تو آپ فرمایا  اس چادر کو چہرے سے ہٹایا پھر اسی حالت میں آپ نے فرمایا: یہود اور نصاری پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو جنہوں نے انبیا علیہم السلام کی قبروں کو مساجد بنا دیا’ آپ ان کے کیے ہوئے کاموں سے ڈرا رہے تھے۔

( صحیح مسلم :۵۳۱ الرقم المسلسل : 1168 سنن نسائی : ۷۰۳، السنن الكبرى للنسائی: 7090، مصنف عبدالرزاق : ۱۵۹۱۷ – ۹۷۵۴ – ۱۵۸۸ سنن بیہقج 4 ص ۸۰ دلائل النبویہ  ج 7 ص ۲۰۳ شرح السنة : 3825 خلق افعال العباد : ۴۶۹ کتاب الاسماء والصفات : ۲۰۴ – ۲۰۳ حلیة الاولیاء ج ۳ ص 143۔  مسند احمد ج ا س ۲۱۸ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۸۸۴ – ج ۳ ص 374،  مؤسسة الرسالة بیروت، جامع المسانید لابن الجوزی: ۷۴۱۸ مکتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ )

حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر نہیں ہے، پھر عیسائیوں کی اس بات پر کیوں مذمت کی گئی کہ اُنہوں نے اپنے نبی کی قبر کو سجدہ گاہ بنالیا ؟

حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ لکھتے ہیں: اس حدیث پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ یہود کے تو انبیاء تھے جب کہ عیسائیوں کے نبی صرف حضرت عیسی علیہ السلام ہیں اور حضرت عیسی اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے اور نہ ہی اُس کی قبر ہے تو پھر نصاری کا اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنانے سے کیا مراد ہوگا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں انبیاء اور اُن کے صالحین پیروکار مراد ہیں، کیونکہ صحیح مسلم میں اس طرح ہے کہ وہ اپنے انبیاء اور اپنے صالحین کی قبروں کو مساجد بنالیتے تھے۔ اسی وجہ سے اس سے پہلی حدیث(434) میں ارشاد ہے کہ: یہ وہ قوم ہے جب ان میں سے کوئی نیک بندہ یا نیک آدمی فوت ہوجاتا تھا تو اس کی قبر پر مسجد بنالیتے تھے اور اس پر بت بناکر رکھ دیتے تھے اور یہ اللہ کی بدترین مخلوق ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہود تو اپنے انبیاء کی قبروں پر اُن کے بت بناتے تھے

اور نصاریٰ اپنے صالحین کی قبروں پر اُن کے بت بنا لیتے تھے۔ اس بدعت کو یہود نے شروع کیا تھا اور نصاری نے اُن کی پیروی کی اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نصاری بھی اُن کثیر انبیاء کی تعظیم کرتے تھے جن کی یہود تعظیم کرتے تھے۔(فتح الباری ج ۲ ص 88 دار المعرفة بیروت 1426ھ)

علامہ قسطلانی متوفی 911ھ نے حافظ ابن حجر کے آخری جملہ سے یہ جواب مستنبط کیا ہے کہ حدیث میں جو مذکور ہے کہ یہودونصاری نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مساجد بنالیا تھا، اس سے وہ انبیاء مراد نہیں ہیں جو اُن کی طرف مبعوث ہوئے تھے بلکہ وہ دیگر انبیاء مراد ہیں، جن پر ان کو ایمان لانا ضروری تھا، جیسے حضرت نوح، حضرت ابراہیم اور دیگر انبیاء علیہم السلام۔ارشاد الساری ج ۲ ص ۱۰۸ دار الفکر بیروت (1421ھ)

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ تاریخ میں اس کا ثبوت نہیں ہے کہ یہودیوں نے کسی نبی کی قبر کی پرستش کی ہو، اس کا جواب یہ ہے کہ کتب تاریخ میں کسی واقعہ کے مذکور نہ ہونے سے اُس واقعہ کی نفی لازم نہیں آتی جب کہ ہمارے نزدیک کتب تاریخ کی بہ نسبت کتب احادیث معتبر ہیں۔

اس حدیث کی مزید شرح صحیح البخاری : ۴۲۷ میں گزر چکی ہے۔

Exit mobile version